فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 24801
(268) کیا اقامت ِجمعہ کے لئے مسجد کا وجود شرط ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 February 2018 01:39 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایسی جگہ جو مدرسہ کے لئے وقف ہو، کیا اس کی عمارت میں بچوں کی تعلیم کے علاوہ نمازِ پنجگانہ خصوصاً نماز جمعہ و عیدین کا ادا کرنا جائز ہے؟جبکہ اس میں مسجد کی خاص علامات مثلاً مینار، منبر اور محراب وغیرہ بھی نہیںہیں۔ (محمد فیاض کھوکھر، سیالکوٹ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اقامت ِجمعہ کے لئے مسجد کاوجود شرط نہیں۔ چنانچہ فقیہ ابن قدامہ فرماتے ہیں:

’ولا یشترط لصحة الجمعة إقامتها فی البنیان ویجوز إقامتها فیما قاربه من الصحراء وبها قال ابوحنیفة‘

یعنی ’’اقامت ِجمعہ کے لئے عمارت کا ہونا شرط نہیں۔ اس کے قریب میدان میں بھی جائز ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ  بھی اسی بات کے قائل ہیں۔‘‘

اس کی دلیل یہ ہے کہ مصعب بن عمیرؓ نے انصار کو جمعہ نقیع خضمات میں واقع ایک وادی ھزم النبیت میں پڑھا یا تھا اوراس لئے بھی کہ عید پڑھنے کا مقام جنگل ہے۔ جمعہ بھی چونکہ ایک طرح کی عید ہے ، لہٰذا اسے بھی جنگل میں ادا کیا جاسکتا ہے۔ ( تفصیل کیلئے: المغنی:۳/۲۰۹)

جب جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد کا وجود شرط نہیں تو کسی بھی دوسرے مقام پر جمعہ پڑھا جاسکتا ہے، خواہ وہ مدرسہ کی عمارت ہو یا کوئی دوسری جگہ ۔اس کے علاوہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول :جمعوا حیثما کنتم ’’جہاں کہیں بھی تم ہو جمعہ پڑھ لو۔‘‘ بھی اسی بات کا موید ہے۔

اور عید اصلاً باہر پڑھنی چاہئے بامر مجبوری یہاں پڑھنے کا بھی جواز ہے اور مینار و محراب کی قیود بلا فائدہ ہیں، تاہم منبر کا وجود جمعہ میں حتیٰ المقدور سنت ہے، جبکہ عید کا خطبہ بلامنبر ہونا چاہئے۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:273

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)