فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2544
(167) تہجد کی اذان کا حکم
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 02:36 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فجر کی اذان سے پہلے جو اذان پڑھی جاتی ہے کیا یہ سارا سال پڑھنی چاہیے اور فجر کی اذان سے کتنی دیر پہلے پڑھنی چاہیے اور اس اذان کا مقصد کیا ہے؟ ہمارے ہاں اس مسئلہ پر تین گروہ ہیں:
۱…یہ صرف رمضان المبارک کے مہینے میں اذان پڑھتے ہیں اور فجر کی اذان سے تقریباً ڈھائی گھنٹے پہلے اذان پڑھتے ہیں جب ان سے کہا جائے کہ فجر کی اذان سے اتنی دیر پہلے یہ اذان پڑھنا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے ثابت نہیں تو کہتے ہیں کہ ہم یہ اذان اس لیے پڑھتے ہیں کہ یہ لوگ اُٹھ کر سحری کے لیے کھانا تیار کر لیں۔
۲…یہ سارا سال اذان پڑھتے رہتے ہیں اور فجر کی اذن سے تقریباً پون گھنٹہ (۴۵منٹ) پہلے پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں اس اذان کا مقصد ہے جو لوگ قیام کر رہے ہیں ان کو لوٹایا جائے اور جو سو رہے ہیں ان کو جگایا جائے تاکہ فجر کی نماز کی تیاری کر سکیں۔
۳… یہ کہتے ہیں کہ ۴۵ منٹ کا وقفہ بھی زیادہ ہے صرف اتنا وقفہ ہونا چاہیے کہ ایک مؤذن اذان پوری کر لے تو دوسرا مؤذن اذان شروع کر دے اور استدلال کرتے ہیں بخاری کی اس روایت سے ’’قاسم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا بلال اور ابن ام مکتوم  رضی اللہ عنہما دونوں کی اذان میں اتنا ہی فرق ہوتا کہ ایک اترتا اور دوسرا چڑھتا۔
    ان تینوں گروہوں میں سے حق پر کون ہے؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس اذان کے رمضان کے ساتھ مخصوص ہونے کی کوئی دلیل نہیں ، یہ رات والی اذان فجر کی اذان سے تھوڑی دیر پہلے کہی جاتی تھی۔ منٹوں ، گھنٹوں میں اس وقفے کی تعیین کہیں وارد نہیں ہوئی۔ اس اذان کا مقصد ہے قیام کرنے والوں کو لوٹایا جائے اور سوئے ہووؤں کو جگایا جائے۔ (بخاري،کتاب الاذان)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)