فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2506
(129) کیا بچے کی پیدائش پر چالیس دن پورے کرنا ضروری ہیں ؟
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 10:50 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بچے کی پیدائش پر چالیس دن پورے کرنے ضروری ہیں یا پہلے بھی اگر عورت ٹھیک ہو جائے تو نماز روزہ شروع کر دے ، ایسا کرنا جائز ہے؟ بعض خواتین کو دیکھا گیا ہے کہ وہ نماز تو نہیں پڑھتیں مگر روزے رکھتی ہیں ، تو کیا چالیس دن پورے کرنے کے بعد ہی عبادت شروع کی جائے؟

__________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 جب خون بند ہو جائے غسل کر کے نماز پڑھی جائے خواہ دوسرے دن ہی بند ہو جائے۔ اگر نفاس کا خون بند نہیں ہوتا تو حدیث میں چالیس دن آئے ہیں۔

ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نفاس والی عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چالیس (۴۰)دن بیٹھا کرتی تھیں۔(نمازو غیرہ نہیں پڑھتی تھیں) ( ابو داؤد، الطہارة، باب ما جاء فی وقت النفساء، ترمذی، الطہارة،باب ما جاء فی کم تمکت النفساء، ابن ماجه،الطہارة، باب النفساء کم تجلس) اس کے بعد غسل کر کے نماز پڑھی جائے خواہ خون بند نہ ہو۔ تو ایسی صورت میں نفاس والی کا حکم استحاضہ والی کا حکم ہے ۔  جس میں عورت ہر نماز کے لیے وضو کرتی ہے۔ واللہ اعلم                   

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)