فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 24274
(29) رضا مندی کی تقسیم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 30 November 2017 11:50 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رضا مندی کی تقسیم


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسی تقسیم جس میں تمام شرکاء کا متفق ہونا ضروری ہو ان کی رضامندی کے بغیر تقسیم جائز نہ ہوگی۔ ایسی تقسیم میں بعض دفعہ کسی کو تھوڑا بہت نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کسی کو مشترک چیز میں اس کے حصے کے بدلے میں معاوضہ لینا یا دینا پڑتا ہے۔ ایسی تقسیم عموماً وہاں ہوتی ہے جہاں چھوٹے مکان یا تنگ دکانیں ہوں یا ایسی زمین جس کے حصے عمارت یا درختوں کی وجہ سے مختلف ہوں یا ایک حصے دار کسی خاص حصے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہو۔

ایسی مشترک شے کی تقسیم میں تمام شرکاء کا اتفاق اور ان کی رضا مندی لازمی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے۔

"لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ "

"نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان اٹھاؤ۔"[1]

روایت کے عمومی الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ جس تقسیم میں تھوڑا بہت نقصان برداشت کرنا پڑے اس میں تمام شرکاء کی رضامندی ضروری ہے۔

یہ تقسیم ایسی بیع کے حکم میں ہےجس میں شے کو کسی عیب کی وجہ سے واپس کر دیا جاتا ہے اور جس میں خیار مجلس یا شرط وغیرہ بھی داخل ہو۔ اگر کوئی تقسیم کو قبول نہ کرے تو اس پر زبردستی بھی نہیں کی جا سکتی البتہ اگر کوئی ایک شریک  مشترک شے کو بیچنے کا مطالبہ کرے تو اس شے میں شریک دوسرے شخص کو بھی شے کی فروخت پر آمادہ کیا جائے گا۔اگر کوئی انکار کردے۔ تو قاضی اس شے کو خود فروخت کرے گا اور اس کی قیمت دونوں میں ان کے حصص کے مطابق تقسیم کرے گا۔

تقسیم کے نتیجے میں کسی کو ہونے والے نقصان سے مراد یہ ہے کہ تقسیم کی صورت میں قیمت کم ہوجائے خواہ تقسیم کرنے کے بعد وہ اس سے فائدہ اٹھائیں یا نہ اٹھائیں لہٰذا اگر تقسیم کے بعد وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تو یہ نقصان معتبر نہ ہو گا۔

زبردستی کی تقسیم

یہ ایسی قسم ہے جس میں تقسیم سے کسی کا نقصان نہیں ہوتا اور نہ کسی کوکوئی معاوضہ دینا پڑتا ہے۔ اس قسم کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ قاضی رکاوٹ بننے والے شریک کو زبردستی کر کے بھی منواسکتا ہے۔ بشرطیکہ اس تقسیم سے متعلق تمام شرائط موجود ہوں۔ ایسی تقسیم وہاں ہوتی ہے جہاں علاقے باغ ،بڑے گھر،وسیع زمین کھلی دکانیں یا ایک جنس کی ناپ اور وزن والی اشیاء کی تقسیم کا مسئلہ ہو۔

اس تقسیم میں رکاوٹ بننے والے کو مجبور کرنے کے لیے تین شرائط کا ہونا ضروری ہے۔

1۔شرکاء کی ملکیت قانونی طور پر ثابت ہو۔

2۔اسے یہ علم ہو کہ اس تقسیم میں کسی کا کوئی نقصان نہ ہو گا۔

3۔اسے یہ بھی علم ہو کہ مشترک شے کمی بیشی کے بغیر حصص کے مطابق تقسیم  ہو جائے گی۔

جب یہ مذکورہ بالا شرائط موجود ہوں نیز شرکاء میں سے کسی ایک کا تقسیم کرنے کا مطالبہ ہو تو دوسرے شریک کو تقسیم پر مجبور کیا جائے گا اگرچہ وہ اپنے شریک کے ساتھ تقسیم کرنے میں رکاوٹ ڈالے کیونکہ تقسیم شراکت کے نقصان کو ختم کر دیتی ہے اور ہر ایک اپنے حصے میں مختارہو جاتا ہے کہ اس سے جس طرح چاہے فائدہ اٹھائے مثلاً:زمین میں پودے لگائے یا اس میں کوئی عمارت تعمیر کرے وغیرہ اور یہ صورت شراکت کی بقا میں ممکن نہ تھی۔

اگر مشترک چیز کا ایک شریک نابالغ یا غیر عاقل ہے تو اس کا ولی اس کی طرف سے نائب ہوگا۔ اگر کوئی شریک غیر حاضر ہو تو خود قاضی اس کا نائب ہوگا۔

درحقیقت یہ تقسیم ہر شریک کو اس کا حق ادا کرنے کی آسان صورت ہے۔ اور یہ سابق قسم کی طرح "بیع"کے حکم میں بھی نہیں۔بلکہ بیع کے احکام سے مختلف ہے۔

شرکاء مشترک شے کو خود بھی تقسیم کر سکتے ہیں یا کسی سے تقسیم کروسکتے ہیں۔ یا قاضی سے کسی تقسیم کرنے والے شخص کی تقرری کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

