فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 24269
((24) باغیوں سے قتال کرنے کا بیان
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 30 November 2017 11:09 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

باغیوں سے قتال کرنے کا بیان


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَإِن طائِفَتانِ مِنَ المُؤمِنينَ اقتَتَلوا فَأَصلِحوا بَينَهُما فَإِن بَغَت إِحدىٰهُما عَلَى الأُخرىٰ فَقـٰتِلُوا الَّتى تَبغى حَتّىٰ تَفىءَ إِلىٰ أَمرِ اللَّهِ فَإِن فاءَت فَأَصلِحوا بَينَهُما بِالعَدلِ وَأَقسِطوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُقسِطينَ ﴿٩ إِنَّمَا المُؤمِنونَ إِخوَةٌ فَأَصلِحوا بَينَ أَخَوَيكُم وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تُرحَمونَ ﴿١٠﴾... سورة الحجرات

"اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم (سب) اس گروه سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے "[1]

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے باغیوں کے خلاف لڑنا اس وقت واجب قراردیا ہے جب تک وہ صلح پر آمادہ نہ ہوں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے:

"مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ "

"جب تم ایک شخص کی امارت پر متفق ہوکر امن وسکون سے زندگی گزاررہے ہوتو پھر کوئی دوسراشخص تمہارے پاس آئے جو تمہاری جماعت میں افتراق وانتشار پیدا کرنا چاہے تو اسے قتل کردو۔"[2]

نیز  فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے:

"مَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي وَهُمْ جَمِيعٌ فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَا كَانَ"

"جو شخص میری اُمت کے خلاف اس وقت خروج کرے جب وہ متفق ہوچکی ہو تو اس کی گردن تلوار سے اڑا دو چاہے جو بھی ہو۔"[3]

باغیوں سے قتال کے بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی ایک ہی رائے تھی ،ان میں اختلاف نہ تھا۔

(1)۔"بغاوت" زیادتی ،ظلم اور راہ حق سےہٹ جانے کا نام ہے،لہذا باغی وہ لوگ ہیں جو زیادتی کرنے والے،ظالم اور راہ حق کوچھوڑنے والے ہیں اور مسلمان امراء کے احکام اورنظام کی مخالفت کرنے والے ہیں،لہذا مسلمانوں کی ایک جماعت اور ایک امام کاہونا ناگزیر ہے۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا...﴿١٠٣﴾... سورةآل عمران

"اللہ(تعالیٰ) کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور  پھوٹ نہ ڈالو۔"[4]

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم ...﴿٥٩﴾... سورة النساء

"اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبرداری کرو رسول کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔"[5]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ"

"میں تمھیں اللہ سے ڈرنے اور سمع وطاعت کے بجالانے کا حکم کرتا ہوں اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر بن جائے۔"[6]

درج بالاآیات اور احادیث میں جو کچھ بیان کیاگیا ہے وہ ایسے امور ہیں جو انسانی معاشرے کی اجتماعیت کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں تاکہ ان کی شیرازہ بندی قائم رہے،ملک کی حفاظت اوراس کا دفاع آسان ہو اور حدود کا نفاذ ہو،حقوق کی ادائیگی ہو،نیکی کا حکم ہو اور بُرائی سے روکا جائے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" جاننا چاہیے کہ لوگوں کے امور کی سربراہی واجبات دینیہ میں سے ایک اہم دینی فریضہ ہے بلکہ دین ودنیا کا قیام اسی کے ساتھ ہوتا ہے۔بنی آدم کے مصالح ،منافع اور فوائد یقیناً آپس میں مل کر رہنے ہی سے پورے ہوتے ہیں اور اجتماعیت میں امیر وسربراہ کا ہوناضروری ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سفر جیسے چھوٹے اور عارضی اجتماع میں بھی ایک شخص کو امیر بنانا واجب قراردیا ہے جس سے مختلف قسم کے اجتماعات پررئیس یا امیر بنانے کی تنبیہ ہوتی ہے۔"[7]

معلوم ہونا چاہیے کہ لوگ امیر وحاکم کے بغیر درست نہیں رہ سکتے۔اگر کوئی ظالم حکمران بن جائے تو وہ بغیر حاکم وامیر زندگی گزارنے سے بہتر ہے،جیسے کہاجاتاہے :ظالم امیر کے تحت سال گزارنا امیر کےبغیر ایک رات گزارنے سے بہتر ہے۔

(2)۔اگر کوئی جماعت مشتبہ امور کا غلط معنی کرکے مسلمانوں کے امیر کے خلاف خروج(بغاوت) کرتی ہے،اس کی اطاعت سے دستکش ہوجاتی ہے یا اس کی مخالفت کرتی ہے،اتحاد کی قوت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ ظالموں اور باغیوں کی  جماعت ہے۔مسلمانوں کے امیر کو چاہیے کہ اس سے مراسلت(مذاکرات) کرے اور پوچھے کہ اس سےکیا شکایت ہے اور اس کا کیاقصور ہے؟اگر وہ کسی ظلم وزیادتی کی شکایت کریں تو وہ اس کاازالہ کرے،اگر کوئی غلط فہمی ہوتو اسے دور کرے حتیٰ کہ وسعت ظرفی اور سنجیدگی سے صلح  کی پوری  کوشش کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا"

