فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2433
ہندوؤں اور عیسائیوں سے مسجد کے لیے چندہ لینا
شروع از بتاریخ : 14 February 2013 02:13 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہندوؤں و عیسائیوں سے مسجد کے لیے چندہ لینا اور اس سے مسجد تعمیر کرنا جائز ہے یا نہیں؟

___________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کافر اور مشرک کے روپیہ سے مسجد بنانا ناجائز ہے۔ ان کا روپیہ مسجد میں نہیں لگ سکتا۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿مَا كَانَ لِلْمُشْرِ‌كِينَ أَن يَعْمُرُ‌وا مَسَاجِدَ اللَّـهِ
(اہل حدیث گزٹ دہلی جلد نمبر ۹، ش نمبر ۱۱)
تعاقب:… اہل حدیث گزٹ ۱۰ رجب المرجب     ء رواہ کے پرچہ میں بجواب سوال نمبر ۱۷۱ ہندوؤں اور عیسائیوں سے مسجد کے لیے چندہ وغیرہ لے کر ان کا روپیہ مسجد پر لگانے کو ناجائز قرار دیا ہے، اس کے متعلق گذارش ہے کہ مجموعہ فتاویٰ حضرت مولانا مولوی عبد الجبار صاحب مرحوم غزنوی کے ص ۱۶ میں ہے۔
’’جو مسجد کہ بنا کردہ کافروں کی ہیں، جو راجائوں نے اپنی رعایا کے لیے بنوائی ہیں اور علماء عوام الناس سب ان مسجدوں میں نماز پڑھتے ہیں۔ بیت اللہ شریف اگرچہ بناکردہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تھا، مگر کئی بار گر گیا تھا، حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی کافروں نے بنوایا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نماز پڑھتے تھے۔‘‘ انہیں دلائل کے ساتھ اخبار اہل حدیث امر تسر میں یہ مضمون کئی بار چھپ چکا ہے۔ اس مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار وغیرہ کا روپیہ مساجد پر لگانا جائز ہے، اگر ناجائز ہوتا تو حضور علیہ السلام و صحابہ کرام و ائمہ عظام بیت اللہ شریف میں نمازیں نہ پڑھتے، اور وہ مسجد، مسجد کا حکم نہیں رکھتی، اگر ان کی تعمیر ناجائز ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم از سر نو تعمیر بیت اللہ شریف ارشاد فرماتے جیسا کہ حدیث مائی عائشہ رضی اللہ عنہ میں فرمایا ہے کہ اگر تیری قوم نئے عہد والی نہ ہوتی تو میں بیت اللہ شریف کے دو دروازے اور حطیم کو بیت اللہ میں شامل کر دیتا، لہٰذا فریق ثانی کے دلائل مذکورۂ بالا کے جوابات سے مستفیض فرمائیں۔
مفتی:… قرآن مجید میں ارشاد ہے۔
﴿مَا كَانَ لِلْمُشْرِ‌كِينَ أَن يَعْمُرُ‌وا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ‌ ۚ
’’یعنی مشرکوں کو حق نہیں ہے کہ اللہ کی مسجدوں کی تعمیر کریں، جب تک وہ اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔‘‘
اس آیت سے ہمارا مدعا ثابت ہے کہ کسی کافر کا روپیہ مسجد میں نہیں لگایا جا سکتا، کتب تفاسیر میں اس مسئلہ کو اچھی طرح محقق کیا گیا ہے۔ باقی رہا یہ عذر کہ خانہ کعبہ کو کفار مکہ نے زمانہ جاہلیت میں اپنے مال سے بنایا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نماز و طواف ادا فرماتے رہے، اس کا جواب یہ ہے کہ تعمیر مذکور قبل زمانہ نبوت تھی، اس وقت کوئی بھی احکام الٰہی موجود نہ تھے۔ آیت مذکورہ کے نزول سے قبل کا واقعہ ہے، اس وقت تک یہ ممانعت وارد نہ ہوئی تھی، اس لیے آپ نے ان کی بنا کو قائم رکھا، ایسے بہت سے واقعات آپ کو ملیں گے کہ اسلام میں منع ہے مگر چونکہ زمانہ جاہلیت میں ہو چکے تھے اس لیے اسلام میں ان کو برقرار رکھا گیا، جیسے کفر کے زمانہ کے نکاح بیع و سرا علماء و محققین کل متفق ہیں۔ کہ کافر کا مال مسجد میں نہیں لگ سکتا، حضرت مولانا نذیر حسین صاحب محدث دہلوی اپنے فتاویٰ نذیریہ میں لکھتے ہیں، جس مسجد کو کافر بنائے وہ مسجد نہیں ہو سکتی الخ ۔ (فتاویٰ نذیریہ جلد اول )
واللہ اعلم   
(محمد یونس مدرس مدرسہ میاں صاحب دہلی     اہل حدیث گزٹ دہلی جلد نمبر ۹ ، ش نمبر ۱۵)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 37۔38

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)