فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2473
(96) مسجد کا شامیانہ بالکل کمزور اور قابل مرمت نہیں تو اس کو غریبوں میں تقسیم کرنے کے بارے حکم
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 07:53 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر مسجد کا موقوفہ شامیانہ بالکل بودا اور کمزور ہو گیا ہو اور قابل مرمت نہ رہے اور آئندہ رکھنے سے اور بھی زیادہ نقصان ہو اور بالکل بے مصرف ہو جائے تو ایسے شامیانہ موقوفہ کو لولے، لنگڑے، جذامی، محتاج اور اپاہج کو تقیسم کر سکتے ہیں یا نہیں؟
_______________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسے شامیانہ کو فروخت کر کے اس کی قیمت مسجد پر صرف کر دی جائے یا شامیانہ ہی کو مجبور و معذور محتاجوں پر تقسیم کر دیا جائے، دونوں جائز ہے۔
ذکر الأزرقی أن عمر کان ینزع کسوة الکعبة کل سنة فیقسمھا عن الحاج وعندہ أیضا عن ابن عباس رضی اللہ عنه و عائشة رضی اللہ عنه انھا قالا ولا باس أن یلبس کسوتھا من صارت إلیه من حائض وجنب وغیرھما۔ وقالت عائشة لشیبت بیعھا فاجعل ثمنھا فی سبیل اللّٰہ وفی المساکین أخرجه الفاکھی والبیھقی (محدث دہلی جلد نمبر ۱ شمارہ نمبر ۱۰)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 77
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)