فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 24267
((22) حد زنا کا بیان
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 30 November 2017 10:37 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حد زنا کا بیان


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

فقہائے کرام نے کہا ہے کہ زنا کی حد لگاتے وقت حکمران یا اس کے نائب کا وہاں موجود ہونا ضروری ہے ۔اسی طرح اہل ایمان کی ایک جماعت کا وہاں حاضر ہونا ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

﴿وَليَشهَد عَذابَهُما طائِفَةٌ مِنَ المُؤمِنينَ ﴿٢﴾... سورة النور

"ان دونوں کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیے۔"[1]

زنا ایک بڑا جرم ہے جس کا گناہ اور قباحت وشناعت بعض صورتوں میں مزید بڑھ جاتی ہے،مثلاً:خاوند والی عورت سے زنا کرنا یا محرم عورت سے زناکرنا یاپڑوسی کی بیوی سے زنا کا ارتکاب کرنا،یہ بڑے قبیح گناہوں میں سے ہے۔

(1)۔زنا بڑے بڑے جرائم اورمعاصی میں شامل ہے کیونکہ اس سے اس نسب کا اختلاط ہوجاتاہے جس کے سبب سے انسان کاتعارف ہوتا ہے اورجائز امور میں دوسروں کی مدد کرتا اور مدد لیتا ہے،نیز اس میں کھیتی اور نسل کی تباہی ہے۔انھی قبیح نتائج کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے زنا کی زبردست سزا مقرر کی ہے اور وہ یہ ہے کہ زنا کرنے والا اگر شادی شدہ ہوتو اسے سنگسار کیا جائے اور اگر وہ کنوارہ ہوتو اسے سو کوڑے مارے جائیں،نیز کنوارے مردکو ایک سال کے لیے جلاوطن بھی کیا جائے گا۔علاوہ ازیں ا س سے ایسے امراض پیدا ہوتے ہیں جو معاشرے کوتباہ کردیتے ہیں۔یہ وجہ ہے کہ شارع  علیہ السلام  نے رک جانے کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

﴿وَلا تَقرَبُوا الزِّنىٰ إِنَّهُ كانَ فـٰحِشَةً وَساءَ سَبيلًا ﴿٣٢﴾... سورة الإسراء

"خبردار! زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے۔"[2]

یہی وجہ ہے کہ اس کی مذکورہ بالا سخت سزا مقرر فرمائی ہے۔

(3)۔فقہائے کرام نے زنا کی تعریف یوں ہےکہ"فرج یاد دبر میں بدکاری کاارتکاب زنا کہلاتا ہے۔"

ابن رشد  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" زنا ہر اس وطی کو کہا جاتا ہے جس میں نکاح یا شبہ نکاح[3] نہ ہو یا ملک یمین(لونڈی) کا تعلق نہ ہو۔اس تعریف پر علمائے کرام کا اتفاق ہے،البتہ اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ کس چیز کو شبہ قرار دےکر حد سےبری کردیا جائے۔"[4]

(4)۔اگرزانی شادی شدہ عاقل وبالغ ہےتواسے سنگسار کیا جائے گا حتیٰ کہ مرجائے،خواہ مرد ہو یا عورت۔خوارج کے علاوہ ہر زمانے  میں تمام علماء کا اس مسئلے میں اتفاق رہاہے۔

(5)۔رجم کی سزارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی کئی ایک احادیث متواترہ سے ثابت ہے جو قولی اورفعلی دونوں قسم کی ہیں۔

(6)۔رجم کاحکم قرآن مجید میں مذکورہ تھا،پھراس کے الفاظ منسوخ ہوگئے اور حکم باقی ہے۔کلمات قرآن یہ تھے:

"الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللهِ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ"

"شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت جب زنا کریں تو ان دونوں کو سنگسار کردو، یہ  اللہ کی طرف سے سزا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔"[5]

