فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2455
مسجد کے لیے مشرکین سے مدد اور قربانی کے کھالوں کی رقم کا خرچ
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 07:32 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عمارت مسجد مشرکین سے امداد لینی جائز ہے کہ نہیں، نیز قربانی کی کھال فروخت کر کے اس کی قیمت مساجد میں لگانی جائز ہے کہ نہیں؟

_____________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مشرک اگر محض للہ امدا دیں تو جائز ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے کعبہ شریف کی عمارت مشرکوں نے اپنی لاگت سے بنائی تھی، قربانی کی کھال کا مصرف فقراء و مساکین ہیں، حدیث شریف میں ایسا ہی آیا ہے۔(فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۳۷۷)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 52
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)