فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2505
(177) وضو یا غسل کرتے وقت وہم میں مبتلا ہونا
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 10:45 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے ساتھ کچھ عرصہ سے یہ مسئلہ در پیش ہے کہ وضو اور غسل کے دوران یا بعد میں مجھے یاد نہیں رہتا کہ میں نے یہ عضو دھویا تھا کہ نہیں۔ وضو دہرانے سے میری کیفیت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ وضو اور غسل جنابت میں ایسی حالت میں میرے لیے کیا حکم ہے؟
2…غسل جنابت میں ایک عضو کو دھو لیا ہے اس کے بعد دوسرے اعضاء کو دھوتے ہوئے اگر پہلا عضو خشک ہو جائے تو کیا کوئی حرج ہے؟
3…سر پر تین اوک پانی ڈالنے کے بعد کیا غسل میں دوبارہ سر کو دھونا ضروری ہے؟
4… جمعہ کے دن غسل میں صرف جسم پر سیدھا پانی بہا لینا کافی ہے یا شریعت میں کوئی مخصوص طریقہ سے غسل ہے۔ اگر جمعہ کے غسل میں کوئی عضو خشک رہ جائے تو کیا کوئی حرج ہے؟

_____________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی حکیم و طبیب سے مقوی دماغ دوا پوچھ لیں اور استعمال کریں ۔ کوشش کریں کہ وہم قریب نہ آنے پائے۔
2… غسل کے منافی ہے۔
3… اگر اچھی طرح تر کر لیا ہے کوئی حصہ خشک نہیں رہا تو دوبارہ سر دھونا ضروری نہیں۔
4… جمعہ کا غسل جنابت کے غسل کی طرح ہے ۔ بدن کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو غسل نہیں۔ واللہ اعلم
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جمعے والے دن غسل جنابت کی طرح غسل کیا ، پھر پہلی گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کیا ، اور جو اس کے بعد والی گھڑی میں گیا تو اس نے گویا ایک گائے قربان کی اور جو تیسری گھڑی میں گیا تو اس نے گویا سینگوں والا مینڈھا قربان کیا اور جو چوتھی گھڑی میں گیا تو اس نے گویا مرغی کا صدقہ کیا اور جو پانچویں گھڑی میں گیا تو اس نے گویا ایک انڈہ اللہ کی راہ میں صدقہ کیا ، پس جب امام نکل آئے تو فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور ذکر سنتے ہیں۔(صحیح بخاري، كتاب الجمعة، باب فضل الجمعة، صحيح مسلم، كتاب الجمعة، باب الطيب والسواط يوم الجمعة)

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)