فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2484
(107) امام مسجد موحد ہے اور مسجد میں حاضرات (جنوں کو حاضر کرنا) وغیرہ کرتا ہے اس بارے حکم
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 08:03 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید موحد اہل حدیث ہے۔ عمر رسیدہ بڑے بڑے علماء کا صحبت یافتہ ہے اور مسجد اہل حدیث میں امامت بھی کرتا ہے لیکن یہ پیشہ اختیار کر رکھا ہے کہ مسجد میں حاضرات کرتا ہے۔ یعنی ایک بچہ کو غسل کرا کر معطر کرتا ہے پھر آیتہ الکرسی اور سورۃ یٰسین پڑھتا ہے، بچہ کو بٹھا کر اس کے ہاتھ میں نقش دیتا ہے، بچہ سے کہا جاتا ہے کہ جنوں کے بادشاہ کو بلاؤ، چنانچہ جنوں کا بادشاہ آتا ہے۔ اور بچہ اس سے کچھ سوالات دریافت کرتا ہے۔ اسی حاضرات سے چوری بتاتا ہے۔ کسی کو سارق قرار دیتا ہے۔ اسی ذیل میں وفائن گذشتہ باتیں بتاتا ہے۔ تعویذ، گنڈے، فلیتے وغیرہ وغیرہ بھی کرتا ہے۔ حاضرات کی فیس ایک روپیہ پانچ آنہ لیتا ہے ایک روپیہ تو خود لیتا ہے۔ چار آنے مسجد میں دیتا ہے۔ پانچ پیسے بچہ کو دیتا ہے۔ کیا ایسے افعال موحدین اہل حدیث کے نزدیک جائز ہیں، کیا یہ پیسہ مصارف مسجد میں خرچ کرنا جائز ہے؟ کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔ بلکہ بکر کہتا ہے کہ یہ افعال شرک ہیں، اس لیے قرآن و حدیث سے ہونا چاہیے؟

_________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حضرات یہ یہ عمل جس کو زید چوری بتانے اور چور کا پتہ لگانے، دفائن اور گذشتہ  باتیں یا آئندہ واقعات بتانے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں قطعاً ناجائز ہیں زید اس عمل کی وجہ سے عاصی اور گناہ گار… مخالف قرآن و حدیث ا ور مستحق تادیب و تعزیر ہے۔
(۱)اس لیے کہ یہ طریق از قسم کہانت ہے۔ جو نام ہے آئندہ ہونے والے واقعات کے بتانیاور امور عینیہ کا پتہ لگانے اور ان کی خبر دینے سے تعرض کرنے کا اور ادعائے غیب دانی کا، کہانت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی لکھتے ہیں:
أن النبي صلی اللہ علیه وسلم نھٰی عن الکھانة وھی الأخبار عن الجن أشد النھی وبرئ ممن أتی کاھنا (حجة اللّٰہ ص۱۴۵ج۲)

وقال الشیخ الدھلوی نقلا عن اللسان والنھایة والکاھن الذی یتعاطی الخبر عن الکائنات فی مستقبل الزمان ویدعی معرفة الاسرار علی مواقعھا من کلام أو فعل أو حال ویحض باسم العراف وھو الذی یتعاطی مکان المسروق ومکان الضالة ونحوھما وحدیث من أتٰی کاھنا یشمل الکاھن والعاف والمنجم قالو او ینبغی للمحتسب منھم و تادیب ھم وان یودب الأخذ والمعطی   (حاشیہ ابو داؤد ص۱۸۹ ج۲)
(۲) اور اس لیے کہ زید اس عمل میں بچہ کے ہاتھ پر نقش و خطوط کھینچتا ہے، جو از قسم رمل ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:

«العیافة والطیرة والطرق من الجبت الطرق الزجرو العیافة الخط» (ابو داؤد ص۱۸۵ ج۲)
(۳) اور اس لیے کہ زید جنوں کے بادشاہ (شیطان) سے مغیبات و دفائن و سرقہ کا پتہ و حال پوچھتا ہے۔ کہ اس شیطان کو امور غیبیہ کا علم بجز اللہ تعالیٰ کے کسی بشر اور جن وغیرہ کو نہیں ہے۔ اگر بذریعہ استراق سمع بعض امور جزئیہ کا علم اس کو ہو بھی تو ہم کو اس پر اعتماد کرنے سے سخت منع کر دیا گیا ہے۔ ارشاد ہے۔
﴿قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ ۚ
(۴) اور اس لیے کہ یہ صورت حوائج و دفع حضرات میں شیطان و جن سے استمداد و استعانت کی ہے، جو شرک ہے۔
(۵) اور اس لیے کہ یہ صورت عمل فرقہ فریمیسن (ضالہ، مضلہ، مرتدہ واجب القتل) کے فن سے مشابہ ہے۔ جس کا موضوع مغیبات سے بحث اور ان کا ادراک ہے۔ اور جس کی غرض و غایب حوائج و دفع مضرات میں شیاطین و جنات سے استمداد و استعانت ہے۔ تفصیل دلیل الطالب ص۷۷۵ میں ملاحظہ ہو۔
(۶) اور اس لیے کہ یہ عرافت خاص خاص طریقے پر مسروقہ اشیاء اور گم شدہ جانور کا پتہ اور اس پر اعتماد کر کے کسی پر سارق کا حکم لگانے کی اجازت نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ اور نہ صحابہ و تابعین سے یہ ثابت و منقول ہے۔ بنا بریں بدعت و مردود ہے۔ اور اس کا مرتکب مبتدع ضال و مضل ہے۔