حصص کی برابر تقسیم کے لیے ضروری ہے کہ ان کے برابر اجزاء بنا لیے جائیں بشرطیکہ ایسا کرنا ممکن ہو۔

 مثلاً:ایک جنس کی ناپ یا وزن والی شے ہو۔ اگر اس شے کے برابر اجزاء نہ بن سکیں تو مکمل شے کی جو قیمت ہوا اسے حصص کے مطابق تقسیم کر دیا جائے ۔مثلاً:اس انداز سے کہ ادنی درجے کی چیز کا حصہ بڑا بنایا جائے۔ اور اعلیٰ چیز کا حصہ چھوٹا کہ دونوں حصوں کی قیمت برابر ہو۔ اگر یہ دونوں طریقے ممکن نہ ہوں تو اعلیٰ چیز لینے والا ادنی چیز لینے والے کو اتنی رقم ادا کرے جس قدر اس کو حاصل ہونے والی چیز کی قیمت اس کے اصل حصے سے زیادہ ہے۔

جب شرکاء تقسیم یا قرعے پر رضا مند ہو جائیں تب تقسیم ضروری ہے تقسیم کرنے والا حاکم کے قائم مقام ہو گا۔

اگر قرعہ ہوتو وہ حاکم کے حکم کا درجہ رکھتا ہے جس پر عمل کرنا ضروری ہے۔جہاں تک قرعے کا تعلق ہے تو وہ کنکریوں کے ساتھ کریں یا کاغذ پر نام لکھ کر ہر صورت جائز ہے۔ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ہر کاغذ کے ٹکڑے پر ایک شراکت دار کانام لکھ قرعہ ڈالا جائے اور یوں ہر ایک کا حصہ معلوم کر لیا جائے۔

اگر ایک شریک دوسرے کو اختیار ے دے تو باہمی رضامندی سے شے کی تقسیم ہوگی خواہ شرکاء ایک جگہ جمع نہ بھی ہوں۔

اگر دوآدمیوں نے مشترک شے باہمی رضامندی سے تقسیم کر لی اور پھر اپنی رضامندی پر گواہ بھی مقرر کر لیے تو اس کے بعد کسی نے تقسیم کے غلط ہونے کا اعتراض یا دعوی کیا تو اس کا دعوی قابل التفات نہ ہوگا کیونکہ جس صورت سے شے تقسیم ہوئی ہر ایک اس پر رضامندی کا اظہار کر چکا ہے(بلکہ اس پر گواہ بھی مقرر کر چکا ہے) لہذا اگر اس نے معاہدہ تقسیم میں شریک ساتھی کو کچھ زیادہ شے دینے کا وعدہ کیا ہے تو وہ حصہ اسے دینا ہو گا۔(کیونکہ یہ اس کا حق ہے۔)

اگر کسی نے دعوی کیا کہ حاکم کے مقرر کردہ شخص نے یا جس کو دونوں شریکوں نے تقسیم کے لیے مقرر کیا تھا اس نے تقسیم میں غلطی کی ہے تو اس کا دعوی دلیل کے ساتھ قبول کیا جائے گا وگرنہ دعوے کا انکار کرنے والا فریق قسم اٹھائے گا کیونکہ غلطی کا نہ ہونا ہی بنیادی بات ہے۔ اگر مدعی تقسیم کے غلط ہونے کی دلیل پیش کردے تو دلیل قبول کرتے ہوئے۔ سابقہ تقسیم ختم کر دی جائے کیونکہ اس کی خاموشی کی بنیاد تقسیم کرنے والے کے ظاہری حال پر تھی۔جب دلیل سے ظاہر ہو گیا کہ اس سے غلطی ہوئی ہے تو اسے اپنی غلطی کی اصلاح کا حق حاصل ہے۔

دوشریکوں میں سے ہر ایک نے ایک شے کی ملکیت کا دعوی کیا اور دونوں نے اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے قسمیں اٹھالیں تو تقسیم ختم ہو جائے گی کیونکہ مذکورہ چیز ان دونوں کے سوا کسی کی ملکیت نہیں،نہ ان میں ترجیح کی کوئی وجہ ہے۔

اگر لاعلمی سے کسی کو ایسا حصہ مل گیا جس میں عیب تھا تو اسے اختیار ہوگا کہ وہ تقسیم کو فسخ قراردے یا کچھ معاوضہ لے کر تقسیم کو قائم رکھے کیونکہ عیب کا ظہور نقص ہے لہٰذا اسے مشتری کی طرح اختیار ہوگا۔

دعوی اور دلیل کا بیان

"دعوی" کے لغوی معنی"طلب کرنے اور تمنا کرنے"کے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ"

"اور ان کے لیے ہوگا جو کچھ وہ طلب (اور تمنا ) کریں گے۔"[2]

فقہاء کی اصطلاح میں دعوی یہ ہے کہ انسان ایک ایسی چیز کے استحقاق کی نسبت اپنی ذات کی طرف کرے جو کسی کے قبضے میں ہے یا اس کے ذمے ہے۔

