فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2453
(76) جو مکان شرعی مسجد بن جائے
شروع از بتاریخ : 16 February 2013 07:29 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

وہ جگہ جو نماز پڑھنے کے لیے وقف کر دی گئی ہو اور جس پر زمانہ دراز سے نماز پڑھی جاتی ہے۔ (یعنی وہ مسجد ہے) اس کو توڑ کر اس پر دکانیں بنوانا اور پھر ان دکانوں پر مسجد تعمیر کرنا مذہب اسلام میں جائز ہے یا نہیں، یہ دکانیں کرایہ پر دی جاتی ہیں، جس میں غیر مذہب کے لوگ خرید و فروخت کرتے ہیں۔

________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو مکان شرعی مسجد بن جائے اس پر دکانیں یا (سوائے سجدہ گاہ کے) اور کچھ بنانا جائز نہیں۔
﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۳۸۰)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 51
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)