فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2558
(230) مسجد میں ساز گھنٹی والی گھڑی لگانا
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 02:50 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسجد میں ایسی گھڑی لگانا جس کی آواز پورے گاؤں میں آتی ہو جائز ہے یا ناجائز ہے؟

____________________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 گھنٹی یا ساز والی گھڑی لگانا درست نہیں کیونکہ ساز حرام ہے اور گھنٹی ممنوع ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: « لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِکَة رُفْقَة فِیْھَا کَلْبٌ اَوْجَرَسٌ»
[’’فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں کوئی کتا یا گھنٹی ہو۔‘‘ (صحیح مسلم،کتاب اللباس والزینة،باب کراهة الکلب والجرس فی السفر)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
گھنٹی(یا گھنکرو وغیرہ) شیطان کے باجے ہیں۔ (صحیح مسلم؍حوالہ سابقہ)

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)