فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2502
(125) لا علمی کی وجہ سے غسل کا رکن رہ جانا
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 10:33 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی کو غسل جنابت کے ایک رکن کاپتہ نہ تھا ، اس نے اپنے طریقے سے غسل کیا اور لاعلم رہا ، تھوڑی دیر بعد اسے مسئلہ معلوم ہو گیا ۔ کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ غسل دھرائے یا لا علمی کی وجہ سے معاف ہے؟
_______________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

لا علمی کی وجہ سے معاف ہے آیندہ ایسا نہ کریں۔دلیل ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی پلید جوتوں میں لا علمی کی صورت میں نماز پڑھنے والی مرفوع حدیث ۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ نے اپنے جوتوں کو اُتارا اور بائیں طرف رکھ دیا ۔ پس جب لوگوں نے بھی دیکھا تو انہوں نے بھی جوتے اُتار دیے ، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو مکمل کیا تو فرمایا’’ تمہیں کس چیز نے جوتے اُتارنے پر اُبھارا ؟‘‘ انہوں نے کہا: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے اپنے جوتے اُتار دیے تو ہم نے بھی اُتار دیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بے شک جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور خبر دی بے شک ان دونوں جوتوں میں نجاست ہے اور فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے پس وہ دیکھ لے اگر وہ اپنے جوتوں میں نجاست دیکھے یا گندگی تو اسے رگڑکر صاف کر لے اور ان میں نماز پڑھ لے۔ (سنن ابي داؤد، كتاب الصلاة، باب الصلاة في النعل)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)