"ان(دونوں) میں میل ملاپ کرادیا کرو۔"[8]

صلح اور اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ اگر باغی لوگ امیر پر ایسا کام کرنے کاالزام لگاتے ہیں جس کا کرنا شرعاً جائز نہیں تو امیر کو چاہیے کہ اس کا ازالہ کرے اور اگر اس کام کاکرناجائز ہوتو فریق مخالف کو دلائل سے قائل کرے اور حقیقت حال کو واضح کرے۔اگر باغی گروہ رجوع کرلے،حق کی طرف پلٹ آئے اور اطاعت امیر پر آمادہ ہوجائے تو چھوڑدے۔اگر وہ دلائل شرعیہ کو سن کر بھی رجوع نہ کریں تو ان سے جنگ کرنا ضروری ہے۔اس کی رعایا کو چاہیے کہ اس سے بھر پور تعاون کریں حتیٰ کہ ان کے شرکا خاتمہ ہوجائے اور فتنے کی آگ بجھ جائے۔

(3)۔باغیوں سے قتال کے وقت درج ذیل امور کا لحاظ رکھاجائے:

1۔ان پر ایسی چیز سے حملہ نہ کیا جائے جو اجتماعی ہلاکت کا باعث ہو،مثلاً :تباہ کن میزائل یا بم نہ پھینکے جائیں۔

2۔ان کے بچوں ،پشت پھیر کر بھاگنے والوں اور زخمیوں کو یاجو لڑنا نہیں چاہتے،قتل کرنا حرام ہے۔

3۔اگران میں سے کوئی گرفتار ہوتو اسے قید میں رکھا جائے حتیٰ کہ فتنے کی آگ بجھ جائے۔

4۔ان کے اموال کو غنیمت نہ قراردیا جائےبلکہ ان کے اموال بھی دوسرے مسلمانوں کے اموال کی طرح(قابل احترام) ہیں کیونکہ ان پر ان کی ملکیت ختم نہیں ہوئی۔لڑائی ختم ہوجانے اورفتنے کی آگ بجھ جانے کے بعد اگر ان کا مال کسی کے قبضے میں پایا جائے تو اسے لے کر اصل مالک کو لوٹادیا جائے اور اگر وہ ضائع ہوگیا تو اس کا ضمان نہ ہو گا۔فریقین کی لڑائی میں جو مارا گیا اس کی دیت بھی نہ ہوگی۔

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور  میں فتنوں نے سراٹھایا تو ان کی سرکوبی کی گئی۔وہ سب اس بات پر متفق تھے کہ کسی فتنہ باز کےقتل ہونے کی صورت میں اس کی دیت نہیں دی جائے گی اور نہ قرآنی آیات کی(غلط) تاویل کرکے ان کا مال غنیمت سمجھا جائے مگرجو مال باغیوں نے چھینا تھا اگر وہ بعینہ واپس مل گیا تو اسے لے کر مالک کو دے دیا جائے۔"[9]

(4)۔اگر مسلمانوں کے دو گروہوں میں لڑائی چھڑ جائے،ان میں سے کوئی بھی امام المسلمین کی اطاعت میں نہ ہو بلکہ لڑائی کی بنیاد باہمی عصبیت ہویا اقتدار کی خاطر جنگ ہوتو دونوں گروہ ظالم ہیں کیونکہ ہر گروہ دوسرے پرزیادتی کررہا ہے اور کسی میں کوئی خصوصیت اور امتیاز نہیں رہا جو اس کے حق پر ہونے کی واضح علامت ہو۔ایسی صورت میں ہر گروہ دوسرے کے نقصان کا ضامن ہوگا۔اگر ایک گروہ امیر کے حکم سے لڑرہا ہوتو وہ حق پر سمجھا جائے گا،دوسرا باغی قرار پائے گا جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔

(5)۔اگر کوئی گروہ خوارج کے عقائدرکھتا ہو،مثلاً:کبیرہ گناہوں کےمرتکب کو کافر کہنا،مسلمانوں کی خونریزی کو جائز سمجھنا اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو گالیاں دینا تو وہ بھی باغی،فاسق اور خوارج ہوں گے۔اگر وہ امیر کی اطاعت کے دائرے سے نکل جائیں گے تو ان سے قتال واجب ہوگا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"خوارج کے بارے میں اہل سنت متفق ہیں کہ وہ بدعتی گروہ ہے۔نصوص شرعیہ ان سے قتال کرناواجب قراردیتی ہیں۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا ان سے قتال کرنے پر اتفاق تھا۔علمائے اہل سنت کا بھی یہی مسلک ہے کہ عادل حکمرانوں کے ساتھ مل کران(خوارج) سے لڑائی جائے گی۔اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ ظالم حکمرانوں کے ساتھ مل کر بھی ان سے لڑنا جائز ہے یانہیں؟بعض اہل علم سے منقول ہے کہ ان(ظالم حکمرانوں) کے ساتھ مل کر لڑنا بھی جائز ہے۔اسی طرح معاہدین میں سے کوئی اپنا عہد توڑے تو ان سے لڑنا بھی ضروری ہے اور جمہور کا یہی موقف ہے ۔امیر نیک  ہو یافاجر وفاسق،اگر وہ باغی کفار یا مرتدین یا معاہدے کو توڑنے والوں یا خوارج سے جنگ کرے تو اس کے ساتھ بھرپورتعاون کرتے ہوئے لڑائی لڑی جائے۔اگر اس کی لڑائی جائز نہ ہوتو اس کے ساتھ جنگ میں شامل نہ ہوا جائے۔"[10]

(6)۔اگر خوارج کے عقائد رکھنے والا گروہ امام کی اطاعت کرتارہے اور لڑائی کرنے پر آمادہ نہ ہوتو احکام اسلام کے مطابق ان پر تعزیر ہوگی،نیز ان کے عقائد کی تردید کی جائے گی اور انھیں اپنی باطل رائے کی نشرواشاعت کی اجازت نہ دی جائے گی۔یہ مسلک ان حضرات کا ہے جو خوارج کو کافر نہیں کہتے جیسا کہ جمہور علماء کاموقف ہے۔باقی رہے وہ حضرات جن کافتویٰ ہے کہ خوارج کافر ہیں تو ان کے نزدیک خوارج سے قتال کرنا بہرحال ضروری ہے۔

ارتداد کے احکام

مرتد "ارتد" فعل سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کے لغوی معنی"لوٹ جانے والے"کے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَلا تَرتَدّوا عَلىٰ أَدبارِكُم...﴿٢١﴾... سورة المائدة

"اورتم اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو۔"[11]

شرعی اصطلاح میں مرتد وہ شخص ہے جو اسلام قبول کرلینے کے بعداپنی مرضی سے زبان کے ذریعے سے یا دل یا عمل کے ساتھ دین اسلام کے احکام کاانکارکردے۔شریعت میں مرتد کے لیے دنیوی حکم بھی ہے اور اخروی حکم بھی ۔دنیوی حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے یوں بیان فرمایاہے:

"من بدل دينه فاقتلوه"

"جو(مسلمان) اپنا دین بدل دے اسے قتل کردو۔"[12]

اس اہم حکم کے ضمن میں چند مزید احکام بھی ہیں کہ اسے قتل کرنے سے قبل اس کی بیوی کو اس سے الگ کردیا جائے گا،نیز اسے مالی تصرفات سے بھی روک دیاجائےگا۔اس مسئلے پر علمائے کرام کا اجماع ہے۔

باقی رہا آخرت میں حکم تو اسے اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کیاہے:

﴿ وَمَن يَرتَدِد مِنكُم عَن دينِهِ فَيَمُت وَهُوَ كافِرٌ فَأُولـٰئِكَ حَبِطَت أَعمـٰلُهُم فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَأُولـٰئِكَ أَصحـٰبُ النّارِ هُم فيها خـٰلِدونَ ﴿٢١٧﴾... سورة البقرة

"اورتم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مریں،ان کے اعمال دنیوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے۔یہ لوگ  جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔"[13]

(1)۔ارتداد اس وقت ثابت ہوتا ہے جب کوئی ایساکام کرے یا ایسی بات کہہ دے جس سے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے ،خواہ وہ سنجیدگی سے وہ کام کرے یا ازراہ مذاق۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلَئِن سَأَلتَهُم لَيَقولُنَّ إِنَّما كُنّا نَخوضُ وَنَلعَبُ قُل أَبِاللَّهِ وَءايـٰتِهِ وَرَسولِهِ كُنتُم تَستَهزِءونَ ﴿٦٥ لا تَعتَذِروا قَد كَفَرتُم بَعدَ إيمـٰنِكُم إِن نَعفُ عَن طائِفَةٍ مِنكُم نُعَذِّب طائِفَةً بِأَنَّهُم كانوا مُجرِمينَ ﴿٦٦﴾... سورة التوبة

"اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے ره گئے ہیں؟ (65) تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے، اگر ہم تم میں سے کچھ لوگوں سے درگزر بھی کر لیں تو کچھ لوگوں کو ان کے جرم کی سنگین سزا بھی دیں گے"[14]

اگر کسی نے جبرواکراہ کی وجہ سے زبان سے کوئی غلط کلمہ کہہ دیا یا کوئی اسلام کے منافی کام کردیا تو وہ مرتد شمار نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعدِ إيمـٰنِهِ إِلّا مَن أُكرِهَ وَقَلبُهُ مُطمَئِنٌّ بِالإيمـٰنِ...﴿١٠٦﴾... سورة النحل

"جوشخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے سوائے اس(شخص) کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو۔"[15]

(2)۔نواقض اسلام جن سے ارتداد ثابت ہوتا ہے،بہت سے ہیں۔ان میں سے سب سے بڑاشرک ہے،جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کوشریک ٹھہرایا،مثلاً:غیر اللہ مردوں ،اولیاء اور صالحین کو فریاد رسی کے لیے پکارا یا ان کی قبروں پر کوئی جانور ذبح کیا یا ان کی رضا کے لیے نذر مانی یا مُردوں سے اپنے امور میں مدد طلب کی جیسا کہ آج کے دور میں قبرپرست لوگ کررہے ہیں تو وہ شخص دین اسلام سے مرتد ہوگیا۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَغفِرُ أَن يُشرَكَ بِهِ وَيَغفِرُ ما دونَ ذ‌ٰلِكَ لِمَن يَشاءُ ...﴿٤٨﴾... سورة النساء

یقیناً اللہ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اوراس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔"[16]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:" جس شخص نے اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان واسطے بنا لیے جنھیں وہ پکارتاہے،ان کے آگے سوال کا ہاتھ بڑھاتا ہے ،ان پر توکل کرتا ہے تو وہ بالاجماع کافر ہے۔اسی طرح جس نے بعض نبیوں اور رسولوں کا انکار کردیا یابعض  کتب الٰہیہ کاانکار کیا تو وہ مرتد ہوگیا کیونکہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کی تکذیب کررہاہے،اللہ کےرسولوں میں سے کسی رسول اور کتب میں سے کسی کتاب کا انکار کررہاہے۔مزیدبرآں کسی نےفرشتوں کے وجود کا یا یوم آخرت کاانکار کیا یا اللہ تعالیٰ یا اس کےکسی رسول ونبی کوگالی دی یانبوت کا دعویٰ کر دیا یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد کسی کی نبوت کو تسلیم کیا تو وہ کافر ہے کیونکہ وہ اللہ کے فرمان:

﴿وَلـٰكِن رَسولَ اللَّهِ وَخاتَمَ النَّبِيّـۧنَ ... ﴿٤٠﴾... سورة الاحزاب

"لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔[17]

کو جھٹلانے والا ہے اور جس نے زنا کے حرام ہونے کو تسلیم نہیں کیا یا کسی ایسی شے کو حرام نہ سمجھا جس کے حرام ہونے پر پوری امت کا اجماع ہے،مثلاً:خنزیر کا گوشت،شراب وغیرہ یا کسی ایسی شے کو حلال نہ سمجھا جس کی حلت پر پوری امت کااجماع ہے،مثلاً:ذبح کردہ حلال چوپائے تو وہ شخص بھی کافر ہے۔اسی طرح جس نےارکان اسلام(کلمہ شہادت ،نماز ،روزہ۔۔۔) کا انکار کیا یا دین اسلام کا تمسخر اڑایایا قرآن مجید کی بے حرمتی کی یا اس کا عقیدہ ہو کہ قرآن مجید مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا بلکہ ناقص ہے تو ان تمام صورتوں میں انسان کافر ہوجاتاہے جس کے کفر پراجماع ہے۔"

شیخ موصوف آگے چل کر مزید لکھتے ہیں:"جس نے دین اسلام کے سوا کسی اور دین کا بھی اتباع کیا یاشریعت محمدی کے ساتھ ساتھ کسی دوسری شریعت کو بھی قابل عمل سمجھا تو وہ شخص بھی بالاتفاق کافر ہے۔اس کاکفر اس شخص کی طرح ہے جو کتاب اللہ کے بعض حصے پر ایمان لایا  اور بعض حصے کا انکار کردیا۔"

نیز فرماتے ہیں:"جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے کسی وعدے یا وعید کاتمسخر اڑایا یاجس نے اسلام کوچھوڑ کر کسی اور دین کو اپنا لینے والے کو کافر نہ سمجھا(مثلاً:نصاریٰ) یاان کے کفر میں شک کیا یا ان کے مذہب کو صحیح مانا تو وہ بالا جماع وہ کافر ہے۔"

نیز فرمایا:" جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو یا ان میں سے کسی ایک کوگالی دی یا اس کا دعویٰ ہے کہ سیدنا علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  معبود یانبی تھے ۔جبریل  علیہ السلام  نے غلطی کی تھی تو اس کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں۔"

(3)۔جس نےشریعت اسلامیہ کی بجائے خود ساختہ قانون کو ا پنا فیصل بنالیا اور اسے اسلامی شریعت سے بہتر قانون سمجھایا اس نے اسلام کے بجائے سوشلزم کی فکر یاعربی قومیت کو دین اسلام کا متبادل سمجھ کراپنا لیا تو اس کے مرتد ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔

(3)۔ارتداد کی اور بھی بہت سی انواع واقسام ہیں،مثلاً:جس نے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ کیا یاجومشرکین کو کافر نہیں سمجھتا یا اسے ان کے کفر میں شک ہے یا ان کے مذہب کو صحیح اوردرست سمجھے،مثلاً:اس کا عقیدہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی شریعت سے دوسری شریعت بڑھ کرہے یادین اسلام کےکسی حکم ،ثواب یا عقاب سے استہزا کرے یا احکام رسول صلی اللہ علیہ وسلم  سے بغض رکھے یااس کایہ عقیدہ ہو کہ بعض لوگوں کے لیے شریعت محمدی کی اتباع ضروری نہیں بلکہ اس سے خروج جائزہےجیسا کہ غالی قسم کے صوفیاء کا عقیدہ بد ہے۔اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کےدین اسلام کو نہ سیکھتا ہے اور نہ عمل کرتاہے تو یہ سب ارتداد اور نواقض اسلام کے اسباب میں سے ہے۔

شیخ محمد بن عبدالوہاب  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"ان تمام قسم کے نواقض میں کوئی فرق نہیں،ان کے مرتکب سے ان کا ظہورخواہ مذاق میں ہو یا قصداً یاکسی خوف کی وجہ سے ان کااظہار کرے وہ مرتد اور کافر ہی سمجھا جائےگا سوائے مجبور ومقہور کے۔یہ تمام نواقض انتہائی خطرناک ہیں اورلوگوں سے اکثر ان کا وقوع ہوتارہتاہے۔مسلمان کو چاہیے کہ ان سے بچے اور ان کاخطرہ اپنے لیے محسوس کرے۔ہم اللہ کے غضب کے اسباب اور اس کے دردناک عذاب سے اس کی پناہ مانگتے ہیں۔"

یہ نواقض اسلام کے چند ایک نمونے تھے۔آپ کو چاہیے کہ آپ جانیں اور پہچانیں تاکہ ان سے بچ سکیں۔

یادرکھیں!جو شخص شرکیہ امور سے واقفیت نہیں رکھتا،اندیشہ ہےکہ وہ اس کا ارتکاب کر بیٹھے۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا:" جو شخص امور جاہلیت سے واقف نہیں ممکن ہےکہ وہ عہد اسلام میں پیدا ہونے کے باوجود دین اسلام کی ایک ایک کڑی کوادھیڑ کررکھ دے۔"

میرے بھائی! میرا آپ کو مشورہ ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب"فکر وعقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے" کامطالعہ کیجیے،نیز شیخ مجدد محمد بن عبدالوہاب  رحمۃ اللہ علیہ   کی کتاب (مسائل الجاهلية التي خالف فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم أهل الجاهلية) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کااہل جاہلیت سے اختلاف" اور اس کی شرح کو پڑھیے جسے عراق کے معروف عالم محمود شکری آلوسی  رحمۃ اللہ علیہ  نے تالیف کیا ہے۔

(4)۔جو شخص دین اسلام سےمرتد ہوجائے اسے تین دن تک توبہ کا موقعدیا جائے گا۔اگر وہ توبہ کرلے تو ٹھیک ورنہ قتل کردیاجائےگا کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو خبر ملی کی ایک شخص مرتد ہوگیاتھا تو اسے توبہ کاموقع دیے بغیر قتل کردیاگیا۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے سن کر فرمایا:

"أفلا حبستموه ثلاثا وأطعمتموه كل يوم رغيفا واستتبتموه لعله يتوب ويراجع أمر الله ثم قال عمر اللهم إني لم أحضر ولم آمر ولم أرض إذ بلغني" 

"تم نے تین دن تک اسے مہلت کیوں نہیں دی؟اسے روزانہ ایک روٹی کھانے کو دیتے اور توبہ کا موقع دیتے تو شاید وہ توبہ کرلیتا،پھر فرمایا:اے اللہ! میں اس موقع پر موجود نہ تھا اور نہ میں نے اس کا حکم دیاتھا،مجھے اب خبر ملی ہے اور میں اس کام پر راضی بھی نہیں ہوں۔"[18]

مرتد کوتوبہ کے لیے مہلت دینے میں حکمت یہ ہے کہ بسا اوقات ارتداد کا سبب کوئی شبہ ہوتاہے جو فوراً زائل نہیں ہوتا،لہذا حقیقت حال واضح ہونے کے لیے ایک مدت درکار ہے۔باقی رہی وجوب قتل کی دلیل تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

"من بدل دينه فاقتلوه"

"جو(مسلمان) اپنا دین بدل دے اسے قتل کردو۔"[19]

(5)۔مرتد کو قتل کرنے کی ذمے داری حاکم یا اس کے نائب پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس کا قتل اللہ تعالیٰ کا حق ہے جو حاکم ہی وصول کرسکتاہے۔

