فتویٰ نمبر : 24428
(2) حدیث اور عقل و درایت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 December 2017 03:36 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم چند احباب جو کہ یونیورسٹیوں کے تعلیم یا فتہ ہیں الحمد للہ اکثریت دین اداروں کی ہے۔ میں بعض دینی مسائل پر گفتگو ہو رہی تھی۔ موضوع بحث وہ حدیثیں جو موضوع اور گھڑی ہوئی ہیں اور جن کی وجہ سے اسلامی تعلیمات کی غلط تصویر بھرا کر سامنے آتی ہے۔ ہم دوستوں میں سے اکثر اس بات پر متفق تھے کہ ہمیں کسی بھی  حدیث کو قبول کرتے وقت اپنی عقل کا استعمال کرنا چاہیے جو حدیث عقل کی کسوٹی پر پوری اترے اسے قبول کر لینا چاہیے اور جو حدیث عقل کی روسے ناقبل قبول ہوا سے رد کر دینا چاہیے ہمارے بعض دوست اس رائے سے متفق نہیں تھے ان کا موقف یہ تھا کہ کسی بھی حدیث کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا معیار اس حدیث کی سند ہوتی ہے نہ کہ ہماری عقل ، اگر ہماری ناقص عقل کسی حدیث کو سمجھنے سے قاصر ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ہم اسے ضعیف اور موضوع قراردیں۔

آپ سے گزارش ہے  کہ آپ ہمیں حدیث کے صحیح اور معتبر ہونے کے رونما اصول اور ضوابط سے آگاہ کریں اور اس بات سے بھی کہ کسی حدیث کو قبول یا رد کرنے میں ہم اپنی عقل اور سمجھ کو کہاں تک استعمال کر سکتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نہایت خوش آیند بات ہے کہ ہماری نوجوان نسل اپنی مجلسوں میں دینی مسائل پر گفتگو کرتی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے  کہ دین اور مذہب ہی اس کا ئنات کا سب سے اہم موضوع ہے۔ اس لیے کہ اس پر ہماری اخروی اور لافنی زندگی کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر ضروری ہے کہ ہمارے جوان اور بوڑھے سب ہی دین کی اہمیت سے غافل نہ ہوں ۔ جب کبھی جمع ہوں تو دنیوی مسائل کے ساتھ ساتھ دینی امور پر بھی گفتگو کیا کریں۔ دینی مسائل پر گفتگو کرنا کوئی علمائے کرام کی جاگیر نہیں ہے بلکہ ہر مسلم پر فرض ہے کہ دین کے بارے میں اسے جتنا کچھ معلوم ہے اسے دوسروں کو بھی بتائے۔ تاہم یہ حقیقت بھی مسلم ہے کہ ہر شخص علمی باریکیوں کا ادراک نہیں کر سکتا اس لیے ضروری ہے کہ اہم اور دقیق علمی مسائل سے آگاہی کے لیے علاوہ مشائخ کی طرف رجوع کیا جائے۔ اللہ کا فرمان ہے:

﴿فَسـَٔلوا أَهلَ الذِّكرِ إِن كُنتُم لا تَعلَمونَ ﴿٧﴾... سورة الأنبياء

"پس علم والوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے ہو۔"

آپ نے جس اہم موضوع کے بارے میں سوال کیا ہے وہ یہ ہے کہ حدیث کے صحیح یا ضعیف ہونے کا معیار کیا ہے؟ اس کی سند یا اس کا متن یا دونوں چیزیں؟ یہ ایک خالص علمی موضوع ہے اور اس سلسلے میں تشفی بخش جواب صرف وہی عالم دین دے سکتا ہے جسے علم حدیث پر کامل دسترس حاصل ہو۔ یہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس موضوع کے تحت جید علمائے حدیث نے جو کچھ اب تک لکھا ہے اس کا خلاصہ میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔

علمائے حدیث نے صحیح حدیث کی مکمل اور جامع تعریف یوں کی ہے:"صحیح حدیث وہ ہے جس کی سند شروع سے آخر تک متصل ہو ایسے راوی کی روایت سے تو عدل ہواور جس کی یادواشت مکمل ہو اور حدیث شذوذ اور سقم سے پاک ہو۔"

