فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2437
ہندوؤں کے کسی مذہبی امور میں چندہ وغیرہ سے امداد کرنا جائز ہے یا نہیں
شروع از بتاریخ : 14 February 2013 05:06 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا اہل اسلام اہل ہنود کے کسی اور مذہبی امور میں ان کی امداد کے لیے کچھ چندہ وغیرہ دے سکتے ہیں، یہاں ایک قریہ میں اہل ہنود بہ تعداد کثرت آباد ہیں اور وہ مندر کی تعمیر کے تحت میں مسلمانوں سے بھی چندہ طلب کرتے ہیں تو کیا ازروئے شریعت چندہ دینا جائز ہے، خصوصاً ایسی صورت میں جبکہ اہل ہنود کی کثرت کی وجہ سے آئندہ ناجائز سلوک کا خطرہ ہو۔

____________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہندوؤں کے مذہبی امور عموماً شرکیہ و کفریہ ہوتے ہیں پس ان کے کسی مذہبی امور میں چندہ وغیرہ سے امداد کرنا جائز نہیں ہے، مندر کی تعمیر میں چندہ سے امداد کرنا تو شرک و کفر اور بت پرستی کی صراحۃً اعانت و حمایت ہے جو قطعاً حرام ہے، ارشاد ہے۔
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ‌ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ ﴾ (قرآن کریم)
اکثریت کی طرف سے آئندہ موہومی ناجائز سلوک کے اندیشہ اور خطرہ کی بنا پر شریعت نے شرک و بت پرستی معصیت اور اثم و عدوان کی اعانت و حمایت کی اجازت نہیں دی ہے، ایمان عزیز ہے اور آپ مومن کامل ہیں تو ان موہومی خطرات کو خاطر میں نہ لائیے۔
﴿أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(عبید اللہ رحمانی،     محدث دہلوی جلد نمبر ۸ ش نمبر ۴)
مال حرام سے مسجد کی تعمیر کرنا:
تعمیر مسجد مع خرید زمین اس کے مال حرام سے خواہ مال کسی سے ہو یا مال مغنی و مغنیہ و رشوت وغیرہ سے ہو جائز نہیں ہے کیوں کہ مال حرام اشخاص مذکورین کا حکم مال مغصوب میں ہے اور زمین تعمیر کی موجب ثواب نہ ہو گا ، بلکہ نماز ایسی مسجد میں مکروہ ہے نزد ائمہ ثلاثہ کے اور نزدیک امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نماز زمین مغصوب میںجائز ہے۔ چنانچہ مسلم الثبوت و شرح مولانا عبد العلی بحر العلوم وغیرہ میں مذکور ہے اور جو مسجد مال حلال سے پہلے تیار ہوئی اور بعدہٗ مال حرام سے حاجت مرمت کی پڑی اور مال حرام سے مرمت ہوئی تو مال حرام کا مسجد میں لگانا ممنوع ہے اور نماز اس میں مکروہ نہیں کیوں کہ اراضی مسجد مال حرام سے نہیں خرید ہوئی۔ وکسب ولمغنیة وغیرہ فی حکم المال المغصوب کذا فی النھایة وغیرہ من کتب الفقه۔
(سید نذیر حسین (فتاویٰ نذیریہ قلمی)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 39

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)