فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2542
وقت سے پہلے اذان دینا اور جو نمازوں کے دائمی اوقات والہ نقشہ ہے اس کو بدعت کہنا
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 02:34 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہماری مسجد میں اوقات نماز کا نقشہ جو حافظ محمد گوندلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ترتیب دیا ہے آویزاں ہے ، مؤذن اسی نقشہ سے ٹائم دیکھ کر اذان کہتا ہے ، فجر کی اذان فجر طلوع سے دس منٹ پہلے کہتا ہے ، جب اسے کہا گیا کہ آپ جو اوقات نماز کے نقشے پر طلوع فجر ہے اس سے پہلے ہی اذان کہہ دیتے ہیں تو کہتا ہے یہ نقشہ تو  بدعت ہے۔ کیا جان بوجھ کر طلوع فجر سے دس منٹ پہلے فجر کی اذان کہنا صحیح ہے؟ نیز حافظ محمد گوندلوی رحمۃ اللہ علیہ نے جو اوقات نماز کا نقشہ ترتیب دیا ہے کیا اس پر طلوع فجر کا وقت صحیح درج ہے یا اس سے پہلے ہی طلوع فجر ہو جاتی ہے؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

فجر کی اذان ہو یا ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور جمعہ کی۔ وقت سے پہلے نہیں کہہ سکتے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا (النساء:۱۰۳)

’’بلا شبہ مومنوں پر نماز اس کے مقررہ اوقات کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔‘‘

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث و سنت میں پانچوں نمازوں کے اوقات کی ابتداء اور انتہا کو متعین فرمایا ہے تو اگر وقت سے پہلے اذان کہنا درست ہو تو اوقات کی ابتداء متعین کرنے سے فائدہ؟ حافظ صاحب محدث گوندلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے تیار کردہ نقشہ میں اوقات نماز درست ہیں۔  

فتاوی احکام ومسائل

کتاب الصلاۃ ج 2 ص 171۔172

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)