فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2527
(150) جہری نمازوں میں افتتاحی دعا کو سرا پڑھںا
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 01:55 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

امام و مقتدی کا جہری نمازوں میں سبحانك اللھم یا اس کے علاوہ افتتاحی دعا کو سراً پڑھنا کس حدیث سے ثابت ہے؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ذکر کے متعلق اصول قرآن مجید میں سورۃ الأعراف آیت ۲۰۵ میں ہے اور دعاء کے متعلق وہی ذکر والا اصول ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ادْعُوا رَ‌بَّكُمْ تَضَرُّ‌عًا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ [الأعراف:۵۵]
 ’’اپنے پروردگار کو گڑ گڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے پکارو یقینا وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
ہاں جن ادعیہ کا جہر کتاب و سنت سے ثابت ہے وہ جہراً ہی ہوں گی۔               

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)