(7)۔جب یہ ثابت ہوچکاہے کہ رجم کی آیت قرآن مجید میں موجود تھی،پھر اس کی تلاوت منسوخ ہوگئی لیکن اس کا حکم ابھی باقی ہے،نیز سنت متواترہ اور اجماع سے بھی رجم ثابت ہے تو اب اس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہی،البتہ خوارج کا گروہ اور ان کے موجودہ دور کے ہم خیال مصنفین اپنی خواہشات کے پجاری بن کر رجم کا انکار کررہے ہیں اور دلائل شرعیہ اور اجماع امت کو رد کررہے ہیں۔

(8)۔شادی شدہ شخص جس کو زنا کے ارتکاب کی وجہ سے سنگسار کیا جائے گا،اس سے مراد وہ شادی شدہ ہے جس نے اپنی بیوی سے صحیح،شرعی نکاح کے ساتھ  جماع کیا ہو،اس کی بیوی خوہ مسلمہ ہو یا کتابیہ اور دونوں میاں بیوی عاقل،بالغ اور آزاد ہوں۔اگر ایک شرط بھی نہ ہوئی تو انھیں (میاں بیوی کو محصن) شادی شدہ نہیں کہیں گے۔شرائط درج ذیل ہیں:

1۔وطی فرج  میں  کی گئی ہو۔

2۔شرعی نکاح کے بعد وطی کی گئی ہو۔

3۔دونوں کامل ہوںِ ،یعنی مرد اور عورت دونوں عاقل ،بالغ اور آزاد ہوں۔

(9)۔شادی شدہ کے ساتھ رجم کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ شادی ہوجانے کے بعد اس کو معلوم تھا کہ حرام شرم گاہوں سے کس طرح بچا جاسکتا ہے جبکہ شادی شدہ حرام کے ارتکاب سے مستغنی ہوتا ہے اور اپنے آپ کو زنا کی سزا سے دور  رکھ سکتا ہے ،لہذا جمیع وجوہ سے اس کا عذر جاتا رہا اور بیوی کی صورت میں(اللہ کی نعمت) اس پرکامل ہوچکی ہے تو جس کی نعمت جس قدر عظیم ہوگی اسی قدر اس کاجرم بھی زیادہ گھناؤنا ہوگا تو پھر سزا بھی سخت ہوگی۔

(10)۔اگر زنا کرنے والا غیر شادی شدہ ہوتو اس کی سزا سو کوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿الزّانِيَةُ وَالزّانى فَاجلِدوا كُلَّ و‌ٰحِدٍ مِنهُما مِا۟ئَةَ جَلدَةٍ ... ﴿٢﴾... سورة النور

"زنا کار عورت ومرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔"[6]

توگویا اس کی سزا شادی شدہ آدمی کی سزا(رجم) سے ہلکی ہے کیونکہ اس کے پاس ایک عذر ہے،اس لیے اسے  رجم کرنے کے بجائے تمام بدن پر سو کوڑے مارنے کی سزا دی گئی اور اس سلسلہ میں کوئی رحم اورترس سے کام نہ لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَلا تَأخُذكُم بِهِما رَأفَةٌ فى دينِ اللَّهِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ...﴿٢﴾... سورة النور

"ان دونوں پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمھیں ہر گز ترس نہ کھانا چاہیے اگر تمھیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔"[7]

اس آیت کے مطابق ایمان کا تقاضا ہے کہ دین میں پختگی اور استقامت ہو  اور اس کے احکام کی تنفیذ میں بھر پور کوشش کی جائے۔

(11)۔کنوارے مرد کو سو کوڑے مارنے کے بعد ایک سال کے لیے جلاوطن کردیا جائے۔یہ حکم حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت ہے،چنانچہ ایک حدیث  میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک شخص کو سو کوڑے مارنے کا حکم دیا اور اسے جلاوطن بھی کیا تھا۔سیدنا ابوبکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے بھی زانی کو کوڑے مارے اور اسے جلاوطن کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

"الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ سَنَةٍ"

