فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2439
سود پر قرضہ لے کر مسجد بنانا اور اس مسجد میں نماز کا حکم
شروع از بتاریخ : 14 February 2013 05:08 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سود پر قرضہ لے کر مسجد پر لگانا جائز ہے یا نہیں اور اُس مسجد میں نماز جائز ہے یا نہیں اور وہ مسجد، مسجد تصور کی جاوے یا نہ ایسا مال لگانے والے کو ثواب ہے یا نہیں ایسا قرضہ اتارنے کو چندہ دینا ثواب ہے یا نہ، مسجد کے واسطے چندہ کرنا جائز ہے یا نہ، ایسی مسجد گرا دینی کیسی ہے؟

__________________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نماز ایسی مسجد میں بعض علما کے نزدیک جائز اور بعض کے نزدیک ناجائز ہے مگر یہ اتفافی مسئلہ ہے کہ مسجد مذکور مسجد کا حکم نہیں رکھتی اور نہ ایسی مسجد میں مال لگانے والے یا چندہ دینے والے کو ثواب ہے مسجد ے واسطے عند الضرورت سوال کرنا جائز ہے مگر مسجد مذکور کے لئے درست نہیں کیوں کہ وہ مسجد ہی نہیں ایسی مسجد کو اس نیت سے کہ مال حلال سے بنائی جاوے مسمار کرنا جائز ہے۔ (حررہ عبد الجبار بن عبد اللہ الغزنوی عفی عنہما۔ (فتاویٰ غزنویہ ص۱۹)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 40

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)