عدل کا مفہوم یہ ہے کہ راوی نیک اور پرہیز گار شخص ہو جو اپنے اقوال و افعال میں اللہ سے ڈرتا ہو، جسے آخرت کا خوف ہو، جھوٹ اور فریب سے پاک ہو، گناہ کبیرہ کا ارتکاب اور گناہ صغیرہ پر اصرار نہ کرتا ہو۔ سند راویوں کی اس کڑی یا اس سلسلے کو کہتے ہیں کہ جو آخری راوی سے شروع ہوکر اس صحابی تک پہنچتی ہے جنھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا قول یا عمل بیان کیا ہے۔ سند کے متصل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ راویوں کی کڑی شروع سے آخر تک ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہو۔ اس سلسلے  کی کوئی کڑی درمیان سے غائب نہ ہو۔ حدیث کا شذوذ سے پاک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ حدیث کسی زیادہ معتبر راوی کی روایت سے مختلف نہ ہو۔ اور سقم حدیث کی سند یا اس کے متن کی اس باطنی کمزوری کو کہتے ہیں جسے صرف باریک بین عالم حدیث کی نظر ہی تلاش کر سکتی ہے۔

صحیح اور ضعیف حدیث کے درمیان تمیز کرنے کے لیے سب سے پہلے جس چیز پر نظر کی جاتی ہے وہ حدیث کی سند ہے۔ چنانچہ حدیث کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ حدیث کی سند متصل ہو اور اس سند کے تمام راوی عدل ہوں۔ اس لیے ان میں سے فرد افراد ہر ایک راوی کی مکمل شخصیت سے واقفیت ضروری ہے ۔ کسی صحابی کے عدل ہونے کے لیے اس کا صحابی ہونا کافی ہے۔کیوں کہ قرآن و حدیث کے مطابق تمام صحابہ کرام عدل ہیں۔ سند کی کڑی میں کسی ایک راوی کا ضعیف ہونا پوری حدیث کو ضعیف بنا دیتا ہے خواہ اس کے علاوہ باقی روایت کرنے والے مکمل عدل ہوں۔ خواہ یہ راوی اپنے اخلاق و کردار کی وجہ سے ضعیف ہو یا یا داشت کی کمزوری کی وجہ سے۔ اگر حدیث کی سند متصل نہ ہو اور راویوں کی کڑی میں سے کسی ایک راوی کا نام غائب ہو تو ایسی حدیث ضعیف قراردی جاتی ہے۔

عام طور پر علمائے حدیث کا یہ مسلک رہا ہے کہ صحیح اور ضعیف حدیث میں تمیز کی خاطر انھوں نے حدیث کے متن (مضمون کے مقابلے میں سند )پر زیادہ توجہ دی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انھوں نے متن کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دی جیسا کہ بعض حضرات سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علمائے حدیث نے محض حدیث کے متن اور مضمون کے ناقابل قبول ہونے کی  وجہ سے بے شمار حدیثوں کو ضعیف اور موضوع قراردیا ہے متن اور مضمون کی بنیاد پر کسی حدیث کو ضعیف قراردینے کی درج ذیل صورتیں ہو سکتی ہیں۔

1۔حدیث کا مضمون بیہودہ اور لایعنی باتوں پر مشتمل ہو۔ مثلاًیہ حدیث کہ" بیگن ہر بیماری کا علاج ہے"یا یہ حدیث کہ"اول کی قدوسیت سترنبیوں کی زبان پر ہے" ظاہر ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبان سے اس طرح کہ لایعنی اور لغو باتیں نہیں نکل سکتیں

2۔ حدیث صریح عقل کے خلاف ہواور اس میں کسی ایسی بات کا تذکرہ ہو جیسے عقل سلیم قبول کرنے سے انکار کرے۔

3۔ حدیث میں کوئی ایسی بات ہو جو قرآن اور دوسری صحیح احادیث سے ثابت شدہ اصول کے خلاف ہو۔

4۔ حدیث میں کسی ایسی بات کا ذکر ہو جو تجربہ کے ذریعے ثابت اور مسلم حقیقت کے خلاف ہو۔