"کنوارہ مرد اور کنواری عورت زنا کریں تو(ان کی سزا سو) سوکوڑے ہیں اور(مرد پر) ایک سال کی جلاوطنی ہے۔"[8]

(12)۔اگر زنا کرنے والا غلام یا لونڈی ہوتو اسے پچاس کوڑے لگائے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں کے بارے میں فرمایا ہے:

﴿ فَإِذا أُحصِنَّ فَإِن أَتَينَ بِفـٰحِشَةٍ فَعَلَيهِنَّ نِصفُ ما عَلَى المُحصَنـٰتِ مِنَ العَذابِ... ﴿٢٥﴾... سورة النساء

"جب یہ لونڈیاں نکاح میں آجائیں،پھر اگر وہ بے حیائی کا کام کریں تو انھیں آدھی سزا ہے اس سزا سے جوآزاد عورتوں کی ہے۔"[9]

ایسےمعاملات میں غلام اور لونڈی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔قرآن میں جس سزا کا ذکر ہے وہ کوڑوں کی سزا ہے اگرچہ رجم کی سزا بھی قرآن میں مذکور تھی مگر اس کے لفظ منسوخ ہیں اور حکم موجود ہے۔

(13)۔زانی غلام کو جلاوطنی کی سزا نہیں دی جائے گی کیونکہ اس میں اس کے مالک کا نقصان ہے،نیز اس کے بارے میں کوئی شرعی نص بھی وارد نہیں ہوئی،حالانکہ لونڈی کے بارے میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھا گیا تو آپ نےفرمایا:

"إِذَا زَنَتْ ، فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا"

"جب زنا کا ارتکاب کرے تو اسے کوڑے مارو،اگرپھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو۔"[10]

اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جلاوطنی کا تذکرہ نہیں کیا۔

(14)۔وطی یا زنا میں شک وشبہ ہوتو ملزم پر حد لگانا واجب نہ ہوگا کیونکہ فرمان نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

"ادْرَءُوا الْحُدُودَ عَنْ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ"

"(شکوک وشبہات ہوں تو) حسب طاقت مسلمانوں پر حدود جاری نہ کرو۔"[11]

مثلاً:ایک شخص کسی عورت کو اپنی بیوی گمان کرکے صحبت کربیٹھتا ہے یا اس نے کسی ایسے عقد ومعاہدے کے ساتھ وطی کی جسے وہ جائز سمجھتا تھا،حالانکہ وہ ناجائزتھا یا اس نے ایسے نکاح کے بعد وطی کی جو نکاح مختلف فیہ تھا یا کوئی شخص زنا کی حرمت سے ناواقف تھا،مثلاً : وہ نومسلم تھا یا درالاسلام سے دور وہ کسی ایسی بستی میں رہتا تھا جہاں اسے زنا کی حرمت کا علم نہ ہوسکا یا کسی عورت کے ساتھ زبردستی زنا کیاگیا تو اس پر حد نافذ نہ ہوگی۔

ابن منذر  رحمۃ اللہ علیہ    فرماتے ہیں:" ہمارے علم کے مطابق تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ شکوک وشبہات کی موجودگی میں حد جاری نہ ہوگی۔"

یہ شریعت اسلامی کی طرف سے سہولت وآسانی دی گئی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ شبہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ کسی سے جرم سرزد ہونے میں اس کا قصد وارادہ شامل نہ تھا۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

﴿وَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ فيما أَخطَأتُم بِهِ وَلـٰكِن ما تَعَمَّدَت قُلوبُكُم وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا ﴿٥﴾... سورة الاحزاب

"اور اس معاملے میں تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہوجائے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں لیکن تمہارے دل جس بات کا عزم کرلیں(تو وہ گناہ ہے) اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہے۔"[12]

(15)۔کسی شخص پر زنا کی حد قائم کرنے سے قبل ضروری ہے کہ اس کا زناکرنا واضح طور پر ثابت ہو۔یہ ثبوت دو صورتوں میں سے کسی ایک صورت سے حاصل ہوسکتا ہے:

1۔وہ شخص خود ہی چار مرتبہ اقرار واعتراف کرلے جیسا کہ ماعز بن مالک اسلمی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے بارے میں حدیث میں وارد ہے کہ اس نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوکر چار مرتبہ زنا کااعتراف کیا۔اگر یہ اعتراف چار مرتبہ سے کم کافی ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اس پر اسی وقت حد نافذ کردیتے جب اس نے پہلی مرتبہ اعتراف کرلیا تھا۔

صحت اقرار کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ وطی کی حقیقت کو وضاحت سے بیان کرے،اپنے اقرار پر قائم رہے اور اس سے رجوع بھی نہ کرے حتیٰ کہ اس پر حد قائم ہوجائے۔اگر اس نے زنا کرنے کی صحیح صورت اوراس کی حقیقت کو وضاحت سے بیان نہ کیا تو اس پرحد نہ لگے گی کیونکہ ممکن ہے کہ اس کی مراد زنا کے علاوہ کوئی اور حرام فعل ہو جس پر زنا کی حد نہ لگتی ہو،چنانچہ حدیث میں ہے کہ جب ماعز اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے ارتکاب زنا کا اقرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے وضاحت طلب کرتے ہوئے اس سے پوچھا:"تم نے بوسہ لیا ہوگا یا اسے چٹکی بھری ہوگی؟"اس نے کہا:نہیں،ایسا نہیں ہوا۔اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے بار بار واقعے کی وضاحت کی اور اقرار کیا حتیٰ کہ تمام احتمالات ختم ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نےاس پر حد قائم کرنے کا حکم دیا۔[13]

اگر اقرار کرنے والا حد قائم ہونے سے قبل رجوع کرلے تو اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا بار بار وضاحت طلب کرنا شاید اس امر کی طرف اشارہ تھا کہ وہ رجوع کرلے،نیز جب وہ پتھر لگنے کی تکلیف کی وجہ سے بھاگا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ فيتوب الله عليه"

"تم نے اسے کیوں نہ جانے دیا؟شاید وہ توبہ کرلیتا اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا۔"[14]

2۔کسی کے زنا پر چار آدمی گواہی دے دیں تو اس  پرحد جاری ہوجائے گی۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿لَوْلَاجَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ﴾

"وہ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے؟"[15]

اورفرمان الٰہی ہے:

﴿وَالَّذينَ يَرمونَ المُحصَنـٰتِ ثُمَّ لَم يَأتوا بِأَربَعَةِ شُهَداءَ  ... ﴿٤﴾... سورةالنور

"جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں،پھر چار گواہ نہ پیش کریں۔"[16]

نیز فرمان الٰہی ہے:

﴿فَاستَشهِدوا عَلَيهِنَّ أَربَعَةً مِنكُم... ﴿١٥﴾...سورة النساء

"ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو۔"[17]

زنا میں چار آدمیوں کی شہادت اس وقت قبول ہوگی جب درج ذیل شرائط موجود ہوں:

1۔چاروں اشخاص ایک ہی مجلس میں شہادت دیں۔

2۔وہ زانی کے خلاف ایک ہی واقعے پر گواہی دیں۔

3۔وہ واقعہ زنا کو اس طرح بیان کریں کہ کسی شک وشہبے کا احتمال باقی نہ رہے کیونکہ کبھی کسی برے کام کو زنا کی طرح سمجھ لیا جاتا ہے،حالانکہ اس کام پر زنا والی حد نہیں لگتی،اس لیے ضروری ہے کہ وہ وضاحت سے صورت حال بیان کریں تاکہ کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے۔

4۔شہادت دینے والے معتبر ہوں۔اس واقعے پر عورتوں یافاسقوں کی گواہی قبول نہ ہوگی۔

5۔ان چار افراد میں  کوئی ایسا شخص شامل نہ ہو جس کی شہادت قبول ہونے میں کوئی رکاوٹ ہو،مثلاً:کوئی اندھا وغیرہ ہو۔

