فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2472
(95) وقف شدہ مال کسی متعین مسجد یا مدرسہ کو دینی امور کے لیے کسی اور جگہ استعمال کرنا
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 07:52 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 وقف شدہ مال کسی معین مسجد و مدرسہ کا دوسری جگہ کسی دینی امر میں لگ سکتا ہے یا نہیں؟ جب کہ اس مسجد و مدرسہ سے بچ رہے اور اس میں ضرورت نہ ہو۔

________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ابو دؤد میں حدیث ہے کہ ایک شخص نے اپنا اونٹ فی سبیل اللہ کر دیا، جس سے مقصود اس کا جہاد تھا، اس کے بعد اس کو حج کی ضرورت ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی اور فرمایا یہ بھی فی سبیل اللہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک مسجد یا مدرسہ کی شے، جب کہ فالتو ہو، دوسری مسجد یا مدرسہ میں خرچ کرنا کوئی حرج نہیں، کیوں کہ ’’یہ سب فی سبیل اللہ ہے۔‘‘ (تنظیم اہل حدیث لاہور جلد نمبر ۲۱ ش نمبر ۱۸)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 76
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)