5۔حدیث کسی ثابت شدہ تاریخی حقیقت سے مختلف ہو۔

علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں" کسی نے خوب کہا ہے کہ جب تم کسی حدیث کو عقل سلیم یا قرآن وسنت کی اصولی باتوں کے خلاف پاؤ تو جان لو کہ یہ حدیث من گھڑت ہے۔" اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح حدیث کی سند پر بحث و تحقیق ضرورہے اسی طرح حدیث کے متن اور مضمون پر بھی تحقیق ضروری ہے تاکہ وہ حدیث جسے عقل سلیم قبول نہ کرے یا قرآن و سنت کی اصولی باتوں سے ٹکراتی ہو اسے ضعیف قراردیا جا سکے۔ تاہم عقل کی بنیاد مضمون کو قبول یا رد کرنے کی عظیم الشان ذمے داری صرف ماہر علمائے حدیث ہی انجام دے سکتے ہیں۔ یہ کسی صورت میں مناسب نہیں ہے کہ ہر شخص کسی بھی حدیث میں اپنی عقل کے گھوڑے دوڑائے اور اس کی عقل اس حدیث کو قبول نہ کرتی ہو تو اسے ماننے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ بسااوقات بعض حضرات اپنی ناقص عقل کی بنیاد پر کسی صحیح اور معتبر حدیث کو ضعیف قراردینے میں نہایت جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن تحقیق کے بعد پتا چلتا ہے کہ ان حضرات کی اپنی عقل ہی ناقص ہے ورنہ حدیث میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے عقل سلیم قبول نہ کرسکے۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ حدیث میں کسی ایسی بات کا تذکرہ ہوتا ہے جس کا وقوع پذیر ہوتا ظاہر نا ممکن اور محال نظر آتا ہے اور اس بنا پر بعض ناقص العقل حضرات اس حدیث کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ جس بات کو ناممکن اور محال سمجھ رہے ہوتے ہیں عقلاً وہ چیز نا ممکن اور محال نہیں ہوتی ۔

بعض لوگ کسی صحیح اور معتبر حدیث کو اس لیے ماننے سے انکار کر دیتے ہیں کہ یہ کسی ثابت شدہ سائنسی حقیقت کے خلاف ہے۔ حالانکہ وہ جس سائنسی حقیقت کو ثابت شدہ اور مسلم سمجھ رہے ہوتے ہیں کچھ سالوں کے بعد پتاچلتا ہے کہ حقیقت یہ نہیں بلکہ اس کے برعکس ہے۔( جیسا کہ پہلے سائنس دانوں کا دعوی تھا کہ سورج حرکت نہیں کرتا ہے اور اپنی جگہ ساکت ہے یہ نظر یہ قرآن کے نظریہ کے خلاف ہے۔چند سالوں کے تجربہ کے بعد سائنس دانوں نے اپنے پہلے نظر یے کو غلط قراردیتے ہوئے قرآنی نظریہ کی تصدیق کردی کہ سورج متحرک ہے۔)

کہ ڈارون کے نظریے کو پہلے ایک سائنسی حقیقت حاصل تھی۔ بعد میں خود سائنس دانوں نے اسے ٹھکرادیا۔ بعض لوگ کسی صحیح اور معتبر حدیث کو اس بنا پر رد کردیتے ہیں کہ حدیث کسی قرآنی آیت یا کسی اور صحیح حدیث کے خلاف ہے۔ حالانکہ غور کیا جائے تو ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔سارا قصور ان حضرات کےاپنے ناقص فہم کا ہوتا ہے۔

علامہ  ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ  سے دریافت کیا گیا کہ متن اور مضمون کی بنیاد پر کیا کسی حدیث کو ضعیف قراردیا جا سکتا ہے؟ کیا اس کے کچھ اصول و قواعد ہیں؟ آپ نے فرمایا"یہ ایک عظیم سوال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ متن کی بنیاد پر کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف قراردینے کا حق دار صرف وہی عالم حدیث ہے جس کے گوشت پوست میں حدیث کا ادراک رچ بس گیا ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت طیبہ اور ان کی تعلیمات پر اس کی گہری نظر ہو اور سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی پسند و ناپسند اور ان رجحانات و میلانات کا ایسا شعور ہو کہ وہ کسی حدیث کو محض سن کر یہ فیصلہ کردے کہ یہ بات اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبان مبارک سے صادر ہو سکتی ہے یا نہیں۔"اس کے بعد علامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ  نے چند ضعیف احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عالم حدیث ان احادیث کے مضمون کو پڑھ کر بہ خوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہ احادیث من گھڑت ہیں۔ مثلاً یہ حدیث کہ"جس نے سبحان اللہ و بحمد اللہ کہا اللہ اس کے لیے جنت میں کھجور کے ایسے کروڑوں درخت لگائے گا جن کی جڑیں سونے کی ہوں گی ۔"اس طرح کی من گھڑت حدیثوں کو بیان کرنے کے بعد علامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ  نے ضعیف اور موضوع احادیث کو سمجھنے کے لیے چند اصول اور ضوابط بنائے ہیں وہ یہ ہیں۔

