فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 25590
(1047) تکبیراتِ عیدین تعداد؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 14 March 2018 01:59 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عیدین کی تکبیریں چھ ہیں یا بارہ۔ وضاحت فرمائیں؟ بارہ تکبیروں کے راوی کثیر بن عبد اﷲ کے متعلق بعض کہتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عید الفطر اور عید الأضحی کی نماز میں بارہ تکبیریں کہنا مسنون ہے۔ بیہقی میں ’’ابن وہب، عن ابن لھیعۃ، عن یزید، عن ابن شھاب، عن عروۃ‘‘ کے طریق سے حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا  سے مروی ہے، کہ رسول اﷲﷺ عیدین میں بارہ تکبریں کہا کرتے تھے۔ السنن الکبریٰ للبیهقی،بَابُ التَّکبِیرِ فِی صَلَاةِ العِیدَین ،رقم:۶۱۷۴" یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ ابن وہب کا سماع ابن لہیعہ سے کتابیں جلنے سے قبل ہے۔ ملاحظہ ہو! ’’إرواء الغلیل‘‘ (۳/۱۰۷۔۱۰۸)

حدیث ہذا حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا  سے دیگر طُرق سے بھی مروی ہے۔ اس حدیث کے راویوں میں سے عبد اﷲ بن عمرو، ابن عمر، جابر ،ابو واقد اور عمرو بن عوف مزنی   رضی اللہ عنہم   بھی ہیں۔ ان کے طُرق جید ہیں۔

جملہ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو! ’’إرواء الغلیل‘‘ (۳/۱۰۷تا۱۱۲)

اور جہاں تک تعلق ہے راوی ’’کثیر بن عبد اﷲ‘‘ کا، یہ واقعی ضعیف ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ  نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: اہلِ علم کی ایک جماعت نے ترمذی کی تحسین کا انکار کیا ہے، کیونکہ کثیر بن عبد اﷲ سخت ضعیف ہے، حتی کہ امام شافعی رحمہ اللہ  نے فرمایا:

’هُوَ رُکنٌ مِّن أَرکَانِ الکَذِب ‘تلخیص الحبیر: ۲/۸۴

لیکن اس حدیث کو جو قابلِ حجت اور صحیح قرار دیا گیا ہے، وہ دیگر طُرق و روایات کے اعتبار سے ہے۔

لہٰذا اصل مسئلہ بلا تردّد (یعنی بغیر شک کے) ثابت ہے۔ نیز ’’کثیر بن عبداﷲ‘‘ اور امام ترمذی رحمہ اللہ  کی تصحیح اور تحسین پر طویل ترین ناقدانہ بحث کے لیے ملاحظہ ہو! توضیح الأفکار لمعانی تنقیح الانظار للصنعانی (۱/۱۶۹۔۱۸۰)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:834

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)