"الْبَيِّنَةُ" (دلیل) کے لغوی معنی"واضح علامت" کے ہیں۔ اور اصطلاح میں دلیل وہ ہے جو حق اور سچ کو واضح کر دے وہ گواہوں کی صورت میں ہو یا قسم کی صورت ہیں۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"شرع میں(الْبَيِّنَةُ) اس چیز کا نام ہے جو حق کو واضح اور نمایاں کردے۔ اللہ تعالیٰ نے حق وسچ کی ایسی علامات اور نشانیاں مقرر کی ہیں جن سے وہ صاف طور پر نمایاں اور ظاہر ہو جاتا ہے۔ جس نے ان علامات و نشانات کو مکمل طور پر گرادیا اس نے شریعت کے بہت سے احکام کو معطل کر دیا اور بہت سے حقوق ضائع کر دیے۔"[3]

مدعی اور مدعا علیہ کے درمیان یہ فرق ہے کہ مدعی وہ ہے کہ اگر وہ چپ ہو جائے یعنی دعوے سے دست بردار ہو جائے تو اس کے ذمے کچھ نہ ہوگا کیونکہ وہ شے کو حاصل کرنے والا ہے۔ اور مدعا علیہ وہ ہے کہ اگر وہ چپ ہو جائے تو فیصلہ اس کے خلاف ہوگا کیونکہ شے اس سے طلب کی جارہی ہے ۔اس کی خاموشی اس بات کا اقرار ہے کہ وہ کوئی شے دینے کا پابند ہے۔

صحت دعوی یا انکار دعوی کی ایک شرط یہ ہے کہ مدعی یا منکردعوی مکلف ہو۔ یعنی عاقل و بالغ اور آزاد ہو۔

اگر ایک شے کی ملکیت کے بارے میں دو آدمی دعوی کریں تو وہ شے جس کے قبضے میں ہے اسے ملے گی بشرطیکہ وہ قسم بھی اٹھائے۔

جس کے ہاتھ میں شے ہوا سے"داخل" کہتے ہیں اور جس کے ہاتھ میں شے نہ ہوا سے"خارج"کہتے ہیں۔

اگر دونوں میں سے ہر ایک اپنے حق میں اس شے کی ملکیت کی دلیل یا گواہ پیش کردے تو فیصلہ اس کے حق میں ہوگا جس کے قبضے میں وہ چیز نہیں کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  فرمایا:

"لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ، لَادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ"

"اگر محض دعوے کی بنیاد پر لوگوں کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے تو بہت سے لوگ آدمیوں کے خونوں اور اموال میں دعوے کرنے لگیں گے البتہ مدعا علیہ کے ذمے قسم ہے۔"[4]

ایک اور روایت میں ہے:

" الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي ، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ".

"گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمے ہے اور قسم اس پر ہے جو دعوے کا انکار کرے۔"[5]

درج بالا دونوں روایات سے ثابت ہوا کہ گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمے ہے اگر وہ پیش کردے گا تو فیصلہ اس کے حق میں ہوگا ۔ قسم اٹھانے کی ذمے داری اس شخص پر ہے جودعوے کا انکار کر رہا ہے مدعا علیہ قسم تب اٹھائے گا جب مدعی دلیل و شہادت پیش نہ کر سکے۔

اکثر اہل علم کی اس مسئلے میں یہ رائے ہے کہ شے اسے ملے گی۔جس کے قبضے میں ہے۔"جس کو"داخل"کہا جاتا ہے۔ اور حدیث اس بات پر محمول ہوگی کہ جس کے ہاتھ میں وہ شے ہے اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو ورنہ جس کے قبضے میں وہ شے ہے اور اس کے پاس دلیل (گواہی) بھی ہے تو وہی زیادہ حقدار ہے کہ شے اس کے پاس رہے اس کے بارے میں جمہور کا مسلک درست معلوم ہوتا ہے۔

اگر وہ شے جس کے بارے میں دونوں فریق دعوی رکھتے ہوں کسی ایک کے قبضے میں نہیں اور ظاہری حالات بھی کسی کے حق میں نہیں جوفیصلہ کرنے میں معاون ہوں نہ کسی کے پاس دلیل و شہادت ہے تو دونوں اس بات پر قسم اٹھائیں گے کہ دوسرے کا اس میں کوئی حق نہیں تب وہ شے دونوں میں برابر تقسیم کر دی جائے گی کیونکہ دعوے میں دونوں برابر ہیں نیز کسی کو دوسرے پر ترجیح دینے کے لیے قرینہ بھی نہیں البتہ اگر ظاہری قرائن و شواہد کسی کے حق میں ہوں تو ان پر عمل ہوگا۔

اگر خاوند اور بیوی کے درمیان گھر کے سامان کے بارے میں جھگڑا ہو جائے تو جو شے مرد کے لائق ہو وہ اسے ملے گی اور جو شے عورت کے استعمال کی ہو وہ عورت کو ملے گی اور جو شے دونوں کے استعمال کی ہو وہ دونوں میں برابر برابر حصوں میں تقسیم ہو گی۔

گواہی کا بیان

شہادت (گواہی) مشاہدہ سے مشتق ہے اس لیے شاہد (گواہ) وہ شخص ہوتا ہے جو اس چیز کے بارے میں خبر دیتا ہے جس کا اس نے مشاہدہ کیا ہوتا ہے اور جان گیا ہوتا ہے۔

