فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2441
(64) فاحشہ عورت کے پیسے سے مسجد بنوانے کا حکم
شروع از بتاریخ : 14 February 2013 05:11 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ ایک مسجد بہت مدت سے گری ہوئی ہے تو اس جگہ ایک فاحشہ زانیہ عورت زنا کے مال سے اس حیلہ کے ساتھ مسجد تیار کراتی ہے کہ روپیہ کسی مسلمان یا ہندہ سے بغیرسود کے قرض لیوے بعد ازاں قرض مذکور کو اپنے حرام کے روپیہ سے ادا کرے کیا یہ جائز ہے یا نہ اور ایسی مسجد تیار شدہ میں نماز گزارنی بلا کراہت تحریمی جائز ہو گی یا نہ اور اس مسجد میں پانچوں نمازوں کے ادا کرنے کا ثواب دوسری مسجدوں میں جو پاک اور حلال مال سے بنائی گئی ہیں ادا کرنے کے برابر ہو گا یا نہ اور بنانے والے کو ثواب آخرت مرتب ہو گا یا نہ اور ایسی مسجد کو جو عورت مذکورہ نے بنائی ہے گرا کر اس کے بدلہ میں پاک و حلال مال سے اس جگہ میں مسجد نبائی جاوے یا نہ

___________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 اگر لباس کا کچھ حصہ یا سارا لباس ناپاک ہو تو اس میں نماز جائز نہیں اسی طرح اگر مسجد کا کچھ حصہ یا ساری مسجد حرام مال سے بنائی ہو تو وہ حکم مسجد کا نہیں رکھتی امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے عبد اللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ جس نے دس درہم کا کوئی کپڑا خریدا اور ان میں ایک درہم حرام کا ہے اور جب تک وہ کپڑا اس پر رہے گا اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرے گا پھر عبد اللہ بن عمر نے اپنے کانوں میں انگلیوں کو داخل کر کے کہا کہ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حدیث فرماتے ہوئے نہ سنا ہو تو خدا کرے یہ دونوں کان بہرے ہو جاویں اور اس مسجد کے بنانے والے کو کچھ ثواب نہیں بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے۔ کہ اللہ پاک ہی قبول نہیں مگر پاک کو اور چونکہ وہ مسجد حکم مسجد کا نہیں رکھتی تو اس میں نماز پڑھنا دوسری پاک مسجدوں میں نماز پڑھنے کے برابر کیونکر ہو گا اور اس مسجد کو گرا کر حلال مال سے اس کی تعمیر کرانا مصداق جاء الحق وزهق الباطل (ترجمہ: حق آگیا اور باطل مٹ گیا) کا ہو گا اور حیلہ سازی سے حرام کو حلال کرنا موجب غضب الٰہی کا ہے جیسا کہ اللہ عزوجل کا اصحاب السبت پر غضب نازل ہوا تو ان کو بندر بنا دیا اور جو شاہ عبد العزیز صاحب دہلوی اور مولوی عبد الحی صاحب لکھنوی کا اس بارہ میں فتویٰ ہے وہ اس پر محمول ہے کہ وہ قرض مال حرام سے فائدہ اٹھانے کے واسطے حیلہ نہ ہو بلکہ بوجہ نہ موجود ہونے مبلغات کے کسی سے قرض لیا ہو اتفاقاً وہ قرض مال حرام سے ادا کرنا پڑے نہ یہ کہ مال حرام سے فائدہ اٹھانے کی نیت سے (اس قرض کو) حیلہ بنا دے ۔ فقط واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 41

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)