(6)۔مرتد کوقتل کرنا اس لیے ضروری ہے کہ جب اس نے حق کواچھی طرح جان پہچان کرقبول کیا تو اب اس کے ترک کامقصد زمین میں فساد پھیلانا ہے،لہذا اس شخص کا زندہ رہنادرست نہیں۔وہ ایک انسانی معاشرے کا فاسدعضو ہے،لہذا اس کازہر پھیلنے سے قبل ہی الگ کردینا ضروری ہے۔

(7)۔اگر مرتد کلمہ شہادت کا پھر سےاقرار کرلے تو اس کا رجوع ثابت ہوجائے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کافرمان ہے:

"أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لاَ إِلٰهَ إِلاَّ الله. فَمَنْ قَالَ: لاَ إِلٰهَ إِلاَّ الله فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ،

"مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں(کافروں) سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لاالٰہ الاللہ کا اقرار کرلیں،جب انھوں نے لاالٰہ الاللہ کا اقرار کرلیا تو اپنا خون اور مال محفوظ کرلیا سوائے اسلام کے حقوق کے۔"[20]

اگر کسی شخص کے ارتداد کا سبب کلمہ شہادت کے علاوہ کسی ایسے حکم کا انکار ہے جو ضروریات دین میں سے ہے تو اس کی توبہ تب تسلیم ہوگی جب وہ کلمہ شہادت کے ساتھ اس خاص امرکا اقرارکرےگا جس کے انکار سے اسے مرتد قراردیا گیا تھا۔

(8)۔مرتد کے پاس جو مال ہوگا اسے اس کےتصرفات سے روک دیاجائے گا کیونکہ اسکے ساتھ دیگر مسلمانوں کے حقوق متعلق ہیں جیسا کہ مفلس شخص کو مال کے تصرف سے روک دیاجاتاہے(جب اس پر قرضوں کا بوجھ ہو۔)مرتدکے مال سے مسلمانوں کے قرضے ادا کیے جائیں گے۔اسی طرح مرتد ار اس کے اہل وعیال پر اسی کا مال خرچ کیا جائےگا جب تک اسے تصرف سے روکا ہواہے۔اگر مرتد دوبارہ اسلام قبول کرلے تو اس کے مالی تصرف کو بحال کر دیاجائے گا۔اگر وہ حالت ارتدادمیں مرگیا یا اسے سزا کے طورپر قتل کردیاگیا تو اس کا مال"مال فی" قراردے کر بیت المال میں جمع کرلیاجائےگا کیونکہ شرعاً اس کا کوئی وارث نہیں رہا۔فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے:

"لا يرث المسلم الكافر، ولا الكافر المسلم"

"مسلمان کافر کااورکافر مسلمان کاوارث نہ ہوگا۔"[21]

اسی طرح وہ لوگ بھی اس کے وارث نہیں ہوں گے جن کامذہب اس نے اختیار کیا ہے کیونکہ اسے اس کفریہ مذہب پر قائم رہنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

(9)۔جس شخص نے اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کو گالی دی اس کی توبہ قبول ہوگی یا نہیں؟اس کے بارے میں علماء کی دورائے ہیں:

1۔دنیاوی احکام میں اس کارجوع قبول نہ ہوگا بلکہ اسے قتل کرناواجب ہوگا،نہ وہ کسی کاوارث ہوگا اور نہ اس کاکوئی وارث ہوگا کیونکہ اس کے اس قدر بڑے گناہ عقیدے میں فساد اور اللہ تعالیٰ کی ذات کومعمولی سمجھنے کایہ تقاضا ہے کہ بہرحال اسے قتل کردیا جائے۔

2۔اس کا رجوع قبول ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے :

﴿ قُل لِلَّذينَ كَفَروا إِن يَنتَهوا يُغفَر لَهُم ما قَد سَلَفَ ...﴿٣٨﴾... سورةالانفال

"آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہوچکے ہیں سب معاف کردیے جائیں گے۔"[22]

(10)۔جس شخص نے بار بار ارتداد کاارتکاب کیا،کیا اس کارجوع قبول ہوگا یا نہیں؟اس کے بارے میں علمائے کرام کی مختلف آراء ہیں:

1۔بعض کا کہناہے کہ دنیا میں اس کا رجوع قبول نہ ہوگا،لہذا اس کو لازماً مرتد کی سزا دی جائےگی اگرچہ وہ توبہ بھی کرلے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا ثُمَّ كَفَروا ثُمَّ ءامَنوا ثُمَّ كَفَروا ثُمَّ ازدادوا كُفرًا لَم يَكُنِ اللَّهُ لِيَغفِرَ لَهُم وَلا لِيَهدِيَهُم سَبيلًا ﴿١٣٧﴾... سورة النساء

"جن لوگوں نے ایمان قبول کر کے پھر کفر کیا، پھر ایمان لاکر پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھ گئے، اللہ تعالیٰ یقیناً انہیں نہ بخشے گا اور نہ انہیں راه ہدایت سمجھائے گا" [23]

