فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2450
(122) کیا مسجد کی جگہ پر مدرسہ بنانا جائز ہے یا نہیں
شروع از بتاریخ : 15 February 2013 11:02 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا ہے حکم شرع کا اس مسئلہ میں کہ مدت سے ایک مسجد میں نماز پڑھی جاتی ہے، اب اس کی چھت وغیرہ بوسیدہ ہو گئی ہے، دوبارہ اس کی تعمیر کرانا ہے تو کیا اس جگہ کو جہاں نماز پڑھی جاتی ہے مدرسہ کی صورت میں بنوا کر مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث جاری کرا دیا جائے اور اس کے اوپر مسجد بنا دی جائے ایسا کرنا شرعاًدرست ہے یا نا درست ہے؟

___________________________________________________________________

ایسا کرنا شرعاً درست ہے، قرآن و سنت کے ماہر پر مخفی نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے واقعہ سے جب مسجد قدیم بازار ہو گئی، کیا مدرسہ آسمانی تعلیم کے لیے نہیں بنا سکتے، برابر بنا سکتے ہیں۔
﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَ‌جٍ ۚ﴾، ﴿ يُرِ‌يدُ اللَّـهُ بِكُمُ الْيُسْرَ‌ وَلَا يُرِ‌يدُ بِكُمُ الْعُسْرَ‌ ﴾، ﴿إِنْ أُرِ‌يدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۚ﴾، ﴿فَمَنِ اتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)