فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2431
(103) مسجد کے اوپر رہائش اور جوتوں کی فیکٹری اور وضو خانہ وغیرہ کا حکم
شروع از بتاریخ : 14 February 2013 02:09 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 مسجد کے جنوب میں مسجد کی ایک بڑی دوکان ہے، اس کو ایک چمار نے کرائے پر لے کر اس میں جوتوں کی فیکٹری لگا رکھی ہے، اس کے اوپر ایک تیسری منزل ہے اس میں وضو خانہ و غسل خانہ اور مؤذن کا حجرہ ہے، اس کے اوپر ایک تیسری منزل ہے، اس پر ایک مکان بنا ہوا ہے اس میں امام صاحب مع بیوی بچوں کے رہتے ہیں، ایک شخص امام صاحب کے سر ہو رہا ہے کہ آپ بیوی بچوں کو اس میں نہ رکھیں، اس جگہ گھر داری درست نہیں ہے، اما م صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مسجد تھوڑی ہے کہ اس پر گھر داری منع ہو، لہٰذا آپ تحریر فرما دیں کہ آپ صاحب کا یہ کہنا درست ہے یا نہیں؟

______________________________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسجد کی دوکان مسجد کے حکم سے خالی ہے جب چمار  دکان کے اندر جوتے بناتا ہے اور اس کے اوپر غسل خانے میں لو گ نجاست دھوتے ہیں، تو اس کے اوپر امام صاحب گھر بار رکھ سکتے ہیں، ممانعت کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔
محمد یونس ، مدرس مدرسہ حضرت میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ، اہل حدیث گزٹ دہلی جلد نمبر ۸، ش نمبر ۲۰

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)