فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 24531
(41) حضر میں جمع بین الصلوٰتین کا حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 27 December 2017 11:03 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جمع بین الصلوٰتین فی الحضر کی حدیث صحیح ہے یا نہیں اور اس جمع کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: تمام روایات جو اس کتاب میں ہیں وہ معمول بہا ہیں اور ماسوا روایتوں کے علماء نے اسے اختیار کیا اور ان پر عمل کیا ہے۔

ایک حدیث:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر اور عصر، مغرب و عشاء کو بغیر خوف اور سفر کے جمع کیا۔ ([1])

دوسری حدیث:

إذا شرب الخمر فاجلدوه فان عاد في الرابعة فاقتلوه

یعنی جب کوئی شراب پئے تو اسے کوڑے مارو اور جب چوتھی بار پئے تو اسے قتل کر ڈالو۔ ([2])

اور اس حدیث پر اہل علم کا عمل نہ کرنا اس لئے ہے کہ اس کا منسوخ ہونا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ثابت ہے۔ اس لئے کہ ترمذی نے حدیث مذکور کے بعد حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ، ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اس نے چوتھی بار شراب پی تھی تو آپ نے اسے مارا اور قتل نہ کیا۔ اور اسی کی مثل ابوداؤد اور ترمذی نے قبیصہ بن ذویب کی حدیث سے نقل کیا اور اس میں ہے کہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہی شخص لایا گیا یعنی چوتھی بار، تو آپ نے اسے کوڑے مارے اور قتل کو منسوخ کر دیا۔ اور امام احمد کی روایت میں حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یوں آیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نشے والا لایا گیا تو چوتھی بار آپ نے اس کا رستہ چھوڑ دیا۔

اہل علم کے اتفاق سے منسوخ حدیث پر عمل کرنا جائز نہیں۔ رہی پہلی حدیث وہ اس لفظ سے بھی وارد ہوئی ہے " من غير خوف ولا سفر " یعنی بغیر خوف اور سفر کے۔ اور اس لفظ سے بھی آئی ہے " من غير خوف ولا مطر " یعنی بلا خوف اور بغیر بارش کے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ تینوں (لفظ) اکٹھے (یعنی خوف، مطر اور سفر) کسی حدیث کی کتاب میں ایک ہی روایت میں نہیں آئے بلکہ مشہور " من غير خوف ولا سفر " ہے۔ انتہی۔

اور حدیث کا آخر یہ ہے کہ: ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس جمع کرنے سے کیا مراد تھی؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا کہ امت کو حرج نہ ہو۔ اور اس حدیث کو طبرانی نے اوسط اور کبیر میں، ہیثمی نے مجمع الزوائد میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی ان الفاظ سے نقل کیا ہے:

جمع رسول الله صلي الله عليه وسلم بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء. فقيل له في ذلك قال: صنعت ذلك لئلا يحرج امتي ([3])

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کو جمع کیا تو آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ میں نے اس لئے کیا ہے تاکہ میری امت پر حرج نہ ہو۔

جمع بین الصلوٰتین والی حدیث کی اسنادی حیثیت:

مذکورہ بالا حدیث کی سند میں عبدالقدوس کا بیٹا ضعیف ہے لیکن اس کا ضعف اس وجہ سے مدفوع ہے کہ اس میں کلام اس سبب سے ہے کہ وہ ضعفاء سے روایت کرتا ہے، اور دوسرا اس وجہ سے کہ وہ شیعہ ہے۔ پہلے سبب کا کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اس حدیث کو ضعیف سے روایت نہیں کیا بلکہ اعمش سے روایت کیا ہے، جیسا کہ ہیثمی نے کہا، اور دوسری وجہ کا بھی کچھ اندیشہ نہیں ہے جب تک حد معتبر سے تجاوز نہ کرے اور یہ بات اس سے منقول نہیں۔ حالانکہ بخاری نے اس کے حق میں کہا کہ وہ بڑا سچا ہے اور ابن ابی حاتم نے کہا اس کا کوئی ڈر نہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ جب یہ حدیث صحیح مسلم اور ابن ماجہ وغیرہما میں مروی ہے تو اس کی صحت میں کلام نہیں۔ اور جو لوگ اس حدیث کی دلیل سے مطلقا جمع کے جواز کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں جمع اس شرط سے جائز ہے کہ، عادت نہ ڈالے۔ فتح الباری میں ہے: اس کے قائلین میں سے ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ، ربیعہ رحمۃ اللہ علیہ، ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ اور قفال کبیر رحمۃ اللہ علیہ ہیں اور خطابی نے اہل حدیث کی ایک جماعت سے اس کو نقل کیا ہے۔ اور جمہور کہتے ہیں کہ جمع بلا عذر جائز نہیں، اور بحر میں بعض اہل علم سے بیان کیا ہے کہ، یہ اجماع ہے۔

حدیث جمع کی توجیہات:

اور اس حدیث جمع کے کئی جواب دئیے ہیں:

اول: کہ یہ جمع مرض کے سبب سے تھی اور امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو قوی کہا۔ اور حافظ (ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ) نے کہا، کہ اس میں نظر ہے۔ اس لئے کہ یہ اگر مرض سے ہوتی تو چاہئے تھا کہ اس نماز میں مریض کے سوا کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہ ہوتا، اور ظاہر یہ ہے کہ یہ اصحاب کے ساتھ تھا۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں اس کی تصریح کی ہے۔

دوم: کہ یہ جمع کرنا ابر میں تھا، جب ظہر ادا کر چکے تو ابر کھل گیا۔ سو معلوم ہوا کہ عصر کا وقت آ گیا تو عصر بھی پڑھ لی۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا یہ باطل ہے، کیونکہ اگر اس میں کچھ احتمال ہو سکتا ہے تو بھی وہ ظہر اور عصر میں ہے نہ کہ مغرب اور عشاء میں۔ (مسلم مع نووی طبع کراچی 1/245) لیکن حافظ نے کہا کہ، دوسرے میں احتمال کا نہ ہونا اس امر پر مبنی ہے کہ مغرب کا ایک ہی وقت ہے، حالانکہ مذہب مختار اس کے خلاف ہے، یعنی مغرب کا وقت عشاء کے وقت تک باقی رہتا ہے اور اس تقدیر پر احتمال قائم ہے۔

سوم: کہ یہ جمع صوری تھی کہ ظہر کو اخیر وقت میں اور عصر کو اول وقت میں ادا کیا۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ یہ احتمال ضعیف ہے یا باطل، اس لئے کہ ظاہر کے مخالف ہے۔ حافظ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: قرطبی نے اس احتمال کو پسند نہیں کیا، اور امام الحرمین نے اسے ترجیح دی۔ اور قدما میں سے ابن ماجشون رحمۃ اللہ علیہ اور طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے ساتھ جزم کیا اور امام ابن سید الناس رحمۃ اللہ علیہ نے اسے قوی کہا۔ اس لئے کہ ابو الشعثاء حسنی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ابن عباس سے روایت کیا وہ اسی کا قائل ہے۔

بدر تمام شرح بلوغ میں کہا: اس حدیث سے حضر میں جمع کے جواب پر حجت لینا جائز نہیں کیونکہ اس حدیث میں کوئی تعیین نہیں کہ جمع تاخیر مراد ہے یا جمع تقدیم، چنانچہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے بھی یہی ظاہر ہے اور دونوں میں سے ایک کو خود معین کر لینا تحکم ہے، سو اس سے اعراض واجب ہے۔

اور حدیث اوقات کو معذور اور غیر معذور کے لئے عام رکھنا واجب ہے، اور مسافر کی تخصیص اس لئے ہے کہ اس کا مخصص ثابت ہو گیا ہے اور یہی جواب اعتراض کو اصل سے اکھیڑنے والا ہے۔ اور جو کچھ صحابہ و تابعین سے مروی ہے وہ حجت نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اس مسئلہ میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔

راجح مذہب:

بعض حضرات نے اس کی تاویل جمع صوری سے کی ہے اور یہ تاویل درست اور متعین ہے، کیونکہ نسائی نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اصل حدیث میں اس کی تصریح کی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں:

صليت مع رسول الله صلي الله عليه وسلم بالمدينة ثمانيا جمعا وسبعا أخر الظهر وعجل العصر وأخر المغرب وعجل العشاء ([4])

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں آٹھ رکعت، ظہر و عصر، اور سات رکعت مغرب و عشاء کی جمع کر کے پڑھی، ظہر کو مؤخر کیا اور عصر کو معجل، مغرب کو مؤخر اور عشاء کو معجل کیا۔

پس خود ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جو اس حدیث کے راوی ہیں، گویا اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ یہ جمع صوری تھی۔ اور عجب ہے کہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اس تاویل کو ضعیف کہا اور مروی حدیث کے متن سے غافل رہے، اور جب ایک قصہ میں ہو، مطلق روایت میں مقید محمول ہوتا ہے جیسا کہ یہاں ایک ہی واقعہ میں ہے،۔ انتہی کلام البدر۔

اور سبل السلام شرح بلوغ المرام میں کہا: یہ کلام قوی ہے اور ہم نے اس کے قریب قریب اپنے رسالے "الیواقیت فی المواقیت" میں ذکر کیا۔ انتہی ([5])

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: یہ بات جمع صوری کی تقویت دیتی ہے کہ اس حدیث کے سب طرق میں وقت جمع کا کوئی ذکر نہیں، یا مطلق پر محمول ہو گی تو اس سے نماز کا وقت محدود سے نکال دینا لازم آتا ہے یا اس صفت مخصوص پر محمول کیا جائے جس سے نماز کا وقت سے نکالنا لازم نہیں آتا، اور متفرق احادیث کو اسی تاویل سے جمع کیا جائے تو اس لحاظ سے جمع صوری پر منطبق کرنا بہتر ہے۔ واللہ اعلم، انتہی

شوکانی نے دراری مضیہ میں کہا: اگر جمع صوری پر محمول کیا جائے تو درحقیقت جمع نہیں، اس لئے کہ ہر نماز اپنے وقت مقررہ میں پڑھی گئی، بلکہ صورت میں جمع ہے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ میں بغیر بارش ([6]) اور سفر کے جمع کرنے سے متعلق بعض روایات میں اس کی تصریح آئی ہے کہ یہ جمع صوری تھی۔ اور ہم نے ایک مستقل رسالہ میں اس کی توضیح کی۔

اور بلا عذر جمع کے جواز میں اختلاف ہے، اور حق یہ ہے کہ جائز نہیں اور وقت پر ادا کرنا واجب ہے، اس لئے کہ نماز وقت پر ادا کرنے کے بارے میں صحیح امر آ چکے ہیں اور غیر وقت محدود میں پڑھنے میں نہی وارد ہو چکی ہے۔ انتہی

نیل الاوطار میں ہے کہ: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث جمع صوری پر محمول کرنے کی تائید کرتی ہے جسے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے مؤطا میں، بخاری، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر وقت میں نماز پڑھتے نہیں دیکھا ماسوا مزدلفہ میں جہاں دو نمازیں، مغرب و عشاء جمع کیں اور اس دن کی فجر اپنے پہلے ہی (یعنی معتاد) وقت پر ادا کی۔

