فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2478
مسد کا محراب بنانا جائز ہے یا ناجائز
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 07:57 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسجدوں میں محراب بنانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر امام محراب میں کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو نماز مکروہ ہو گی یا جائز؟

__________________________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بعض حدیثوں میں اہل کتاب کے محرابوں کی طرح محراب بنانا منع آیا ہے اہل کتاب کے محراب ان کے عبادت خانوں کے ایک طرف بصورت حجرے یا چبوترے کے ہوتے ہیں ایسے محراب مساجد میں نہ ہونے چاہئیں۔ اسلامی مساجد میں جو محراب بنے ہوئے ہیں ان کا ثبوت طبرانی کی ایک مرفوع حدیث سے ملتا ہے لہٰذا ان کے ناجائز ہونے کا فتویٰ دینا میرے نزدیک صحیح نہیں۔ علامہ ابو الطیب شمس الحق محدث ڈیانوہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی بے نظیر کتاب عن المعبود شرح ابی دائود جلد نمبر ۱ ص ۱۸۰ میں لکھتے ہیں:
قال الشیخ ابن الھمام من ساداة الحنفیة ولا یخفی ان امتیاز الإمام مقرر مطلوب فی الشرع فی حق المکان حتی کان التقدیم واجباً علیه وبنی فی المساجد المحاریب من لدن رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم انتھیٰ. وأیضاً لا یکرہ الصلوٰة فی المحاریب ومن ذھب إلی الکراھیة فعلیه البینة ولا یسمع کلام أحد من غیر بیته ولا دلیل
’’یعنی علامہ ابن الہمام نے فرمایا ہے کہ امام کی جگہ مسجد میں ممتاز ہونی چاہیے۔ تاکہ وہاں آگے ہو جائے اور محراب تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے بنتے چلے آئے ہیں و نیز محرابوں میں نماز پڑھی کوئی مکروہ نہیں ہے اور جو اس کو مکروہ کہتا ہے اس کو دلیل شرعی دینی چاہیے۔ بغیر دلیل کسی کا قول قابل سماع نہیں ہوتا۔ ‘‘
(حررہ احمد اللہ دہلی۔ اہل حدیث گزٹ دہلی جلد نمبر ۹ شمارہ نمبر ۱)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 82
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)