فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 24526
(36) "خلق اللہ آدم علی صورتہ" کا مفہوم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 27 December 2017 09:37 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حدیث " خلق الله آدم علي صورته " کا کیا معنی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ حدیث بروایت حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بخاری کےكتاب الاستئذان باب بدء السلام اور مشکاۃ میں کتاب الادب، باب السلام میں ہے۔ صحیحین میں ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے:

خلق الله علي صورته طوله ستون ذراعا ([1])

یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ان کا قد ساٹھ گز تھا۔ اور اس حدیث کی مراد کی تعیین میں کئی اقوال ہیں۔

اول:

یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام کو آدم کی صورت پر پیدا کیا پہلے ہی ساٹھ گز کے قد سے نہ کر دوسروں کی طرح کئی اطوار میں، کہ پہلے صبی ہوتا ہے پھر طفل پھر مرد بن جاتا ہے۔ اور اس قول پر دہریہ کا مذہب باطل ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ انسان کا ہمیشہ دوسرے انسانوں کے نطفہ ہی سے پیدا ہوتا چلا آیا ہے۔

دوسرا:

یہ کہ ضمیر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور "صورت" صفت کے معنی میں ہے، یعنی انسان سننے والا، دیکھنے والا، بولنے والا، جاننے والا پیدا کیا، اور اپنا مظہر بنایا۔

تیسرا:

یہ کہ اضافت تعظیم کی وجہ سے ہے جیسے بیت اللہ اور روح اللہ کہتے ہیں کیونکہ ان کی ابتداء پہلے کسی مثال پر واقع نہیں ہوئی۔

چوتھا:

قول یہ کہ، یہ حدیث صفات میں سے ہے جس کی تاویل نہیں ہو سکتی۔

پانچواں:

یہ کہ ضمیراخ یا عبد کی طرف سے راجع ہے جیسا کہ ایک روایت میں ہے۔

اذا ضرب احدكم فليجتنب الوجه ([2])

یعنی جب کوئی تم سب سے اپنے بھائی کو مارے تو چہرے پر نہ مارے۔

چھٹا:

یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام کو ایسی صورت میں پیدا کیا کہ حیوان کی کوئی نوع اس صورت میں اس کی شریک نہیں۔ کیونکہ یہ کبھی علم، کبھی جہالت، کبھی نیکی اور کبھی گناہ کے ساتھ موصوف ہے۔

ساتواں:

یہ کہ عجیب شکل پر جمال و کمال سے پیدا ہوا اور پہلے اس کی کوئی مثال نہ تھی اسی لئے اس کو عالم صغیر کہتے ہیں کہ ہر مخلوق سے اس میں نمونہ ہے۔

آٹھواں:

یہ کہ خدا تعالیٰ کی صورت ہے، چنانچہ ایک روایت میں آیا ہے " علي صورة الرحمن " لیکن اہل الحدیث کے ہاں یہ روایت صحت کو نہیں پہنچتی اور اگر مان بھی لیں تو صورت سے مراد صفت ہو سکتی ہے۔

نواں:

یہ کہ صورت سے مراد شان اور حال ہو یعنی مسجود ملائکہ، حیوانات کا مالک اور ان پر قابو پانے والا بنایا۔ اور اس معنی پر کلام تمثیل و استعارہ پر مبنی ہے۔

تو متن حدیث کے لحاظ سے موزوں ترین وجہ اول ہے، اور اس کا مؤید لفظ ستون ذراعا ہے۔ اور دوسری وجہ بھی اس کے قریب قریب ہے اور باقی سب وجوہ تکلف سے خالی نہیں اور حدیث کا ظاہر اس سے انکار کرتا ہے۔


[1] مسلم 4/2182، فتح الباری 11/3 مصابیح 3/466

[2] مسند احمد 2/244 ابوداؤد 6314 مسلم 4/2016، ادب المفرد 74، مصابیح 2/558

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ نواب محمد صدیق حسن

صفحہ:352

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)