فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2540
(212) وقت سے پہلے اذان دینا
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 02:32 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نقشہ اوقات نماز جو حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ کا تحریر کردہ ہے اس میں صبح صادق کا ٹائم ساڑھے چار ہے اور بندہ صبح کی اذان چار بج کر پچیس منٹ پر یعنی پانچ منٹ قبل دیتا ہے روزانہ ہی ایسا کرتا ہے اس میں کوئی حرج ہے یا زیادہ گناہ ہے یا کہ کوئی گناہ نہیں؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اذان فجر کی ہو یا کسی اور نماز کی قبل از وقت نہیں کہی جا سکتی۔ پھر فجر و مغرب کی اذانوں میں تو زیادہ پابندی کی ضرورت ہے کیونکہ کسی نے روزہ رکھنااور کسی نے روزہ کھولنا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَكُلُوا وَاشْرَ‌بُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ‌ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ۚ... ﴾ الآية    (البقرہ:۱۸۷)
’’اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ واضح ہو جائے سفید دھاگہ سیا ہ دھاگے سے فجر کے وقت پھر رات تک اپنے روزے کو پورا کرو۔‘‘

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)