فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 25588
(1045) عید الفطر اور حکومتی اعلان
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 14 March 2018 01:53 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ماہنامہ’’محدث‘‘لاہور کا مستقل اور دیرینہ قاری ہوں۔ ماہنامہ محدث میں جو فتاویٰ شائع ہوتے رہتے ہیں، ان پر خود بھی یقین رکھتا ہوں اور میرے ساتھ دوسرے مدرّسین ساتھی اور گاوں کے دیگر لوگ بھی ماہنامہ محدث کے فتاویٰ کو کافی و شافی سمجھتے ہیں__ اِمسال عیدالفطر کے بارے میں شدید اختلافات کا سامنا کرنا پڑا، اس لئے کہ یہی عید ہمارے اکثر اہل حدیث بزرگ جو کہ صوبہ سرحد میں مانے ہوئے شیخ القرآن والحدیث ہیں، نے بھی مقامی (پشاور) کمیٹیوں کی شہادتوں پر عیدالفطر بروز جمعرات مورخہ۳نومبر ۲۰۰۵ء کو منائی جبکہ ہم نے اگلے روز بروز جمعہ بتاریخ۴نومبر کو عیدمنائی، حالانکہ ہمارے ہاں وادی پشاور میں بدھ کی شام مورخ ۲نومبر کو آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے مگر جمعرات کی رات ۱۱بجے عید کا اعلان کیا گیا۔ اس کے برعکس جمعرات کی شام آسمان بالکل صاف تھا۔ کوشش کے باوجود (دو دن کا چاند) گاوں والے اور نزدیکی علاقے کے لوگوں نے نہ دیکھا، جمعہ کی شام سات بجے ریڈیو پر اعلان کیا گیا کہ کراچی میں چاند نظر آگیا ہے اور یوں بندہ نے کچھ دیگر ساتھیوں(حنفی، اہل حدیث) کے ہمراہ اگلے روز بروز جمعہ مورخہ 4نومبر کو عیدمنائی۔اس سلسلہ میں چند سوالات کے جوابات درکار ہیں:

۱۔         جمعرات مورخہ۳نومبر کو عیدالفطر منانا مقامی کمیٹیوں کے اعلان کے مطابق درست تھا؟

۲۔        بروز جمعہ مورخہ۴نومبر کو رویت ِہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق عیدالفطر درست تھی؟

۳۔        اگر جمعرات کے روز عید غلط تھی تو اسی دن کے روزے کی قضا واجب ہوگی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بالا صورت میں رویت ِہلال کے سلسلہ میں حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کے اعلان پر اعتماد کرنا چاہئے کیونکہ ان کے ہاں ذرائع ِرویت بآسانی میسر ہیں جو دیگر لوگوں کی استطاعت میں نہیں۔ جنہوں نے جمعرات کے روز عید کی، اُنہیں آئندہ احتیاط کرنی چاہئے،کیونکہ اگر ایک یا زیادہ مسلمان خود چاند دیکھ بھی لیں تو وہ اکیلے عید نہیں کر سکتے صرف خفیہ طورپر روزہ چھوڑ سکتے ہیں،کیونکہ عید کی عبادت مسلمانوں کی اجتماعی شان وشوکت کا اظہار ہے، لہٰذا سب کو ایک ہی دن عید کرنی چاہیے۔

نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:’’عید کا دن وہ ہے جس دن تمام مسلمان عید کریں۔‘‘  لیکن اگر کچھ لوگوں نے کسی کی اطلاع پر روزہ چھوڑ دیا اور عید کر لی تو ان کا یہ عمل خلافِ سنت ہوگا اور چھوڑے ہوئے روزے کی قضا ضروری ہو گی۔ تاہم قضا واجب نہیں کیونکہ اجتہادی تساہل ہے۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:831

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)