ادائیگی شہادت کے وقت گواہ کا یہ کلمات کہنا:"میں گواہی  دیتا ہوں۔"ضروری ہے یا نہیں؟ اس کے بارے میں علماء کی دورائے ہیں۔حنابلہ کا مؤقف یہی ہے۔"شہادت " کے لفظ کہنے لازمی ہیں۔ آئمہ کی ایک جماعت کا موقف ہے کہ لفظ "شہادت "کہنا ضروری نہیں۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  سے دوسرے موقف کی تائید میں ایک روایت منقول ہے اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  اور امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  نے اسی موقف کو اختیار کیا ہے۔

شیخ الالسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  اور ان کے شاگرد رشید ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"گواہی میں کسی مخصوص الفاظ کا کہنا قرآن وسنت سے ثابت نہیں ہے اور نہ صحابہ کرام اور تابعین عظام سے منقول ہے لہٰذا گواہی دینے والا کوئی بھی ایسے کلمات بول سکتا ہے جن سے گواہی کا مدعا حاصل ہوتا ہو۔ مثلاً: گواہ کہے کہ میں نے ایسا کام ہوتے دیکھا یا ایسی ایسی باتیں خود سنی تھیں وغیرہ۔[6]   

حقوق العباد میں گواہی کو نبھانے کی ذمے داری فرض کفایہ ہے لہٰذا اگر اس قدرگواہ مل جائیں جو کفایت کر جائیں اور مقصد حاصل ہو جائے تو دوسرے لوگ گناہ گار نہ ہوں گے لیکن اگر کسی خاص شخص کے علاوہ گواہ موجود نہ ہوں تو اس کا گواہ بننا فرض عین ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا"

"اور گواہوں کو چاہیے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں۔"[7]

یعنی جب ان کو گواہ بننے کے لیے بلایا جائے تو ان پر حاضر ہونا ضروری ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  وغیرہ۔

آیت کے معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:"اس سے مراد گواہی اٹھانا اور حاکم (قاضی) کے سامنے اسے ثابت کرنا ہے۔"اور لوگوں کے حقوق و معاہدات کا ثبوت اس کی ضرورت کا تقاضا کرتا ہے لہٰذا گواہی  اٹھانا اور ینا اسی طرح فرض ہے جیسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ہے۔

بوقت ضرورت ادائیگی شہادت اس شخص پر فرض عین ہے جس نے اس ذمے داری کو قبول کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

"وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ"

"اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپالے وہ گناہ گار دل والا ہے۔"[8]

آیت کے معنی ہیں کہ جب تمھیں گواہی کے قیام کے لیے بلایا جائے تو نہ اسے چھپاؤ اور نہ خیانت کرو۔ آیت کے الفاظ (آثِمٌ قَلْبُهُ) کے معنی"( فاجر قَلْبُهُ)یعنی اس کا دل گناہ گار ہے۔ اور یہ دلوں کے مسخ ہونے سے متعلق سخت وعید ہے۔ آیت میں دل کو خاص کیا ہے کیونکہ شہادت کا علم اسی جگہ ہوتا ہے آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس نے گواہی اٹھائی ہوئی ہےاس پر فرض ہے کہ وہ اسے ادا کرے۔

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:" گواہی دینے کی ذمے داری اٹھانا اور اسے ادا کرنا ایک حق ہے جس کے ترک سے آدمی گناہ گار ہوتا ہے۔"

نیز فرماتے ہیں۔ "قیاس کا تقاضا ہے کہ اگر گواہ کی گواہی چھپانے کی وجہ سے صاحب حق کو نقصان پہنچے تو گواہ کے ذمے تاوان ہوگا۔"

گواہی کی ذمے داری اٹھانے اور اسے نبھانے والے کا یہ حق ہے کہ اسے کسی قسم کی تکلیف یا نقصان نہ پہنچایا جائے۔ اگر گواہ گواہی دینے کی صورت میں جانی یا مالی نقصان یا بے عزتی کا اندیشہ ہو تو اس پر گواہی دینا واجب  نہیں۔ "

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ ۚ "

"اور (یادرکھو کہ) نہ تو لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو۔"[9]

نیز حدیث میں ہے۔

"لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ "

"نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان اٹھاؤ۔"[10]

گواہ پر لازم ہے کہ وہ علم و یقین کی بنیاد پر گواہی دے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

"وَلا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ"

"اور جس بات کی تم کو خبرہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑو۔"[11]

نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"إِلَّا مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ "

"ہاں (مستحق شفاعت وہ ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انھیں علم بھی ہو۔"[12]

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے گواہی دینے کے بارے میں سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: کیا تم سورج کو دیکھتے ہو؟ اس نے کہا:ہاں!تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااگر کسی کو اس طرح صاف و شفاف دیکھو تو گواہی دینا نہ چھوڑدینا۔" [13]امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں :" اس کی سند قابل اعتماد نہیں۔"

اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے لیکن دوسرے دلائل سے یہ مسئلہ ثابت ہے۔"

علم درج ذیل امور میں سے کسی ایک سے حاصل ہوتا ہے۔

1۔قوت سماعت سے یعنی آواز اور کلام سن کر۔

2۔قوت بصارت سے کہ آدمی واقعے کو آنکھوں سے دیکھ لے۔

3۔گواہ نے ایک واقعے کو اس قدر آدمیوں سے سنا کہ یقین کی حد تک علم ہو گیا مثلاً: نسب یا موت کا ثبوت البتہ کسی واقعے کی صرف مشہوری کی بنا پر گواہی دینا درست نہیں حتی کہ یقینی علم حاصل ہو جائے۔