2۔دوسری رائے یہ ہے کہ اس کارجوع قبول ہوگا کیونکہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿ قُل لِلَّذينَ كَفَروا إِن يَنتَهوا يُغفَر لَهُم ما قَد سَلَفَ ...﴿٣٨﴾... سورةالانفال

"آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہوچکے ہیں سب معاف کردیے جائیں گے۔"[24]

آیت کا یہ حکم عام ہے جو اپنے عموم کے اعتبار سے اس شخص کو بھی شامل ہے جو بار بار مرتد ہوتا ہے۔

(11)۔زندیق سے مراد منافق  شخص ہے جو ظاہراً مسلمان ہو لیکن باطن میں کفر چھپائے ہو۔اس کے بارے میں بھی اہل علم کی دورائے ہیں۔

1۔اس کا رجوع قبول نہ ہوگا کیونکہ اس کے الفاظ یا اعمال سے یقینی رجوع ثابت نہیں ہوتا(ممکن ہے جھوٹ موٹ رجوع کررہاہو) ظاہری توبہ کے بعد بھی اس کی وہی کیفیت ہوگی جو پہلے تھی،یعنی اظہار اسلام اور دل میں کفر۔

اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿إِلَّا الَّذينَ تابوا وَأَصلَحوا وَبَيَّنوا ...﴿١٦٠﴾... سورة البقرة

"البتہ جن لوگوں نے(اس کام سے) توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی اور(جوبات چھپائی تھی اس کی) وضاحت کردی۔"[25]

2۔زندیق کا رجوع قبول ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ المُنـٰفِقينَ فِى الدَّركِ الأَسفَلِ مِنَ النّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُم نَصيرًا ﴿١٤٥ إِلَّا الَّذينَ تابوا وَأَصلَحوا وَاعتَصَموا بِاللَّهِ وَأَخلَصوا دينَهُم لِلَّهِ فَأُولـٰئِكَ مَعَ المُؤمِنينَ وَسَوفَ يُؤتِ اللَّهُ المُؤمِنينَ أَجرًا عَظيمًا ﴿١٤٦﴾... سورة النساء

"منافق تو یقیناً جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے، ناممکن ہے کہ تو ان کا کوئی مددگار پالے (145) ہاں جو توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھیں اور خالص اللہ ہی کے لئے دینداری کریں تو یہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں، اللہ تعالیٰ مومنوں کو بہت بڑا اجر دے گا"[26]

 نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے منافقین سے ہاتھ روک کررکھا،یعنی سزا نہ دی کیونکہ انھوں نے اسلام کوظاہری طور پر قبول کیا ہواتھا۔

زندیق لوگوں میں سے حلولیہ،اباحیہ ہیں اور جو اپنے  متبوع کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پر ترجیح دیتے ہیں یاجو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ درجہ معرفت حاصل ہوجانے سے شریعت کے اوامر نواہی ساقط ہوجاتے ہیں یا وہ کہےکہ معرفت حاصل  ہوجانے پر یہود ونصاریٰ کے دین پر عمل کرنا جائز ہوجاتاہے تو ایسے شخص کا بھی یہی حکم ہے۔

(12)۔اہل علم میں اس مسئلے پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی باشعور بچہ جس کا مسلمان ہونا درست ہے ،اسی طرح اس کا مرتد ہونا صحیح ہے کہ نہیں تو ایک قول یہ ہے کہ اس کا ارتداد ثابت ہوگا بشرط یہ کہ ارتداد کے کسی سبب  کامرتکب ہوا ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جس کا اسلام معتبر ہے اس کاارتداد بھی شمار ہے۔لیکن اسے فوری طور پر قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ جب وہ بالغ ہوگا تب اس سے توبہ کامطالبہ کیاجائےگا  اور اس کو تین دن تک مہلت دی جائےگی۔اگر توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائےگی ورنہ قتل کی سزا دی جائے گی۔

(13)۔ایک شخص نماز کی فرضیت کا اقرارکرتاہے لیکن سستی وکوتاہی کی وجہ سے ادا نہیں کرتا تو اس کے بارے میں بھی اہل ایمان کے درمیان اختلاف پایا جاتاہے۔صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ وہ شخص بھی کافرہے کیونکہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے:

"إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلَاةِ"

"مسلمان بندے اور اس کےکفر کےدرمیان حد فاصل ترک نماز ہے۔"[27]

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

"العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر"

"ہمارے اور ان(کفار) کے درمیان عہد،نماز ہے جس نے اسے چھوڑا یقیناً اس نے کفر کیا۔"[28]

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ما سَلَكَكُم فى سَقَرَ ﴿٤٢ قالوا لَم نَكُ مِنَ المُصَلّينَ ﴿٤٣﴾... سورة المدثر

"تمھیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا؟وہ جواب دیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے۔"[29]

نیزفرمان الٰہی ہے:

﴿فَإِن تابوا وَأَقامُوا الصَّلو‌ٰةَ وَءاتَوُا الزَّكو‌ٰةَ فَإِخو‌ٰنُكُم فِى الدّينِ ...﴿١١﴾... سورة التوبة

"اب بھی اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکاۃ دیتے رہیں توتمہارے دینی بھائی ہیں۔"[30]

اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص نماز نہ پڑھے وہ ہمارا بھائی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ"اگر وہ نماز کی فرضیت کااقرار کرلیں"بلکہ یہ فرمایا کہ"نماز قائم کریں۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

"بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ،....."

