فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2468
مالک فوت ہو گیا بیوی نے خفیہ طور پر مکان وقف کر دیا
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 07:48 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید فوت ہو گیا، وارثوں میں بیوی اور ایک لڑکا چھوڑا پھر کچھ دن کے بعد زید کا لڑکا فوت ہو گیا، اس نے تین وارث چھوڑے، بیوی، لڑکی، ماں۔ ابھی تک کوئی بٹوارا نہیں ہوا، زید کی بیوی تنہا رہ گئی، جس مکان میں رہتے تھے،وہ مکان زید کا خریدا ہوا تھا، اس مکان کو مسجد میں وقف للہ کر دیا اور وقف نامہ میں یہ بھی تحریر کیا ہے آج کی تاریخ سے وقف للہ کر دیا اور لکھ دیا کہ آج کی تاریخ سے متولی رہوں گی او رمکان کا کرایہ آٹھ روپیہ ماہوار ہے۔ جو کچھ میرے خرچ سے بچتا رہے گا اس کو مسجد میں ہر ماہ دیتی رہوں گی، اور یہ وقف نامہ زید کے رشتہ داروں سے پوشیدگی میں کیا گیا تھا، کیوں کہ زید کے بھتیجے ترکہ مانگ رہے تھے، اس لیے اس نے خفیہ طور پر کر دیا تھا، جب زید کے بھتیجوں (جو زید کے لڑکے کے چچا زاد بھائی ہوئے تھے) اور زید کے لڑکے کی بیوی نے سنا کہ مکان وقف کر دیا تو فوراً جا کر قبضہ کر لیا، استفتاء کرانے سے زید کی بیوی کا حصہ ۴ آنے ۴ پائی نکلا، زید کے اور زید کے لڑکے کو ملا کر اتنا ترکہ ملا تھا۔ اب اس کے بعد زید کی بیوی فوت ہو گئی، جو اسی مکان کے ایک حصہ میں زید کی زندگی ہی سے سکونت رکھتی تھی، اس کے بعد زید کی بیوی کے والدین نے قبضہ کر لیا، زید کے بھتیجوں نے اپنا اپنا حصہ فروخت کر ڈالا اور ساتھ ہی اس حصہ کو جو زید کی بیوی کا تھا فروخت کر دیا، یعنی ترکہ کا کل مکان فروخت ہو گیا، بڑھیا کے مر جانے کے بعد متولیوں نے جن کو بڑھیا نے متولی بنایا تھا، اس نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا، اور وقف نامہ ناجائز قرار دیا گیا، چونکہ مکان زید کے نام سے تھا، اس لیے عدالت نے کہا کہ اپنا اور غیروں کا حصہ بھی وقف کر دیا، اس لیے ہم نے اسے ناجائز کر دیا، اس کو عرصہ چار پانچ برس کا ہوا، عمل درآمد نہ بڑھیا کے مرنے کے بعد رہا نہ زندگی میں رہا، نہ دوسرا وقف نامہ تحریر کیا، متولیوں نے عدالت کو یہ کہا کہ ہم لوگوں کا قبضہ دلایا جائے۔
اور بڑھیا نے وقف نامہ تحریر کیا کہ ہم نے اپنی زندگی میں وقف نامہ دے دیا، اس صورت میں بڑھیا کا حصہ وقف ہوگیا ، یا وصیت ہو گی؟ اگر وصیت ہو گی، تو کتنے وصیت جائز ہو گی، مکان کا اب تک بٹوارہ نہیں ہوا، بعض علماء کہتے ہیں کہ بغیر بٹوارے کے وقف ناجائز ہے، اور بعض کہتے ہیں، جائز ہے۔ ان میں صحیح کون ہے اور غلط کون؟ قرآن و حدیث سے مدلل فرمائیے۔
وقف نامہ میں یہ بھی تحریر ہے کہ اس میں کوئی شریک نہیں، اب متولیوں کو نالش کرنے کی ہمت نہیں پڑتی کہ بڑھیا کا جتنا حصہ ہے اتنے حصہ کے وقف کی بابت پھر نالش کی جائے، یہ چار آنہ ۴ پائی کا حصہ دو آدمیوں نے خریدا ہے، اس صورت میں متولیوں کا یہ ارادہ ہے کہ جو ۴ آنہ ۴ پائی کا حصہ دو آدمیوں نے خریدا ہے ان سے کچھ روپیہ لے کر دعویٰ عدالت میں کر دیں، کیوں کہ مقدمہ میں ہرجانے کا احتمال ہے، اس صورت میں مسجد کے روپیہ کا نقصان ہو گا، تو ان خریداروں سے روپیہ لے کر مسجد میں لگا دیا جائے، کہ بڑھیا کے روح کو ثواب پہنچے، شریعت متولیوں کو ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے یا نہیں؟

_________________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 وقف شے کا فروخت کرنا درست نہیں، بڑھیا کا حصہ ۴ آنے ۴ پائی وقف ہے، جن دو آدمیوں نے خریدا ہے، انہوں نے غلطی کی ہے، یہ ان کی ملکیت نہیں ہو سکتا، اس کا کرایہ مسجد کو ادا کریں یا چھوڑ دیں تاکہ کسی اور کوکرایہ پر دے دیا جائے یا مسجد کے کسی اور کام میں آئے خریدنے والے اپنا روپیہ جن سے خریدا ہے ان سے مطالبہ کریں دے دیں تو بہتر ورنہ قیامت کو فیصلہ ہو گا، لیکن وقف شے پر اس کا کچھ اثر نہیں پڑے گا، وقف شے بدستور وقف ہی رہے گی، کیوں کہ وقف شے کے متعلق حدیث میں آیا ہے:
«ولا یباع أصلھا ولا یؤرث ولا یوھب»  (بلوغ المرام باب الوقف)
’’یعنی نہ اس کا اصل فروخت کیا جائے نہ وراثت میں لیا جائے نہ ہبہ کیا جائے۔‘‘ (عبد اللہ امر تسری ’’مدیر تنظیم‘‘ روپڑ، تنظیم اہل حدیث روپڑ جلد نمبر ۱۰ ش نمبر ۳۴)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 73۔74
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)