فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2466
(138) مسجد کو اپنے نام سے منسوب کرنا
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 07:45 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جمال نامی شخص نے مسجد بنائی اور اس کو اپنے نام سے منسوب کرتا ہے، مثلاً مسجد جمالیہ، اب زید کہتا ہے کہ ایسی مسجد میں نماز نہیں ہوتی، مسجد خالص ثوابی نیت سے بنائی جائے نہ کہ لوگوں کے دکھانے کے لیے کیا زید کا کہنا ٹھیک ہے؟

_____________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بخاری شریف میں ایک باب ہے۔ باب ما یقال مسجد بنی فلان۔ یعنی فلاں کی مسجد کہنا جائز ہے۔ باقی رہا یہ سوال ریاء کا تو وہ الگ چیز ہے، ریاء تو ہر حال میں برا ہے۔ نام رکھے یا بے نام بنائے، ہر حال میں ریاء ہو سکتا ہے۔ (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۲۶۶)

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)