فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2528
(151) تعوذ و بسم اللہ کو سراً پڑھںا
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 01:56 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تعوذ و بسم اللہ کو با آواز بلند نہ پڑھنے سے نماز میں کوئی خلل واقع ہو گا یا نہیں؟ کتاب و سنت سے واضح فرمائیں۔


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نہیں! کوئی خلل واقع نہیں ہو گا کیونکہ تعوذ کا نماز میں جہراً پڑھنا تو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہی نہیں اور بسملہ کے متعلق دونوں قسم کی احادیث ملتی ہیں سراً پڑھنے والی بھی اور جہراً پڑھنے والی بھی۔ تفصیل کے لیے  تحفۃ الأحوذی اور مرعاۃ المفاتیح کا مطالعہ فرمائیں۔
انس  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ، وہ بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھتے تھے۔  (مسلم،الصلاة، باب حجۃ من قال لا یجھر بالبسملۃ)
نعیم مجمر نے ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ، وہ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی ، پھر سورۂ فاتحہ پڑھی۔ (یعنی جہر سے )  (نسائی؍ابن خزیمہ ؍ بحوالہ بلوغ المرام)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)