فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2494
(117) مسجد میں بیٹھ کر تاش کھیلنا
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 08:14 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 چار آدمی مسجد کے پاس بیٹھ کر تاش کھیلتے تھے۔ ایک پرہیز گار متقی نے انہیں منع کیا کہ یہاں مت کھیلو، انہوں نے جواب دیا یہ تو مسجد نہیں، جاؤ تمہارا اس میں کام نہیں، مسجد کے متولی نے بھی کھلاڑیوں کی تائید کی، درانحالیکہ وہ جگہ متصل مسجد ہے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ متولی از وارث وقف کنندہ مرحوم متولی ہے، کی یہ سب کھلاڑی اور متولی مجرم ہیں؟

_____________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تاش، جوا وغیرہ ہر جگہ منع ہے، مسجد کے پاس ہو یا دور، کھیلنے والوں کی تائید کرنا بھی گناہ ہے۔ (فتاویٰ ثنائیہ ص۲۷۷ جلد دوم)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 94۔95
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)