فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2456
(79) ہندوؤں مسجد یا کنویں پر رقم خرچ کرے تو اس بارے میں کیا حکم ہے؟
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 07:33 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایک ہندو شخص مسجد کے کنویں میں یا مسجد میں صرف کرنے کو بخوشی کچھ رقم دے دے تو اسے ازروئے شریعت کنویں یا مسجد میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ بنیوا توجروا

______________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مال کے متعلق دریافت کر لینا چاہیے، اگر بالکل حلال ہو تو اسے قبول کرلینے میں کوئی حرج نہیں، اور مسجد وغیرہ پر بھی وہ لگ سکتا ہے۔ بیت اللہ شریف کفار ہی کا بنا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، صرف اتنا ہی کہا کہ انہوں نے بیت اللہ کو چھوٹا کر دیا اور دروازے کو اونچا کر دیا، اگر یہ قوم نومسلم ہوتی تو میں بیت اللہ شریف کو اصلی نیموں پر بنا دیتا، اور دروازہ زمین کے ساتھ ملا دیتا، اوردو دروازے بنا دیتا، ایک داخل ہونے کا اور ایک نکلنے کا۔
اس سے معلوم ہوا کہ کفار کا روپیہ مسجد پر لگ سکتا ہے، بشرطیکہ حلال کمائی کا ہو، چنانچہ اس حدیث میں تصریح ہے، کہ کفار نے حلال کا روپیہ جمع کر کے بیت اللہ شریف پر لگایا تھا، مگر حلال روپیہ چونکہ کم ہو گیا، اس لیے انہوں نے بیت اللہ شریف کو چھوٹا کر دیا۔
کفار کا روپیہ مسجد پر لگانے میں اور تو کوئی خرابی نہیں، صرف بدنامی کا باعث اور اعتراض کا ذریعہ ہے کہ مسلمان ایسے بے حمیت ہو گئے ہیں کہ اپنے عبادت خانے بھی آباد نہیں کر سکتے جب تک کہ غیروں کی امداد نہ لیں، اس بدنامی اور اعتراض سے بچنے کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ روپیہ کفار سے لے کر کسی غریب مسکین کو دیا جائے، بیت اللہ شریف بے شک کفار نے اپنی حلال کمائی سے بنایا تھا، مگر اس وقت بیت اللہ شریف پر انہی کا قبضہ تھا، بلکہ اس امت کے اہل اسلام کا اس وقت وجود ہی نہ تھا، کیوں کہ یہ نبوت سے پہلے کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر اس وقت قریبا بارہ (۱۲) یا تیرہ(۱۳) سال کی تھی، موجودہ مساجد پر اس وقت مسلمانوں کا قبضہ ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ مسلمانوں اپنے پیسوں سے آباد کریں۔ (عبد اللہ امر تسری مدیر تنظیم) (تنظیم اہل حدیث روپڑ جلد نمبر ۷، ش نمبر ۴۵)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 52۔53
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)