کسی کی گواہی تب قبول ہوگی جب اس میں چھ شرائط موجود ہوں۔

1۔بلوغت:

بچوں کی گواہی قبول نہ ہوگی الایہ کہ وہ معاملہ بچوں ہی کا ہو۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور فقہائے مدینہ رحمۃ اللہ علیہ  کا عمل یہی رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر جرح کے معاملے میں بچوں کی گواہی قبول کرتے تھے کیونکہ ایسے معاملات میں میں بڑے افراد عام طور پر موجود نہیں ہوتے۔ اگر بچوں کی گواہی قبول نہ ہو تو بہت سے حقوق ضائع ہو جائیں گے۔ البتہ بچوں کی گواہی قبول کرنے کے لیے چند ایک شرائط ہیں درج ذیل ہیں۔

1۔معاملہ بچوں کا ہو۔

2۔وہ اس قدر تعداد میں ہوں کہ ان کی خبر پر یقین ہو جائے۔

3۔متفرق ہونے سے پہلے پہلے گواہی دیں۔

4۔ان کا بیان ایک جیسا ہو۔ ان بچوں کی گواہی سے جوعلم ظنی حاصل ہو گا وہ دو آدمیوں کی گواہی سے حاصل ہونے والے علم ظنی سے بہت زیادہ قوی ہو گا لہٰذا اس کو نہ رد کیا جا سکتا ہے نہ انکار کیا جا سکتا ہے۔"[14]

2۔عقل:مجنون ،پاگل کی شہادت قبول نہ ہوگی البتہ جس شخص کو پاگل پن یا مر گی کے دورے پڑتے ہوں اس کی گواہی تب قبول ہوگی۔ جب واقعے کو دیکھتے وقت یا گواہی دیتے وقت دورے کی حالت میں نہ ہو۔"

3۔کلام: گونگے شخص کی شہادت قبول نہ ہو گی اگرچہ اس کے اشارے سمجھ میں آبھی جائیں کیونکہ شہادت میں یقین پر اعتبار ہوتا ہے اور وہ اشاروں سے حاصل نہیں ہو تا البتہ گونگے شخص کا اشارہ ان معاملات میں کفایت کرے گا جن کا تعلق اس کی ذات سے ہے: مثلاً:نکاح و طلاق وغیرہ کیونکہ اس معاملے میں مجبوری ہے البتہ اگر گونگا شخص تحریری صورت میں شہادت پیش کرے تو قابل اعتبار ہو گی کیونکہ تحریر زبان کے الفاظ پر دلالت کرتی ہے۔

4۔اسلام: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ "

"اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ کر لو۔"[15]

کافر کی گواہی صرف حالت سفر میں کی گئی وصیت پر قبول ہوگی بشرطیکہ وہاں کوئی مسلمان موجود نہ ہو۔

 اللہ اتعالیٰ کا ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَصَابَتْكُم مُّصِيبَةُ الْمَوْتِ ۚ  "

"اے ایمان والو! اگر تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وصیت کے وقت اپنے(مسلمانوں)میں سے دو صاحب عدل گواہ بنا لو اور اگر حالت سفر میں ہو اور تمھیں موت آلے تو غیر قوم کے بھی دو(غیر مسلموں کو) گواہ بنا سکتے ہو۔"[16]

5۔حافظہ:غیر عاقل اور کثرت سے نسیان کا شکار ہونے والے شخص کی شہادت قبول نہ ہو گی کیونکہ اس کے بیان سے یہ یقین حاصل ہوتا ہے نہ ظن غالب اس کے غلط ہونے کا احتمال موجود ہوتا ہے جسے کبھی کبھار نسیان واقع ہوتا ہو اس کی شہادت قبول ہوگی کیونکہ اس سے شاید ہی کوئی محفوظ ہو۔

6۔عدالت:عدالت کے لغوی معنی "سیدھا اور درست ہونے"کے ہیں اور ظلم وعدوان کی ضد ہے۔ اور سرعی معنی یہ ہیں کہ"آدمی کے دینی امور یکساں ودرست ہوں اور اس کے اقوال وافعال میں اعتدال ہو۔"گواہ میں وصف عدالت کی شرط کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنْ الشُّهَدَاءِ

"جنھیں تم گواہوں میں سے پسند کر لو۔"[17]

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ "

"اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ کر لو۔"[18]

جمہور علماء کی رائے کے مطابق عدالت یہ ہے کہ مسلمان دین کے واجبات و مستحبات کا التزام واہتمام کرتا ہو اور محرمات اور مکروہات سے اجتناب کرتا ہو۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"فقہائے کرام اس پر متفق ہیں کہ جھوٹے کی گواہی رد کر دی جائے گی۔