"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:" گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں اور نماز قائم کرنا۔۔۔"[31]

اس حدیث میں بھی "نماز قائم کرنے" کا ذکر ہوا ہے نماز کے اقرار کرنے کا نہیں۔آج کے اس دور میں نماز کے بارے میں نہایت سستی پائی جاتی ہے جو بہت خطرناک معاملہ ہے۔نماز کے بارے میں سستی کا مظاہرہ کرنے والوں کو توبہ کرنی چاہیے اور خود کو جہنم سے بچانے کے لیے نماز کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے۔نماز دین اسلام کا ایک ستون ہے۔نماز بے حیائی،برائی اورگناہوں سے روکتی ہے۔


[1]۔الحجرات 49/9۔10۔

[2]۔صحیح مسلم الامارۃ باب حکم من فرق امر المسلمین وھو مجتمع حدیث (60)۔1852۔

[3]۔صحیح مسلم الامارۃ باب وجوب الوفاء بیعۃ الخلیفۃ الاول فالاول حدیث 1844 وکتاب السنۃ لابن ابی عاصم ص 519 حدیث 1107 واللفظ لہ۔

[4]۔آل عمران 3/103۔

[5]۔النساء4/59۔

[6]۔سنن ابی داود السنۃ باب فی لزوم السنۃ حدیث 4607 وجامع الترمذی العلم باب ماجاء فی الاخذ بالسنۃ واجتناب البدعۃ حدیث 2676 علامہ البانی  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:  میں نے اس روایت کے تمام طرق دیکھے ہیں لیکن مجھے (وَإِنْ تَأَمَّرَ) کے بجائے(عبدًا حبشيًّا) کے الفاظ ہی ملے ہیں جیسا کہ سنن ابوداود اور جامع ترمذی میں ہے۔

[7]۔مجموع الفتاویٰ 28/390۔

[8]۔الحجرات 9/49۔

[9]۔السنن الکبریٰ للبیہقی 8/174۔175۔

[10]۔منھاج  السنۃ النبویہ 6/116۔117۔

[11]۔المائدۃ 5/21۔

[12]۔صحیح البخاری الجھاد باب لا یعذب بعذاب اللہ،حدیث:3017۔

[13]۔البقرۃ:2/217۔

[14]۔النور 9/65۔66۔

[15]۔النحل 16/106۔

[16]۔النساء:4/48۔

[17]۔ الاحزاب 33/40۔

[18]۔الموطا للامام مالک،الاقضیۃ باب القضاء فیمن ارتد عن الاسلام حدیث 1479۔

[19]۔صحیح البخاری الجھاد باب لا یعذب بعذاب اللہ،حدیث:3017۔

[20]۔صحیح البخاری الاعتصام باب قول اللہ تعالیٰ:(وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ)معلقا وصحیح مسلم الایمان باب الامر بقتال الناس حتی یقولوا:لاالٰہ الااللہ ۔۔۔حدیث:21۔

[21]۔صحیح البخاری الفرائض باب لایرث المسلم الکافر ولا الکافر المسلم۔۔۔حدیث 6764۔ ارتداد سے متعلقہ احکام میں سے ایک یہ ہے کہ مرتد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی،اگرعدت ختم ہونے سے پہلے توبہ کرلے تو اس کی بیوی اسے واپس مل جائے گی اور اگر عدت ختم ہوگئی اور اس نے توبہ نہ کی تو وہ اس سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائےگی اور اس فسخ نکاح کااعتبار اسکے ارتداد کے دن سے ہوگا۔اسی طرح اگر ردت(ارتداد) دخول سے پہلے واقع ہوتوپھر بھی نکاح فسخ ہوگا۔

[22]۔الانفال 8/38۔

[23]۔النساء:4/137۔

[24]۔الانفال 8/38۔

[25]۔البقرۃ:2/160۔

[26]۔النساء:4/145۔146۔

[27]۔سنن ابی داود السنۃ باب فی رد الارجاء حدیث 4678۔

[28]۔سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلوات باب ماجاء فیمن ترک الصلاۃ حدیث 1079۔ومسند احمد 5/346۔

[29]۔المدثر 74/42۔43۔

[30]۔التوبۃ:9/11۔

[31]۔صحیح البخاری الایمان باب دعاء کم ایمانکم حدیث 8 وصحیح مسلم الایمان باب بیان ارکان الاسلام ودعائمہ العظام حدیث 16/17۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل

حدود و تعزیرات کے مسائل:جلد 02: صفحہ446


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)