فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2534
(157) سترہ کی قید صرف صحرا میں ہے یا مسجد میں بھی
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 02:26 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نمازی سترہ مسجد میں رکھے یا یہ قید صرف صحرا میں ہے ؟ ایک عالم دین سے سنا ہے (یہ بھی بخاری شریف پڑھاتے ہیں)کہ سترہ مسجد کے اندر رکھنے کی ضرورت نہیں ۔ قرآن و حدیث میں کوئی دلیل نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں سترہ رکھا ہو تمام حدیثیں بغیر مسجد کے ہیں؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسجد میں دیوار اور ستون سترہ کا کام دے جاتے ہیں۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم دیوار کے قریب ہو کر نماز پڑھتے۔(یزید بن ابی عبید نے بیان کیا کہا کہ میں سلمہ بن اکوع  رضی اللہ عنہ کے ساتھ (مسجد نبوی میں) حاضر ہوا کرتا تھا۔ سلمہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اس ستون کو سامنے رکھ کر نماز پڑھتے جہاں قرآن شریف رکھا رہتا تھا۔ میں نے ان سے کہا : اے ابو مسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا  آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاص طور پر اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔)

صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کے متعلق آتا ہے:« یَبْتَدِرُوْنَ السَّوَارِیَ »

(انس بن مالک سے ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے صحابہ کو دیکھا کہ وہ مغرب ( کی اذان) کے وقت ستونوں کی طرف لپکتے ۔) (صحيح بخاري، كتاب الصلاة، باب الصلاة إلى الاسطوانه)

پھر غور فرمائیں صحراء ، بیوت اور مساجد وغیرہ میں نمازی کے آگے سے گزرنے والے گناہ سے بچنے کا طریقہ گزرنے کی صورت میں کیا ہے؟ بات کی سمجھ آ جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)