فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2545
تہجد کی اذان ثابت ہے یا نہیں
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 02:36 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تہجد کی اذان ثابت ہے یا نہیں؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں فجر کی دو اذانیں ہوتی تھیں ، ایک طلوعِ فجر سے پہلے اور دوسری طلوع فجر کے بعد چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ الباری نے اپنی کتاب ’الجامع الصحیح‘ میں دو ہی باب باندھے ہیں۔ پہلا باب ہے  بَابُ الْاَذَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ  اور دوسرا باب ہے ۔ بَابُ الْاَذَانِ بَعْدَ الْفَجْرِ  اور دوہی حدیثیں بھی ذکر فرمائی ہیں پہلی حدیث ہے:
 عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ  رضي الله عنه عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ : «لَا یَمْنَعَنَّ اَحَدَکُمْ اَوْ اَحَدًا مِّنْکُمْ۔ اَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُوْرِہٖ فَإِنَّہُ یُؤَذِّنُ اَوْ یُنَادِیْ بِلَیْلٍ لِیَرْجِعَ قَائِمَکُمْ ، وَلِیُنَبِّہَ نَائِمکُمْ… الخ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بلال رضی الله عنہ کی اذان سن کر سحری کھانا ترک نہ کرے کیونکہ وہ رات کو اذان کہہ دیتا ہے تاکہ تہجد پڑھنے والا(آرام کے لیے ) لوٹ جائے اورجو ابھی سویا ہوا ہے اسے بیدار کر دے۔
اور دوسری حدیث ہے:
 عَنْ عَائِشَة وَابْنِ عُمَرَ  رضي الله عنهما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ  ﷺ قَالَ : اِنَّ بِلَالًا یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یُؤَذِّنَ ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رات کو اذان دیتے ہیں اس لیے تم (روزہ کے لیے ) کھاتے پیتے رہو تاآنکہ ابن مکتوم  رضی اللہ عنہ اذان دیں۔
نوٹ:… رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد رسالت سے ہی سحری کی اذان کہنے کا دستور چلا آرہا ہے۔ جو لوگ اس اذان اول کی مخالفت کرتے ہیں ان کا مؤقف صحیح نہیں ہے ۔ البتہ اسے اذانِ تہجد نہیں خیال کرنا چاہیے کیونکہ اس کا مقصد یوں بیان ہوا ہے کہ تہجد گزار گھر واپس چلا جائے اور سونے والا بیدار ہو کر نماز کی تیاری کر لے اور نہ ہی اسے اذانِ فجر سے بہت پہلے کہنا چاہیے۔

فتاوی احکام ومسائل

کتاب الصلاۃ ج 2 ص 170

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)