فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2470
(93) حکومت کی اجازت کے بغیر زمین کو مسجد کے لیے وقف کرنا
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 07:49 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 زید کا مسجد وغیرہ کے لیے اپنی زمین وقف کرنا حکومت کی اجازت کے بغیر مکمل ہوتا ہے یا نہیں؟ ایسی مسجد میں نماز درست ہے یا نہیں، ایسی مسجد ضرار کہی جا سکتی ہے کیا ایسی مسجد بنانے والوں سے عمر و بکر کا اقتصادی تعلق منقطع کرنا، اور ان کی شادی و غمی میں شریک ہونے سے لوگوں کو روکنا جائز ہے یا نہیں؟

__________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب زید نے اپنے حصہ کی زمین وقف کر دی تو اس کا یہ وقف درست ہے، حکومت سے وقف کرنے کے لیے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، ضابطہ کے لیے حکومت کے رجسٹر میں یا سرکاری اسٹامپ پر درج کرانا پڑتا ہے۔ اور اس مسجد میں نماز ایسا ہی درست ہے جیسا کہ اور تمام مسجدوں میں۔ مسجد کے لیے زمین آسمان سے نہیں اترتی۔ عموماً مسجدیں وقف کردہ زمینوں پر ہی بنائی جاتی ہیں، بکر و عمر غلطی پر ہیں، اور وہ اس آیت کا مصداق ہیں۔
﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّـهِ أَن يُذْكَرَ‌ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَ‌ابِهَا ۚ﴾ الخ
عمر و بکر سخت مجرم ہیں، ذاتی عناد کی وجہ سے مسجد کو چھوڑ کر گھر یا دوکان میں نماز پڑھنا درست نہیں، ایسی مسجد کو ضرار کہنا بھی گستاخی بلکہ کفر ہے، تجہیز و تکفین اور شادی بیاہ میں شرکت کرنے سے روکنا تعدی اور ظلم ہے۔ بکر و عمر کو ایسے افعال سے توبہ کرنی چاہیے۔  (مولانا) عبد السلام بستوی، اہل حدیث دہلی جلد نمبر ۲، ش نمبر ۱۵)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 75۔76
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)