اور عدل کا معیار ہر زمانے علاقے اور معاشرے (ماحول)کے اعتبار سے مختلف ہے۔ ہر قوم میں عادل کو گواہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اگر یہی آدمی کسی دوسرے علاقے میں ہوتو ان کے عدل کا معیار اور ہوگا لہٰذا اسی طرح لوگوں میں فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر گواہوں میں یہ شرط ضروری قرار دی جائے کہ وہ واجبات کی ادائیگی کرنے والے ہوں اور حرام کا ارتکاب کرنے والے نہ ہو۔ جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  تھے تو گواہیاں ختم ہو جائیں یا مشکل ہو جائیں گی۔" نیز فرماتے ہیں:"جو صدق و سچائی کے ساتھ معروف ہوں تو ضرورت کے پیش نظر ان کی گواہی قبول کرنے کے لائق ہے اگرچہ وہ حدود کی پابندی کرنے والے نہ ہوں جیسے قید خانے میں دیہاتی حوادثات میں یا ایسی بستی میں جہاں کوئی عادل نہ ہو۔"[19]

فقہائے کرام نے کہا ہے کہ عدالت میں دو شرطوں کا اعتبار ہوتا ہے:

1۔ ادائے فرض یعنی پانچ فرض نمازوں اور جمعہ کے علاوہ سنن مؤکدہ کا اہتمام کرنا لہٰذا جو شخص مؤکدہ اور وتر کا اہتمام نہیں کرتا اس کی شہادت قبول نہ ہو گی۔

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں "جو آدمی سنن پر ہمیشگی نہ کرے وہ برا شخص ہے کیونکہ ان کے مسلسل ترک کی وجہ سے وہ سنت سے اعراض کرنے والا معیوب اور قابل ملامت ہے۔"جس طرح فرائض کی ادائیگی اس پر لازم ہے اسی طرح وہ محارم سے اجتناب کرے یعنی کبیرہ گناہوں سے بچے اور صغیرہ گناہوں پر مداومت نہ کرے۔

اللہ تعالیٰ نے پاک دامن مرد اور عورت پر زنا کا الزام لگانے والے کی شہادت کو مردودقراردیا ہے لہٰذا کبیرہ گناہوں کے مرتکب شخص کو بھی اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے کبیرہ گناہ وہ ہے جس کی شرعی سزا دنیا میں مقرر ہے یا قرآن و حدیث میں بیان ہوا ہے کہ آخرت میں فلاں سزا ملے گی۔مثلاً:سود خوری جھوٹی گواہی دینا زنا کرنا چوری کرنا اور نشہ آور چیزوں کا استعمال کرنا وغیرہ ۔ یہ سب کبیرہ گناہ ہیں۔ اسی طرح فاسق شخص کی شہادت بھی قبول نہ ہوگی۔

2۔مروت اور شرافت یعنی ایسے کام کرنا جو انسان کے لیے زینت و جمال کا باعث ہوں۔مثلاً:سخاوت حسن اخلاق اور پڑوسیوں سے حسن سلوک کرنا اور خود کو ایسے رذیل اور ذلیل کاموں سے بچانا جو انسان کی عزت کو داغدار کر دیتے ہیں: مثلاً:فحش گانے بولنا لوگوں کو ہنسانے کی خاطر جھوٹی مزاحیہ باتیں سنانا وغیرہ (اس میں آج کل کے ڈرامے وغیرہ بھی شامل ہیں اور گانا  تو آج کل "فن"شمار ہونے لگا ہے جس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور ایسے لوگوں کی تعریف کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان فتنوں سے محفوظ رکھے)

جب کسی میں شہادت دینے کے موانع موجود نہ رہیں یعنی بچہ بالغ ہو جائے مجنون بات سمجھنے لگے اور عقل مند ہو جائے۔کافر مسلمان ہو جائے ، فاسق توبہ کرلے تو ہر ایک کی شہادت قبول ہوگی کیونکہ گواہی کی قبولیت میں اب رکاوٹ نہیں رہی بشرطیکہ دیگر تمام شرائط بھی موجود ہوں۔

باپ دادا پردادا وغیرہ کے حق میں شہادت قبول نہ ہوگی جیسا کہ بیٹے پوتے اور پرپوتے کے حق میں شہادت قبول نہیں ہوتی کیونکہ اس صورت میں قوت قرابت کے سبب تہمت اور الزام لگنے کا اندیشہ موجود ہے۔

بھائی کی بھائی کے حق میں شہادت یا دوست کے حق میں شہادت قبول ہو گی کیونکہ دلائل شرعیہ میں عموم ہے۔ نیز یہ تہمت کا مقام نہیں ہے۔

خاوند اور بیوی کی ایک دوسرے کے حق میں شہادت قبول نہ ہوگی کیونکہ ہر ایک دوسرے کے مال سے استفادہ کرتا ہے۔ نیز دونوں میں ایک مضبوط تعلق ہونے کی وجہ سے ہر ایک پر جانبداری کا الزام لگ سکتا ہے البتہ ان تمام رشتے داروں کی شہادت اس وقت قبول ہوگی۔ جب ایک دوسرے کے خلاف گواہی دیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ "

(اے ایمان والو! عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی مولا کے لیے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ گو کہ وہ خود تمھارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے رشتہ دار عزیزوں کے۔"[20]

لہذا اگر کسی نے اپنے باپ بیٹے بیوی یا خاوند کے خلاف گواہی دی تو اسے قبول کیا جائے گا۔