اس حدیث میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مطلق جمع کی نفی کی، اور مزدلفہ کی جمع میں حصر کیا۔ حالانکہ خود ابن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ میں جمع کرنے کی حدیث کے رواۃ میں سے ہیں۔ سو اس میں اس امر پر دلالت ہے کہ جو جمع مدینہ میں واقع ہوئی وہ صوری تھی اور اگر وہ جمع حقیقی ہیں تو دونوں روایتیں متعارض ہو جائیں گی، اور قاعدہ یہ ہے کہ جب تک جمع ممکن ہو اس کی طرف رجوع واجب ہے۔ اور اس کی مؤید ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس کو ابن جریر نے روایت کیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے تو ظہر کی تعجیل اور عصر کی تاخیر کر کے دونوں کو جمع کر لیتے اور اسی طرح مغرب میں دیر کر کے عشاء کو جلدی کر کے ان دونوں کو جمع کر لیتے اور یہ جمع صوری ہے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی انہیں حضرات میں سے ہیں جنہوں نے مدینہ میں جمع کرنے کو روایت کیا۔

چنانچہ مصنف عبدالرزاق نے یہ بات انہیں سے روایت کی، اور لفظ جمع سے جو معنی مراد ہیں یہ روایات اس کی تعیین کرتی ہیں، اس لئے کہ اصول میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ لفظ جمع بین الظہر والعصر دونوں کے وقتوں میں عام نہیں۔ چنانچہ مختصر المنتہی اور اس کی شرح غایت اور اس کی شرح وغیرہ اصول کی کتابوں میں ہے، بلکہ اس کا مدلول لغت کی رو سے ہئیت اجتماعیہ ہے اور یہ جمع تقدیم، جمع تاخیر اور جمع صوری میں موجود ہے، مگر یہ نہیں کہ یہ سب کو یا دو دو شامل ہو، کیونکہ فعل سب اقسام میں عام نہیں ہوتا، چنانچہ ائمہ اصول نے اس کی تصریح کر دی ہے۔ سو ان مذکورہ صورتوں سے ایک صورت  بلا دلیل متعین نہیں ہو سکتی اور یہ دلیل اس بات پر قائم ہے کہ جمع جو اس حدیث میں مذکور ہے وہ جمع صوری ہے تو اس کی طرف رجوع لازمی ہے۔ انتہی ([7])

اس کے بعد حافظ ابن حجر اور متاخرین کا بسط سے جواب دیا ہے (جنہوں نے کہا کہ جمع صورت شرع میں نہیں آئی اور راوی کا قول "لا يحرج امته" جمع صوری پر محمول کرنے سے مانع ہے) اس کے بعد کہا کہ: ان دلائل میں سے جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ متنازع فیہ جمع بلا عذر جائز نہیں۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

من جمع بين الصلوتين من غير عذر فقد أتي بابا من الكبائر ([8])

جس نے دو نمازوں کو بغیر عذر کے جمع کیا تو وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں داخل ہوا۔

اس کی اسناد میں حنش بن قیس ہے اور وہ ضعیف ہے اور انہی دلائل میں سے ترمذی کا قول سنن کے اخیر کتاب العلل میں ہے آلخ یعنی اس کتاب کی تمام روایات دو کے علاوہ معمول بہا ہیں۔ پھر شوکانی نے کہا کہ: تجھ پر مخفی نہ رہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ اور جمہور کے اس پر عمل نہ کرنے سے اس کی صحت میں تو کوئی نقصان نہیں مگر اس سے استدلال قائم نہیں ہو سکتا۔ اور بعض علماء نے اس پر عمل کیا ہے جو ذکر ہو چکا ہے اگرچہ ترمذی کے کلام سے یہ ظاہر ہے کہ: اس پر کسی نے عمل نہیں کیا لیکن دوسروں کی کلام سے بعض اہل علم کا عمل کرنا ثابت ہوتا ہے، مثبت نافی پر مقدم ہوتا ہے۔

سو اولی یہ ہے کہ اعتماد اس پر کیا جائے جس کو ہم نے پہلے ذکر کیا، یعنی جمع سے مراد جمع صوری ہے بلکہ اسی کا قائل ہونا لازمی ہے جیسا کہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں۔ اور ہم نے اس سے متعلق ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جس کا نام " تشنيف السمع بابطال أدلة الجمع " رکھا جو اس پر واقف ہونا چاہیے، اس کی طرف رجوع کرے۔