حدیث کا ایسی مبالغہ آرائیوں پر مشتمل ہونا جن کا تذکرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبان مبارک کو زیب نہیں دیتا ۔ اور اس طرح کی حدیثیں بے شمار ہیں مثلاً یہ حدیث کہ " جس نے لاالٰہ الا اللہ کہا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کلمہ طیبہ کے عوض ایک ایسا پرندہ تخلیق کرے گا جس کی ستر ہزار زبانیں ہوں گی۔ ہر زبان کی ستر ہزار بولیاں ہوں گی جو اس بندے کے لیے دعائے مغفرت کریں گی۔ اور جس نے فلاں فلاں کام کیے اسے جنت میں ستر ہزار شہر دیے جائیں گے۔ ہر شہر میں ستر ہزار محل ہو گے اور ہر محل  میں ستر ہزار حوریں ہوں گی ۔"اس طرح کی جھوٹی احادیث وضع کرنے والے یا تو غایت درجہ جاہل لوگ ہوتے ہیں یا پھر ان کا مقصد اہانت رسول ہوتا ہے۔ نعوذ باللہ من ذلک ۔

2۔حدیث میں ایسی باتوں کا تذکرہ جو تجربہ اور مشاہدہ سے ثابت شدہ حقائق کے خلاف ہیں ۔ مثلاً یہ حدیث کہ" بیگن ہر مرض کی دوا ہے" یا یہ حدیث کہ"بات کرنے کے دوران جب کوئی شخص چھینکے تو یہ اس کے سچ ہونے کی علامت ہے"یا یہ حدیث کہ "دال کھایا کرو کیوں کہ دال دل کو نرم بناتی ہے اور آنسو میں اضافہ کرتی ہے"ظاہر ہے کہ یہ تمام حدیثیں من گھڑت اور حقیقت و تجربہ کے خلاف ہیں اس لیے کہ نہ تو بیگن ہر مرض کی دوا ہے (بلکہ یہ بہ ذات خود بہت ساری بیماروں کا سبب ہے) اور نہ چھینک ہی سچائی کی علامت ہے کیوں کہ یہ بات ہمارے آئے دن کے مشاہدے میں آتی رہتی ہے۔ کہ بہت سارے جھوٹےلوگ بھی بات کے دوران چھینکتے ہیں۔

3۔ حدیث میں ایسی باتوں کا تذکرہ جو لوگوں کے مذاق اور استہزاء کا موضوع بن جائیں مثلاً یہ کہ " اگر چاول آدمی کی شکل کا ہو تا تو بڑا نرم دل ہوتا اسے جو بھی کھاتا شکم سیرہو جاتا وغیرہ اس قسم کی مضحکہ خیز باتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا کلام نہیں ہو سکتیں۔

4۔حدیث میں ایسی باتوں کا تذکرہ جو قرآن اور سنت مطہرہ کی واضح تعلیمات کے خلاف ہوں چنانچہ ہر وہ حدیث جو ظلم و فساد یا لغو باتوں پر مشتمل ہو صحیح حدیث نہیں ہو سکتی ۔ اسی طرح وہ حدیث جو باطل کی مدح سرائی کرے یا حق کو جھٹلائے صحیح حدیث نہیں ہو سکتی۔ مثلاً یہ حدیث کہ" جس نے محمد احمد نام رکھا وہ جہنم میں نہیں جا سکتا۔"

اس حدیث کے من گھڑت ہونے میں کوئی  شک نہیں ہو سکتا اس لیے کہ قرآن و حدیث کی واضح تعلیمات کے مطابق صرف نام اور القاب کی بنا پر جہنم سے نجات نہیں مل سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ایمان اور نیک اعمال ضروری ہیں۔ اس جیسے بے شمار من گھڑت احادیث ہیں جن میں چھوٹی چھوٹی نیکیوں پر جہنم سے نجات کی خوش خبری سنائی گئی۔ہے۔ یہ بات اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

