فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2454
(126) مساجد کی مرمت
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 07:31 AM
ش
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مساجد کی مرمت یا از سر نو تعمیر یا ضروری سامان پہنچانا، مسافروں کو زاد راہ دینی، نو مسلموں کی پرورش، طالب علموں کی ضرورتیں پوری کرنے والوں کی کفالت، مفلوک مریضوں کی دوا، ننگوں کو کپڑا، بھوکوں کو کھانا دینا، مظلوموں اور ناقابل کسب معاش عورتوں مردوں بچوں کی ضروری کفالت، اشاعت اسلام وغیرہ یہ حضرات والاصفات (صلوٰۃ اللہ علیہم اجمعین) کرتے تھے، یا نہیں، اگر کرتے تھے تو زکوٰۃ و دیگر صدقات کی رقوم سے یا خراج ممالک سے اگر جدا جدا رقوم صرف فرماتے تھے تو بضرورت دوسری مد کے رقم صرف فرماتے تھے، یا مد خاص میں گنجائش نہ ہونے پر کام سے انکار فرما دیتے تھے؟

________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!


ان سب ضرورتوں کا انتظام مصارف زکوٰۃ میں آ جاتا ہے اور مال غنیمت سے بھی پانچواں حصہ لیا جاتا تھا، امیر جماعت کو بھی اختیار ہے کہ حسب ضرورت تقسیم کر دے۔(فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۴۶۱)

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)