فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2475
مسجد کا پیسہ مسجد کے علاوہ خرچ کرنا
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 07:55 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 مسجد کا روپیہ مسجد کے علاوہ مدرسہ یا سڑک بنانے میں صرف کرنا یا کسی کو قرض دینا جائز ہے یا نہیں؟

__________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسجد کا روپیہ جس کو مسجد کی تعمیر یا مرمت یا موذن و خدام کی تنخواہ یا فرش و روشنی وغیرہ جیسے امور کے لیے دینے والے کی طرف سے مخصوص نہ کیا گیا ہو بلکہ بغیر تعین جہت اور مصرف کے مسجد پر وقف کر دیا گیا یا دے دیا گیا ہو اور جو اس مسجد کی ضروریات سے فاضل اور زائد ہو اس مسجد کے علاوہ دوسری مسجد یا مدرسہ یا ایسے نیک کاموں پر خرچ کر سکتے ہیں، جن سے اعلاء کلمۃ اللہ اور اسلام کی تبلیغ ہو۔
عن عائشة قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللہ علیه وسلم یقول: «لو لا ان قومك حدیثو عھد بجاھلية أو قال بکفر لانفقت کنز الکعبة فی سبیل اللہ ولجعلت بابھا بالأرض ولا دخلت فیھا من الحجر»  (مسلم)
کنز کعبہ سے مراد وہ اموال ہیں، جو زائرین خانہ کعبہ کی نذر کیا کرتے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ یہ خزانہ بیت اللہ کی ضرورت سے زیادہ ہے، تو فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا لیکن عذر اور مصلحت مذکورہ فی الحدیث کی وجہ سے اس ارادہ کو پورا نہیں فرمایا۔ مسجد کا ایسا روپیہ دیانت داروں کو باضابطہ قرض بھی دے سکتے ہیں، سڑک اور پل اور پارک وغیرہ جیسے امور میں نہیں خرچ کرنا چاہیے کہ یہ مواضع ’’سبیل اللہ‘‘ سے خارج اور باعث اعلاء کلمۃ اللہ و تشہیر اسلام نہیں ہیں۔
(مولانا) عبید اللہ رحمانی، محدث دہلی جلد نمبر ۱۷، ش نمبر ۷)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 78
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)