فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 24534
(1) پانی والی ٹینکی میں چھپکلی مرجائے یا حلال و حرام جانور بیٹ کر جائے تو کیا پانی ناپاک ہو گا؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 01 January 2018 10:20 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 پانی کی ٹینکی ہے جس میں قریباً دو اڑھائی من پانی ہوتا ہے۔ پانی اس میں جاری رہتا ہے مثلاً موٹر کے پائپ سے پانی داخل ہوتا ہے، ادھر سے خارج بھی ہوتا رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس ٹینکی میں چھپکلی گر جائے زندہ یا مردہ یا اس پانی میں جانور حلال یا حرام بیٹ کردیں تو کیا اس پانی کو استعمال کیا جاسکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسی صورت میں ٹینکی سے پانی نکال کر اسے صاف کرلینا چاہیے۔ پانی اصلاً پاک ہے دو طرح سے نجس ہوتا ہے:(صحیح البخاری،بَابُ غَسْلِ المَنِیِّ وَفَرْکِهِ، وَغَسْلِ مَا یُصِیبُ مِنَ المَرْأَةِ،رقم:۲۳۰،صحیح مسلم،بَابُ حُکْمِ الْمَنِیِّ،رقم:۲۸۹) نجاست کی وجہ سے اس کا رنگ، بو، مزہ بدل جائے، تو وہ پلید ہوجاتا ہے، خواہ تھوڑا ہو یا بہت۔(فتح الباری:۵/۲۷۸)اندازاً پانچ مشک سے اس کی مقدار کم ہو تو نجاست کے پڑنے سے پلید ہوجاتا ہے خواہ رنگ، بو، مزہ بدلے یا نہ بدلے۔

اور پانی میں پاک شے پڑنے سے بعض دفعہ اس کا نام اور ہوجاتا ہے مثلاً: شربت یا عرق یا لسی وغیرہ، تو اس سے وضواور غسل نہیں ہوگا۔ ہاں اگر پانی کا نام نہ بدلے جیسے کنویں میں پتے گرنے سے رنگ، بو، مزہ بدل جاتا ہے مگر اس کا نام پانی ہی رہتا ہے تو اس سے وضوغسل وغیرہ درست ہے۔ یہی حکم پانی میں حلال جانور گرنے کا ہے۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

كتاب الطہارۃ:صفحہ:85

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)