فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2435
(58) متروکہ مسجد کا حکم
شروع از بتاریخ : 14 February 2013 05:03 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کسی بستی میں مدتوں سے دو جامع مسجدیں آباد تھیں، فی الحال کسی خاص وجہ سے دونوں مسجدوں کو اکٹھی کرنے کی ضرورت ہوئی اور ایک مسجد کو چھوڑ کر سب مصلیان دوسری مسجد میں جمعہ و جماعت کرنا شروع کر دیتے ہیں، اب سوا یہ ہے کہ متروکہ مسجد کی زمین کو کیا کیا جائے؟ آیا وہ مسجد ہی کے حکم میں رکھی جائے؟ یا دوسرے زمین کے حکم میں شامل کی جائے؟

___________________________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!


جواب:… مسجد مسجد ہی رہے گی، ایک کو جامع مسجد بنا دیں، دوسری مسجد میں نماز پنجگانہ صرف پڑھی جائے، مسجد کو دیگر ضروریات کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا، اگر متروکہ مسجد بستی سے دور ہو تو وہ بھی عبادت کے لیے کھلی رہنی چاہیے۔  (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۳۲۸)

 

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 50۔51
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)