فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 24532
(42) زمان و مکان اور حال کے اختلاف کے باعث فتویٰ میں تبدیلی کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 27 December 2017 11:05 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی جگہ لکھتے ہیں کہ: نصوص شرعیہ کے خلاف حکم اور فتویٰ دینا حرام ہے، اور نص کی موجودگی میں اجتہاد و تقلید ساقط اور بے اعتبار ہے۔ اور کسی جگہ لکھتے ہیں کہ: باعتبار اختلاف زمان و مکان اور حال کے فتویٰ میں تغیر روا ہے کہ شریعت کی بنا مصالح اور حکمتوں پر ہے۔ (وضاحت مطلوب ہے)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نص شرعی کے خلاف فتویٰ دینا حرام ہے:

شق اول جمہور علمائے دین کے نزدیک متفق علیہ ہے اور اس باب میں بہت سی کتابیں اور رسالے تصنیف ہوئے ہیں جیسا کہ حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کی بڑی بڑی دو جلدوں میں تصنیف "اعلام الموقعین من رب العالمین" ([1]) فلانی کی "ایقاظ ھم اولی الابصار" سید احمد قنوجی کی "حدیث الاذکیاء" شیخ محمد حیات سندھی مدنی کی "تحفۃ الانام" سید محمد امیر یمنی کی "ارشاد العقاد" اور "قول مفید" امام شوکانی کی "ادب الطلب" اور "منتہی الارب" نیز شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی "عقد الجید" اور "انصاف" اور ان کے سوا مزید کتابیں بھی ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورہ جات میں اختیار ہے:

دوسری شق ساقط ہے، مگر یہ کہ تغیرِ فتویٰ سے مراد، قضا میں باعتبار احوال و زمان کے تغیر ہو۔ چنانچہ تفھیمات میں کہا کہ "مجھے یہ بات معلوم کرائی گئی کہ شریعت میں رائے دینا تحریف اور قضا میں عمدہ ہے۔ انتہی

اور اس میں شک نہیں کہ اگر اس باب میں نص صریح موجود نہیں تو جھگڑوں کے فیصلہ کرنے میں قضا، قاضی کی رائے پر ہے۔ حجۃ اللہ البالغۃ ([2]) میں مصالح اور شرائع کے مابین فرق کے بیان میں ایک مستقل باب باندھا اور اس کی مثالیں ذکر کی گئی ہیں، اس مقام کی تفصیل وہاں دیکھی جا سکتی ہے۔ اور امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا امت کے بعض امور میں دخل دینا اپنی طرف سے حکم معین کرنے کے لئے نہ تھا بلکہ مشورہ کے طور پر تھا اور وہ بھی نزول وحی اور صدورِ حکم نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے تھا۔ چنانچہ موافقات عمر رضی اللہ عنہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں سو جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدوینِ نصوص اور صحت کے بعد، معارضہ نسخ کے بغیر اس کی مخالفت میں مصلحت دیکھے اور ان کے برخلاف حکم کرے وہ کھلا منافق ہے۔ ہاں! البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارشاد جو طریق مشورہ اور مصلحت کے تھے ان میں اتباع کرنا واجب نہیں۔ اسی لئے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مخالفت کرنے والے پر انکار نہیں کیا جیسا کہ بریرۃ رضی اللہ عنہا کے قصہ میں ہے کہ جب اس نے اپنے شوہر مغیث کو آزاد کے بعد ترک کر دیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سفارش اور مصلحت کے طور پر اس سے کہا: وہ تیرے بیٹے کا باپ ہے۔ تو بریرۃ نے جوابا کہا کہ، اگر آپ امر و حکم کے طور پر فرماتے تو مجھے کوئی عذر نہیں ورنہ میں اسے نہیں چاہتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں! میں سفارش کے طور پر کہتا ہوں اور احادیث کے تتبع کرنے والے پر اس قصہ کی نظریں مخفی نہیں۔

نیز امت کے سلف اور ائمہ سے اس قسم کی مصلحت بینی، احوال، زمان و مکان کی تغیر سے جس سے سننِ صریحہ اور نصوص صحیحہ نبویہ کے فتویٰ میں تغیر کرنے کی مخالفت لازم آئے منقول نہیں ہے، بلکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی تھیں کہ: اگر اس زمانہ کی عورتوں کا حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے تو ان کے مسجدوں میں نکلنے کا حکم ہرگز نہ دیتے۔ او كما قال ۔ یعنی اس زمانہ میں عورتوں کا مسجدوں میں آنے سے بڑا فساد ہے اور دل نہیں چاہتا کہ یہ آئیں اور فتنہ و فساد پیدا ہو، مگر کیا کیا جائے کہ شارع علیہ السلام کا حکم یہی ہے اور اس مسئلہ کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔


[1] اب یہ کتاب چار جلد میں مکتبہ قدوسیہ سے مطبوع ہے اور اس کا ترجمہ بھی بازار سے عام مل رہا ہے مترجم خطیب الہند مولانا محمد رحمۃ اللہ علیہ جونا گڑھی ہیں جو تفسیر ابن کثیر کے اولین مترجم ہیں۔

[2] حجۃ اللہ مترجم کراچی/245 پر یہ بحث ہے۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ نواب محمد صدیق حسن

صفحہ:385

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)