5۔وہ حدیث جو باطل ہو مثلاً یہ حدیث کہ"آسمان میں کہکشاں اس سانپ کی رگ ہے۔ جو عرش کے نیچے رہتا ہے ۔"اور یہ حدیث کہ"اللہ جب غصہ کی حالت میں ہو تا ہے تو فارسی میں وحی نازل کرتا ہے اور جب خوش ہو تا ہے تو عربی میں نازل کرتا ہےوغیرہ۔"

6۔ حدیث میں ایسی بات ہو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے شایان شان نہ ہو۔ مثلاً یہ حدیث کہ" تین چیزیں آنکھ کی روشنی بڑھاتی ہیں ہریالی کی طرف دیکھنا ، بہتے ہوئے پانی کو دیکھنا اور خوبصورت چہرے کو دیکھنا۔"

7۔جس حدیث میں یہ دعوی ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی موجودگی میں کوئی بات کہی یا کوئی کام کیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے متفقہ طور پر اسے لوگوں سے پوشیدہ رکھا ہو۔ مثلاً یہ حدیث کہ"حضور صلی اللہ علیہ وسلم  حجۃ الوداع سے واپسی کے موقع پر علی ابن ابی طالب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے پاس تشریف لائے اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو لوگوں کے سامنے کھڑا کیا تاکہ سارے لوگ انھیں پہچان جائیں اور فرمایا کہ یہ میرا بھائی اور وارث ہے اور میرے بعد یہی میرا خلیفہ ہے۔ تم اس کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا" صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی یہ بات سنی لیکن متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ یہ بات لوگوں سے پوشیدہ رکھنی چاہیے۔

8۔جس حدیث میں علاج و معاملے سے متعلق خلاف عقل باتیں ہوں۔ مثلاً یہ حدیث کہ "جبریل  علیہ السلام  میرے پاس جنت سے ہدیہ لے کر آئے جب میں نے اسے کھایا تو مجھے ہمبستری کے لیے چالیس مردوں کی قوت عطا کی گئی "یا یہ کہ"مومن شیریں ہوتا ہے۔اور شیرینی پسند کرتا ہے۔

9۔جس حدیث میں دن اور تاریخ کی تحدید کے ساتھ کوئی بات کہی گئی ہو مثلاً یہ کہ جب محرم کے مہینے میں چاند گرہن ہوتا ہے تو مہنگائی بڑھتی ہے اور جنگیں ہوتی ہیں۔"

10۔جس حدیث میں پھوہڑ اور بھدی زبان استعمال کی گئی ہو۔ مثلاً یہ کہ "چار چیزیں چار چیزوں سے شکم سیر نہیں ہوتیں۔ عورت مرد سے زمین بارش سے آنکھ دیدارسے اور کان اخبار سے ۔ اسی طرح وہ احادیث جن میں حبشیوں اور کالوں کی مذمت ہو صحیح حدیث نہیں ہو سکتیں۔ مثلاً یہ کہ" حبشی جب شکم سیر ہو تا ہے تو زنا کرتا ہے اور جب بھوکا ہو تا ہے تو چوری کرتا ہے اسی طرح وہ تمام احادیث جن میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے فضائل کے بیان میں مبالغہ آرائی ہو صحیح احادیث نہیں ہو سکتیں۔ مثلاً یہ کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کے لیے جلوہ افروز ہو گا اور ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے لیے خصوصی طور پر یا یہ کہ "اگر میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے فضائل عمر نوح تک بیان کروں تو یہ فضائل ختم نہیں ہوں گے۔ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  تو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہیں۔"

اس پوری تفصیل کے بعد یقینی طور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ علمائےحدیث  نے جس طرح احادیث کی سند میں بے انتہا بحث و تحقیق کی ہے اسی طرح انھوں نے احادیث کے متن اور مضمون کی طرف بھی خاطر خواہ توجہ دی ہے۔ یہ کہنا غلط ہو گا کہ کسی بھی حدیث کو قبول کرنے اور اسے صحیح اور معتبر ماننے کے لیے صرف اس کی سند کا مذکورہ معیار کے مطابق ہو نا کافی ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ سند کی طرح اس کا مضمون بھی قابل اعتراض نہ ہو۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی یوسف القرضاوی

قرآن اور حدیث،جلد:2،صفحہ:17

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)