فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2480
مسجد کے تیل کو امام اور طلباء کا اپنے استعمال میں لانا
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 07:59 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسجد میں نمازی چراغ جلانے کے لیے تیل بھیجتے ہیں، لیکن امام صاحب اور طلباء اپنے ذاتی مصرف میں تیل خرچ کر لیتے ہیں، کیا اس طرح ان کا فعل جائز ہے؟
__________________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب تیل مسجد کے چراغ کے لیے آتا ہے، تو اسی کام میں خرچ کرنا چاہیے، امام صاحب و طلباء مسجد کا تیل اپنے مصرف میں لا کر یقینا مسجد کی حق تلفی و خیانت کے مرتکب ہیں۔ (مولانا) محمد یونس دہلی، اہل حدیث گزٹ دہلی جلد نمبر ۹، ش نمبر ۱۰)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 86
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)