فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2546
اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں رکھنا
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 02:37 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اذان کہتے وقت کانوں میں اُنگلیاں رکھی جاتی ہیں کیا ہاتھ کھلے چھوڑ کر بھی اذان کہی جا سکتی ہے یا نہیں؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وہ روایت جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلال رضی اللہ عنہ کو کانوں میں اُنگلیاں رکھنے کا حکم و امر کا ذکر ہے ضعیف ہے البتہ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کی راویت :
 رَأَیْتُ بِلَا لًا یُوْذِّنُ وَیَدُوْرُ ، وَیُتْبِعُ فَاہُ ھٰھُنَا وَھٰھُنَا وَ اِصبَعَاہُ فِی أُذُنَیْه وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم فِیْ قُبَّة لَّه حَمْرَآء حدیث صحیح ہے ۔ مسند احمد اور ترمذی میں موجود ہے۔
میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ اذان کہتے اور پھرتے اور اپنے منہ کو دائیں اور بائیں موڑتے اور آپ کی اُنگلیاں آپ کے کانوں میں تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سرخ خیمہ میں تھے۔ (جامع الترمذي،ابواب الصلاة،باب ما جاء فی ادخال الاصبع الأذن عند الأذان)

 

فتاوی احکام ومسائل

کتاب الصلاۃ ج 2 ص 169

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)