جس شخص کو گواہی کے نتیجے میں فائدہ پہنچتا ہو یا وہ کسی نقصان سے محفوظ ہوتا ہو تو اس کی گواہی بھی قبول نہ ہو گی اگر دو آدمیوں کی باہم گہری دشمنی ہے تو ایک کی دوسرے کے خلاف شہادت قبول نہ ہو گی کیونکہ ممکن ہے کوئی باطل شہادت کے ذریعے سے دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ علامہ ابن قیم  رحمۃ اللہ علیہ  کی بھی یہی رائے باہمی دشمنی جاننے کا معیار یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کا دکھ درددیکھ کر خوش اور اس کا سکھ اور خوشی دیکھ کر پریشان ہو۔ واضح رہے یہاں دشمنی سے مراد دنیوی دشمنی ہے۔ دینی دشمنی نہیں کیونکہ شہادت کے قبول ہونے میں مانع نہیں لہٰذا مسلمان شخص کی گواہی کافر کے خلاف قبول ہوگی جس طرح موحد کی گواہی بدعتی کے خلاف قبول ہوگی۔

جو شخص اپنے قبیلے کی حمایت میں متصب ہے اس قبیلے والوں کے حق میں اس کی گواہی قبول نہ ہوگی۔ کیونکہ اس میں تہمت لگنے کا اندیشہ موجود ہے۔

گواہوں کی تعداد کا نصاب مختلف واقعات میں مختلف ہے:

زنا اور رقوم لوط کے عمل کے الزام کو ثابت کرنے کے لیے چار آدمیوں کی شہادت قبول ہوگی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"لَوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاء"

"وہ اس پر چار گواہ کیوں نہیں لائے۔؟"[21]

ایسے معاملات میں چونکہ پردہ پوشی کا حکم ہے اس لیے نصاب شہادت میں سختی کی گئی ہے۔

2۔اگر کوئی شخص مالداری میں مشہور معروف تھا اب اسے محتاج اور فقیر ثابت کیا جا رہا ہے تو اس میں تین آدمیوں کی شہادت قبول ہوگی کیونکہ حدیث میں ہے:

"حَتَّى يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ: لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ"

"یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین اشخاص گواہی دیں کہ فلاں کو فقرو فاقہ کی نوبت آگئی ہے۔"[22]

3۔زنا کے سوا باقی حدود جیسے حد قذف شراب نوشی ،چوری ،ڈاکہ زنی اور قصاص میں دو آدمیوں کی شہادت قبول ہوگی۔ ان امور میں عورتوں کی شہادت قبول نہ ہو گی۔

4۔جس کام کے کرنے میں سزا یا کفارہ نہ ہو یا معاملہ مال سے تعلق نہ رکھتا ہو اور نہ اس سے مقصود حصول مال ہو نیز مردوں ہی کو اس سے عموماًواسطہ پڑتا ہو۔

مثلاً:نکاح ،طلاق اور رجوع وغیرہ تو ان امور میں دو مردوں کی شہادت کافی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  اور ان کے شاگرد امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  نے رجوع پر عورتوں کی گواہی قبول کرنے کو درست کہاہے کیونکہ ان کا رجوع کے وقت حاضر ہونا کسی دوسرے معاہدے وغیرہ کی تحریر کے وقت حاضری سے آسان ہے۔[23]

5۔مال یا جس معاملے میں مال مقصود ہو۔ مثلاً: بیع ادھار یا اجارہ وغیرہ تو اس میں دومردوں کی یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی قبول ہو گی۔

 کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"واستشهدوا شَهِيدَيْنِ مِّن رِّجَالِكُمْ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وامرأتان مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشهدآء"

"اور اپنے میں سے دومرد گواہ رکھ لو۔ اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنھیں تم گواہوں میں سے پسند کرلو۔"[24]

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ مالی معاملات میں ایک آدمی اور دوعورتوں کی گواہی  قبول ہوگی۔اسی طرح جو امور مالی معاملات سے ملحق ہیں ان کا بھی یہی حکم ہے مثلاً: بیع ادھار بیع خیار رہن ،معین فرد کے حق میں وصیت کرنا ہبہ وقف مالی ضمان ،مال کا ضیاع مجہول النسب شخص کے غلام ہونے کا دعوی کرنا اور تعیین مہر یا خلع میں معاوضے کا تعیین وغیرہ۔"[25]

مالی معاملات میں عورت کی شہادت قبول کرنے میں یہ حکمت ہے کہ ایسے معاملات کثرت سے وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں مردوں اور عورتوں کو اس سے واسطہ پڑتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے ثبوت میں وسعت رکھی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے شریعت کے متعدد احکام میں مرد کے مقابلے میں عورت کا نصف حصہ مقرر کیا مثلاً: گواہی کے معاملے میں ایک مرد کے مقابلے میں دو عورتیں مقرر کی ہیں۔ اسی طرح میراث اور دیت میں اس کا حصہ مرد سے نصف ہے اور عقیقے میں بھی بچی کے لیے ایک بکری ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت یوں بیان کی ہے:

"أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ"

"اگر ایک بھول جائے تو دوسری یاد دلا دے۔[26]

