فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2557
(180) تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد کا حکم
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 02:49 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی نمازِ فجر کی سنتیں گھر میں ادا کرتا ہے ، پھر وہ مسجد میں چلاجاتا ہے ، اور دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کرتا ہے اس کے بعد اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے ، پھر وہ وضو کرتا ہے تو ابھی فجر کی جماعت کھڑی ہونے میں کچھ وقت باقی ہے ، کیا وہ اس وقت میں دو رکعت تحیۃ الوضو ادا کر سکتا ہے؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تحیۃ الوضوء اور تحیۃ المسجد دونوں نمازیں مستقل نہیں ہیں ، دوسری کسی فرض یا غیر فرض نماز کے ضمن میں بھی ادا ہو جاتی ہیں مثلاً آپ کی ذکر کردہ صورت میں جب وہ فجر کے فرض ادا کرے گا تو اس میں تحیۃ الوضوء اور تحیۃ المسجد دونوں نمازیں بھی ادا ہو جائیں گی ۔ بسا اوقات آدمی رکعات صرف دو پڑھتا ہے مگر وہ چار نمازوں کا کام دے جاتی ہیں مثلاً ایک شخص مسجد میں پہنچا فجر کی اذان ہو رہی ہے اس نے وضو بنایا ، پھر فجر کی دو سنتیں ادا کی ہیں اس کے بعد دعائے استخارہ پڑھ لی ہے تو اس شخص نے دو رکعت سنت فجر ادا کی مگر اس کے ضمن میں تین نمازیں اور ادا ہو گئی ہیں ایک تحیۃ الوضوء ، دوسری تحیۃ المسجد اور تیسری صلاۃِ استخارہ۔تو اس طرح یہ دو رکعات چار نمازوں کا کام دے رہی ہیں۔

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)