فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2552
(175) مقیم آدمی کا ضروری کام کی وجہ سے دو نمازوں کا جمع کرنا اور اسی طرح بیمار آدمی کا بھی
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 02:43 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا مقیم آدمی کسی ضروری کام کی وجہ سے بعد والی نماز پہلے ادا کر سکتا ہے ؟ آدمی کو علم ہے کہ مجھے اس کام میں کافی وقت لگے گا اور نمازوں کو جمع کر لے۔
 ۲…کیا بیمار آدمی نماز کو جمع کر سکتا ہے؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مقیم آدمی بسا اوقات جمع صوری کر سکتا ہے ۔ مقیم آدمی کے لیے جمع تقدیم و جمع تاخیر دونوں کتاب و سنت سے ثابت نہیں۔ ہاں مسافر کے لیے جمع تقدیم و جمع تاخیر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔
    ۲…بیماری یا بارش کی وجہ سے جمع تقدیم اور جمع تاخیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ رہی جمع صوری تو وہ بغیر عذر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں بغیر کسی خوف اور بارش کے ظہر اور عصر(اسی طرح) مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسا کرنے کا مقصد کیا تھا تو انہوں نے فرمایا تاکہ آپ اُمت کو حرج اور تکلیف میں نہ ڈالیں۔  (مسلم،کتاب صلاة المسافرین و قصرھا ،باب جواز جمع بین الصلوٰتین فی الحضر ، ترمذی،کتاب الصلوٰة، باب ما جاء فی الجمع بین الصلوتین فی الحضر)
عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بصرہ میں عصر کے بعد ہمیں خطبہ دینا شروع کیا ، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے چمکنے لگے کسی نے کہا کہ نماز(مغرب) کا وقت ہو چکا ہے ، آپ نے فرمایا مجھے سنت نہ سکھاؤ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر اور عصر ، مغرب اور عشاء ملا کر پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ مجھے شبہ پیدا ہوا ،میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ  سے دریافت کیا تو انہوں نے ان کی تصدیق کی۔
یعنی کہ نا گزیر قسم کے حالات میں حالت اقامت میں بھی دو نمازیں جمع کر کے پڑھی جا سکتی ہیں تاہم شدید ضرورت کے بغیر ایسا کرنا جائز نہیں ہے جیسے کاروباری لوگوں کا عام معمول ہے کہ وہ سستی یا کاروباری مصروفیت کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کر لیتے ہیں یہ صحیح نہیں۔ بلکہ سخت گناہ ہے ہر نماز کو اس کے وقت پر ہی پڑھنا ضُروری ہے سوائے نا گزیر حالات کے۔
نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم بارش کے موقع پر مؤذن کو فرماتے کہ وہ کہے«اَلَا صَلُّوْا فِیْ رِحَالِکُمْ » ’’خبردار! گھروں میں نماز پڑھو۔‘‘ (ابو داؤد،کتاب الصلاة، باب التخلف عن الجماعة فی اللیلة الباردة)

 

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)