آیت کریمہ عورت کے ضعیف عقل پر واضح دلیل ہے لہٰذا ایک عورت ایک مرد کے قائم مقام نہ ہو گی۔عورت کی گواہی کلیتاً ختم کرنے میں بہت سے حقوق کا ضیاع ہو سکتا ہے اس لیے عورت کے ساتھ ایک عورت مقرر کر دی گئی تاکہ بھول کا علاج ہو جائے۔اس طرح دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے قائم مقام قرار پائی۔

6۔مالی معاملات میں یا جہاں مال مقصود ہو ایک آدمی کی گواہی اور مدعی کی قسم کے ساتھ بھی فیصلہ کرنا شرعاً درست ہے کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت ہے:

"أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قضى باليمين مع الشاهد"

"آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے (مدعی کی) قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ دیا۔"[27]

امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"امت مسلمہ میں یہ سنت (طریقہ) جاری ہے کہ قسم اور ایک گواہ سے فیصلہ ہوگا۔"[28]

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  مذکورہ بالا روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:"یہ حدیث اس حدیث کے معاوض نہیں ہے جس میں ہے کہ" قسم مدعا علیہ پر ہے۔" کیونکہ مقصود یہ ہے کہ جب مدعی کے پاس صرف دعوی ہو دلیل نہ ہو تو محض  دعوی کی وجہ سے اس کے حق میں فیصلہ نہ ہوگا البتہ جب اس کی جانب گواہی یا کسی غیر واضح ثبوت وغیرہ کی وجہ سے راجح قرارپائی تو فیصلہ مدعی کے حق میں محض دعوے سے نہیں ہوا بلکہ اس کی جانب کو قسم اور گواہ وغیرہ سے اہمیت اور ترجیح ملی۔"[29]

7۔وہ امور جن کی مردوں کو عموماًخبر نہیں ہوتی۔مثلاً:عورت کے وہ عیوب جو اس کے قابل ستر جسم کے حصے پر ہوں یا عورت کا کنواری ہونا ،نیز حیض ،ولادت ،رضاع اور نومولود بچے کا زندہ یا مردہ پیدا ہونا ایسے امور میں ایک معتبر اور متقی عورت کی گواہی قبول ہوگی کیونکہ سیدنا حذیفہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے:

"أنه - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أجاز شهادة القابلة"

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اکیلی دایہ کی شہادت کو قابل قراردیا۔"[30]

اگرچہ اس روایت کی سند میں کمزوری ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے رضاعت کے مسئلے میں ایک عورت کی گواہی کو قبول کیا ہے۔"(جیسا کہ صحیح بخاری میں عقبہ بن حارث کا قصہ مذکورہے۔)[31] 


[1]۔مسند احمد 1/313۔وسنن ابن ماجہ الاحکام باب من بنی فی حقہ مایضر بجارہ حدیث:2340۔

[2]۔یس:36۔57۔

[3]۔ الطراق الحکمۃ لا بن القیم ص:67۔384۔386۔

[4]۔صحیح مسلم الاقضیہ باب الیمین علی المدعی علیہ حدیث 1711ومسند احمد 1/342۔351۔363۔

[5]۔سنن الدارقطنی 3/111۔4/217۔حدیث 3165۔4462وارواءالغلیل 8/279۔حدیث2661۔

[6]۔الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ ص:578 والطرق الحکمیہ لا بن القیم ص:387۔

[7]۔البقرۃ:2/282۔

[8]۔البقر:2/28۔

[9]۔البقر:2/282۔

[10]۔مسند احمد 1/313۔وسنن ابن ماجہ الاحکام باب من بنی فی حقہ مایضر بجارہ حدیث:2340۔

[11]۔بنی اسرائیل:17۔36۔

[12]۔الزخرف 43۔86۔

[13]۔المستدرک للحاکم :4/110۔حدیث:7045۔والکامل فی الضعفاء لا بن عدی۔7/429۔فی ترجمہ بن سلیمان بن مشمول۔

[14] ۔اعلام الموقعین:1/102۔

[15] ۔الطلاق 2/65۔

[16]۔المائدہ:5/106۔

[17]۔البقرۃ:5/282۔

[18]۔الطلاق 2/65۔

[19]۔منہاج السنۃ النبویۃ 1/62۔والفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ الشہادات 5/574۔

[20]۔النساء:4/135۔

[21]۔النور:13۔24۔

[22]۔صحیح مسلم الزکاۃ باب من تحل لہ المسالہ حدیث 1044۔

[23]۔اعلام الموقعین:1/98۔

[24]۔البقرۃ: 2/282۔

[25]۔ اعلام الموقعین:1/97۔

[26]۔البقرۃ:2/282۔

[27]۔صحیح مسلم الاقضیۃ باب وجوب الحکم بشاہد ویمین حدیث 1712۔وسنن ابی داؤد القضاء باب القضاء بالیمین والشاہد حدیث 3610۔واللفظ لہ۔

[28]۔المغنی والشرح الکبیر12/13۔

[29]۔اعلام الموقعین:1/106۔

[30]۔(ضعیف) سنن الدارقطنی 4/232 حدیث 4511والسنن الکبری للبیہقی 10/15۔

[31] ۔صحیح البخاری العلم باب الرجلہ فی المسلہ  النازلہ و تعلیم اھلہ حدیث 88۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل

قضا کے مسائل:جلد 02: صفحہ508


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)