علامہ نواب صدیق الحسن قنوجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، علمے وعملے کہ شریعت حقہ بر جوازش دال نباشد و ماخذ مش غیر مشکوٰۃ نبوت محمدی بود و بعدا اللیتا والتی یکے از اصناف غیوب قرار وا دہ آید وایں نوع غیب شناسی و ریکے از اقسام کہانت یا شعبدہ یا سحر باشد۔ شک نیست کہ فاعل آن و قئل بداں یکے از مشرکان و برگر وندگان ازدین اسلام است وحکم کہانت و سحر و طلسمات و شعوذت و آنچہ بداں مے ماند در کتب دین بمواضع خود مبین است۔ حاجت ذکر اولہ آں از کتاب و سنت مطہرہ درین جا نیست پس ہیچ شک دران نتواں کرد کہ صاحب ایں اعمال بے شبہ ضال و مضل است و محاوات چیزے کردہ کہ راہ آں مسدود است و طرقش مردود و مدلولا تش باطل مطرود و اعتقاد بموجب معلوماتش کفر صرف وردت محض است واللعبد در العلامہ ابن خلدون حیث ختم کلامہ 
المبسوط علٰی ھذہٖ الاعمال بھذا الکلام الجامع وھو قوله ولا سبیل إلٰی معرفة ذلك من ھذہ الاعمال بل البشر محجوبون عنه وقد استاثر اللہ تعالیٰ بعلمه واللہ أعلم وانتم لا تعلمون انتھٰی  (دلیل الطالب ص۷۹۲)
(۸)  اور اس لیے کہ زید اس طرح غیب دانی و غیب بینی کی کوشش کرتا ہے، اور تمام تر طریقے غیب دانی کے اور جمیع انواع غیب کے ضلالت ہیں، نواب ممدوح تحریر فرماتے ہیں، وعلیٰ جملۃ ہر چہ باشد جز نبوت کہ افضل طرق مدارک حق است ہمہ انواع غیب دانی و غیب بینی ضلالت بحث است خواہ بمعانات اسباب و اوضاع فلیکہ باشد یا اوضیہ وخواہ بواسطہ عزائم واسماء بود یا بغیر آں واز شریعت مطہرہ بضرورت نقل و شہادت عقل ثابت است کہ علم غیب ازاں اشیاء راست کہ او تعالیٰ مستاثرہ بدانستن اوست احدے را ادعائے آن نمیر سد و اگر یکے دعویٰ کند خلاف حق کردہ باشد و آنچہ از مغیبات بیان ساز دہر چند مطابق واقع شود در کود قبول نیست و ہیچ مدرک ازیں مدارک خالی از مضاوت شریعت حقہ نباشد ولہٰذا شریعت محمدی بابطال آں ہمہ وارد گشتہ و اعتقاد غیب دانی و اوحأ غیب بینی را از موجبات کفر و کافری و از نوع مشرک و شر کے کہ مخالفت توحید الٰہی و تصدیق رسالت پناہی است گرد ایندہ اند ابن خلدون گفتہ معارف و خوارق انبیاء علیہم السلام و اخبار ایشاں بکائنات مغیبہ تعلیم الٰہی است بشر را سبیلہ مبعرفت آن نیست مگر بوساطب ایشاں و ایں معارف انبیاء حق است واما کہانت پس وحی شیطانی است (دلیل الطالب ص ۷۰)
(۹) اور اس لیے کہ زید قرآنی آیات اور سورتوں کو بے محل استعمال کر کے اس کی توہین کرتا ہے، قرآن کریم ان اعمال کے لیے نہیں نازل ہوا ہے۔ پس زید کو اپنے اس غیر شرعی عمل سے جلد باز آنا چاہیے، جو لوگ زید کے پاس اس مطلب کے لیے جاتے ہیں، اور عمل حاضرات کو درست سمجھ کر اس پر اعتماد کرتے ہیں، سخت گناہ گار ہیں۔ ارشاد ہے۔
«من أتی کاھناً فصدقه بما یقول فقد برئ بما أنزل على محمد ﷺ»  (ابو داؤد)
اس طرح سے حاصل شدہ پیسوں کو مسجد کے مصارف میں خرچ کرنا ناجائز ہے۔ کیونکہ وہ مال حرام ہے ونہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن حلوان الکاہن ، ترمذی وغیرہ اور مال حرام وغیرہ کا مسجد میں صرف کرنا ممنوع و ناجائز ہے۔  «إن اللّٰہ طیّب لا یقبل الّا الطیب» (صحیحین)
اور اس شخص کو امامت سے قدرت ہو تو معزول کر دینا چاہیے ارشاد ہے:

  اجعلوا ائمتکم خیارکم۔

وہ شخص ملعون ہے جس کی امامت کو بوجہ اس کے امر مذموم عند الشرع کے مرتکب ہونے کے لوگ ناپسند کریں، (ترمذی وغیرہ) فلیتہ، گنڈے بنانا مکروہ ہے۔ گرہوں پر کچھ پڑھ کر پھوکنا  ﴿وَمِن شَرِّ‌ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ  میں داخل ہے۔ افسوس ہے کہ جن خرافات سے اہل حدیث پرہیز کرتے تھے اور جو بدعتیوں کے شعار سمجھے جاتے ہیں، اب اہل حدیث عوام ہی نہیں بلکہ ہمارے بعض علماء نے بھی بغیر کسی جھجھک کے ان کو اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ذریعہ معاش بنا لیا ہے۔ (مولانا) عبید اللہ رحمانی، محدث دہلی جلد نمبر ۲ شمارہ نمبر ۲)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 87۔90
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)