فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 24796
(263) جمعہ کی دو اذانیں کب سے رائج ہوئی، نیز کیا یہ جائز ہے ؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 February 2018 04:02 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے وقت تو جمعہ کی اذان ایک ہی تھی لیکن عام طور پر مسجدوں میں دو اذانیں جمعہ کی ہوتی ہیں۔ یہ کب سے رائج ہوئی، نیز کیا یہ جائز ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مدینہ منورہ میں آبادی جب پھیل گئی تو خلیفۂ ثالث حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ  نے پہلی اذان کا اضافہ کردیا۔ صحیح البخاری،رقم:۹۱۶، بمع فتح الباری:۳/۳۹۵

صحیح بخاری میں یونس کی روایت میں ہے: ’فَثَبَتَ الأَمرُ عَلٰی ذٰلِکَ‘(صحیح البخاری،بَابُ التَّأذِینِ عِندَ الخُطبَةِ، رقم:۹۱۶) یعنی اس اذان پر اجماع ہوگیا۔’’فتح الباری‘‘ میں ہے:

’ اَلَّذِی یَظهَرُ أَنَّ النَّاسَ أَخَذُوا بِفِعلِ عُثمَانَ فِی جَمِیعِ البِلَادِ۔ اِذ ذَاکَ لِکَونِهٖ خَلِیفَةَ مُطَاعِ الأَمرِ ‘ (۲/۳۹۴)

’’ظاہر یہی ہے کہ یہ اذان سب شہروں میں جاری ہو گئی، کیونکہ وہ قابلِ اطاعت خلیفہ تھے۔‘‘

استاذی المکرم محدث روپڑی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اگرچہ ابتداء اس کی لوگوں کی کثرت کی وجہ سے تھی ۔ مگر سب شہروں میں اس کا پھیلنا دلالت کرتا ہے کہ آخر لوگوں کی کمی بیشی ضروری نہیں سمجھی گئی۔ پس ثابت ہوا کہ اب بھی یہ اذان درست ہے۔ خواہ کم ہوں یا زیادہ۔ ہاں ضروری نہیں۔ اگر کوئی نہ دینی چاہے نہ دے۔ مگر دینے والے پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔ بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ بلند جگہ بازار میں دینی چاہیے، کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  نے ایسی جگہ میں ہی دی تھی۔ تو یہ ٹھیک نہیں۔ اذان سے مقصود إعلام ہے، یعنی لوگوں کو بذریعہ توحید اعلان ہے۔ اس میں بازار یا کسی جگہ کی خصوصیت کو کوئی دخل نہیں۔ مدینہ شریف میں بازار مسجد کے ساتھ تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  نے موزوں جگہ پر دلوادی۔ اس طرح ہر شہر کی جامع مسجد میںموزوں جگہ دیکھ لینی چاہیے۔ (فتاویٰ اہلِ حدیث:۲/۱۰۶)

بہرصورت مذکورہ بالا مُستندات کی روشنی میں جمعہ کی پہلی اذان دینے کا جواز ہے۔(واللہ اعلم)  (ادارہ الاعتصام: جمعہ کی پہلی اذان، جو اذانِ عثمانی کہلاتی ہے ،اس کی بابت اگرچہ حضرت مفتی صاحب نے صرف جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ اسے ضروری نہیں بتلایا ہے۔تاہم ہمارے خیال میںمطلقاً جواز کا فتویٰ بھی محلّ نظر ہے۔ اس کا جواز صرف ایسی جگہوں پر ہی تسلیم کیا جانا چاہیے جہاں اس کی ضرورت مقتضی ہو۔ آج کل لاؤڈ اسپیکر اور گھڑیاں عام ہیں، جن کی وجہ سے اس طرح کے إعلام(خبر دینے)کی بالعموم ضرورت نہیں ہے۔ جس طرح حضرت عثمانt کے دَور میں تھی۔ البتہ جہاں آج بھی گھڑیاں اور لاؤڈ اسپیکر وغیرہ نہ ہوں تو وہاں بلاشبہ اذانِ اوّل کا جواز موجود ہے۔ لیکن جہاں ایسی صورت نہیں ہے (جیسا کہ آج کل بالعموم نہیں ہے) تو وہاں جمعہ کی پہلی اذان (اذانِ عثمانی) سے اجتناب ہی کرنا چاہیے اور صرف وہی ایک اذان دینی چاہیے جو آنحضرتe کے زمانے میں ہوا کرتی تھی۔

            اس موضوع پر ہمارے فاضل بزرگ و محقق مولانا عبید اﷲ صاحب عفیف کا ایک مُفَصَّل اور مُدَلَّل مضمون ہمارے پاس کافی عرصے سے اشاعت کے لیے آیا ہوا ہے جس میں اسی نقطۂ نظر کی تائید و حمایت کی گئی ہے، جو ہم نے مذکورہ بالا سطور میں پیش کیا ہے۔(ان شاء اﷲ) آئندہ شمارے سے بالأقساط قارئین کرام وہ ملاحظہ فرمائیں گے! (صلاح الدین یوسف)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:243

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)