فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2529
تکبیر تحریمہ فرض واجب یا سنت ہے؟
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 01:57 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تکبیر تحریمہ فرض ، واجب یا سنت ہے؟ کیا فرض واجب یا سنت کی قید و تعریف میں کوئی حدیث یا آیت وارد ہوئی ہے ، اگر ہوئی ہے تو درج فرمائیں ورنہ یہ قیدیں کیسی ہیں؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کہا کرتے تھے۔

’’ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے نماز کی پہلی تکبیر کہی اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اُٹھائے۔‘‘ (! بخاری،الاذان،باب الی این یرفع یدیہ)

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «تَحْرِیْمُھَا التَّکْبِیْرُ ، وَتَحْلِیْلُھَا التَّسْلِیْمُ »

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی تحریم (دنیاوی اُمور کو حرام کرنے والی) تکبیر (اللہ اکبر کہنا) ہے اور اس کی تحلیل (دنیاوی اُمور کو حلال کرنے والی ) تسلیم (نماز سے سلام پھیرنا ) ہے۔‘‘ (ابو داؤد،کتاب الطہارة، باب فرض الوضوء،ابن ماجه،کتاب الطہارة،باب مفتاح الصلاة، ترمذی،ابواب الصلاة، باب ما جاء فی تحریم الصلاة و تحلیلھا ) 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیئی الصلاۃ کو تکبیر تحریمہ کہنے کا حکم دیا تھا۔ [ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے کونے میں تشریف فرما تھے ، اس شخص نے نماز پڑھی (اور رکوع ، سجود ، قومے اور جلسے کی رعایت نہ کی اور جلدی جلدی نماز پڑھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا ، آپ نے فرمایا:’’ وعلیکم السلام واپس جا پھر نماز پڑھ ، اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۔‘‘ وہ گیا ،پھر نماز پڑھی( جس طرح پہلے بے قاعدہ پڑھی تھی) پھر آیا اور سلام کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: وعلیکم السلام جا پھر نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اس شخص نے تیسری یا چوتھی بار( بے قاعدہ ) نماز پڑھنے کے بعد کہا کہ آپ مجھے سکھا دیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز کے ارادے سے اُٹھے تو پہلے خوب اچھی طرح وضو کر ، پھر قبلہ رُخ کھڑا ہو کر تکبیر تحریمہ کہہ ، پھر قرآن مجید میں سے جو تیرے لیے آسان ہو پڑھ ، پھر رکوع کر یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کر ، پھر سر اُٹھا یہاں تک کہ سیدھا کھڑا ہو جا ، پھر سجدہ کر یہاں تک کہ اطمینان سے اپنا سر اُٹھا اور بیٹھ جا ، پھر سجدہ کر یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر ، پھر اپنا سر اُٹھا اور سیدھا کھڑا ہو جا ، پھر اس طرح اپنی نماز پوری کر۔ (بخاری، الأذان، باب أمر النبي صلى الله عليه وسلم الذی لا یتم رکوعه بالإعادة،  مسلم، الصلاة،  باب وجوب قراءة الفاتحة فی کل رکعة)

اس مضمون کی مزید احادیث فتح الباری اور تحفۃ الأحوذی میں دیکھ سکتے ہیں۔فرض ، واجب اور سنت کی تعریف میں کوئی آیت یا حدیث مجھے نہیں ملی۔

فتاوی احکام ومسائل

کتاب الصلاۃ ج 2 ص 178۔179

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)