اور علامہ ابوالبرکات مجد الدین ابن تیمیہ حرانی رحمۃ اللہ علیہ نے المنتقيٰ ([9]) میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ کی حدیث کے بعد کہا:

میں کہتا ہوں: اس حدیث کے مفہوم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بارش، خوف اور مرض کے لئے جمع جائز ہے اور اس حدیث کے ظاہر منطوق پر باقی رہے گا اور مستحاضہ کے لئے جمع کے جائز ہونے میں صحیح حدیث وارد ہوئی ہے جبکہ مستحاضہ بھی ایک قسم کا مرض ہے۔ موطا میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے نافع سے روایت کیا کہ جب امیر بارش کی وجہ سے مغرب اور عشاء کو جمع کرتے تو ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ جمع کر لیتے۔ اور اثرم نے اپنی سنن میں ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت کیا کہ: یہ سنت سے ہے کہ بارش کے روز مغرب اور عشاء کو جمع کر لیا جائے۔ انتہی

حاصل کلام:

غرضیکہ اس باب کی احادیث کو جمع کرنے اور علماء کے مذاہب کی تتبع کے بعد یہ امر ثابت اور منقح ہوا کہ:

حضر میں بلا عذر جمع بین الصلوتین کرنا بالاجماع ناجائز ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو منقول ہے وہ جمع صوری پر محمول ہے، اور جن علماء نے حضر میں بلا عذر جمع کو جائز کہا ان کے نزدیک یہ شرط ہے کہ اس کو عادت نہ بنایا جائے۔ سو مذہب جمہور پر عمل کرنا ہی لازم و متعین ہوا۔ واللہ اعلم


[1] مسلم 1/491

[2] تحفۃ الاشراف 2/373۔ ترمذی 4/49۔ والبانی/1484۔ ابن ماجہ 2/859 فوائد عبدالباقی مصابیح السنہ 2/544۔ حاکم 4/373۔ کنز العمال 5/355

[3] فتح الباری 3/523۔ مسلم 1/490۔ نصب الرایہ 2/193

[4] مسلم 1/49، نسائی سلفیہ 1/69

[5] سبل السلام 2/44

[6] مسلم 1/246 موطا 1/144 نیل 3/249۔ 226

[7] نیل الاوطار 3/219

[8] حاکم 1/275، بیہقی 3/169 تمہید 5/77، طبرانی 11/172۔ (قال دارقطنى حنش هذا ابو على الرجى متروك) ابن کثیر 1/484۔ قال ترمذى وهو حنش بن وهو ضعيف عند اهل الحديث ضعفه احمد وغيره قال البخارى احاديثه منكره ولا يكتب حديثه۔ ترمذی احمد شاکر 1/356۔ امام شوکانی اس پر حدیث کو موضوع میں شمار کیا ہے۔ فوائد۔ 15 اور عقیلی نے ولہ غیر حدیث لا يتابع عليه ولا يصرف الابه۔ عقیلی 1/248۔

نصب الرایہ میں حنش بن قیس کے متعلق لکھا ہے کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے متروک اور ابن حبان نے ضعفاء میں شمار کیا ہے۔ نصب الرایہ 2۔196۔ ابن حبان 1/243 امام ذہبی نے میزان میں لکھا کہ حسین بن قیس۔ ابو علی و لقبہ حنش۔

قال ابو زرعہ و ابن معین ضعیف۔ و قال نسائی : لیس بثقۃ۔ قال مرۃ متروک۔ قال السعدى احاديثه منكره جدا ومن مناكيره عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنه تہذیب 2/264۔ المیزان 1/546) (جاوید)

[9] طبع پاکستان، لاہور ص 977، یہ کتاب اب 2 جلدوں میں ترجمہ کے ساتھ مکتبہ سلفیہ لاہور نے طبع کر دی ہے اس کے مترجم مولانا محمد داؤد راغب رحمانی م 1977ء مرحوم ہیں۔ (جاوید)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ نواب محمد صدیق حسن

صفحہ:376

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)