اگر ان  مذکورہ بالا شرائط میں سے ایک شرط بھی مفقود ہوتو ان سب گواہوں پر حد قذف لگائی جائےگی کہ انھوں نے اس پرتہمت لگائی ہے۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿وَالَّذينَ يَرمونَ المُحصَنـٰتِ ثُمَّ لَم يَأتوا بِأَربَعَةِ شُهَداءَ فَاجلِدوهُم ثَمـٰنينَ جَلدَةً ... ﴿٤﴾... سورةالنور

"جولوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں،پھر چار گواہ نہ پیش کرسکیں  تو انھیں اسی(80) کوڑے لگاؤ۔"[18]

(16)۔مذکورہ بالا شرائط کے مطابق گواہی مل جانے سے یا زانی کے اقرار کرلینے سے زنا کا جرم ثابت ہوجاتاہے،اس پر علماء کا اتفاق ہے،البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ عورت کے حمل کے ظاہر ہونے سے زنا کا ثبوت مل جاتا ہے یا نہیں،مثلاً:ایسی عورت کاحاملہ ہونا جس کا خاوند نہ ہو یا مالک نہ ہو؟بعض علماء کا کہنا ہے کہ ایسی عورت پر حد جاری نہ ہوگی کیونکہ ممکن ہے اس پر جبرہ کراہ ہواہویا کسی شبہے کی بنیاد پر اس سے وطی کی گئی ہو۔بعض علماء کا کہنا ہے کہ ایسی عورت پر حد زنا لگے گی بشرط یہ کہ اس نے شبہے کا دعویٰ نہ کیاہو۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:"یہی مسلک خلفائے راشدین  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا تھا جو اصول شرعیہ سے مطابقت رکھتا ہیے۔اہل مدینہ کامذہب بھی یہی تھا اس لیے کہ کمزور احتمالات قابل اعتنا نہیں ہوتے۔"[19]

ابن قیم  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے ایک ایسی عورت کو رجم کرنے کاحکم دیا جو حاملہ ہوگئی تھی،حالانکہ اس کا کوئی خاوند تھا نہ مالک۔امام مالک  رحمۃ اللہ علیہ   اور امام احمد  رحمۃ اللہ علیہ   کا یہی مسلک ہے جس میں قرینہ ظاہرہ پراعتماد کیا گیا ہے۔"[20]

(17)۔جس طرح زنا ثابت ہونے پر حد جاری ہوگی اسی طرح قوم لوط کا عمل کرنے والے شخص پر بھی حد نافذ ہوگی کیونکہ یہ بھی ایک خبیث اور قبیح جرم ہے اور فطرت سلیمہ کے مخالف ہے۔اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے بارے میں فرمایا:

﴿أَتَأتونَ الفـٰحِشَةَ ما سَبَقَكُم بِها مِن أَحَدٍ مِنَ العـٰلَمينَ ﴿٨٠ إِنَّكُم لَتَأتونَ الرِّجالَ شَهوَةً مِن دونِ النِّساءِ بَل أَنتُم قَومٌ مُسرِفونَ ﴿٨١﴾... سورة الاعراف

"(کیا) تم ایسا فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہاں والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔بے شک تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو بلکہ تم تو حد ہی سے گزر گئے ہو۔"[21]

قوم لوط کے عمل کے حرام ہونے کی دلیل کتاب وسنت اور اجماع سے واضح ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایسافحش اور حرام کام کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا کے کسی فرد نے نہیں کیا تھا۔اس لحاظ سے وہ دنیا میں پوری انسانیت کے برعکس راستے پر گامزن تھے۔نیز اس حرام فعل کے ارتکاب کی وجہ سے انھیں حدودالٰہی سے تجاوز کرنے والے،زیادتی کرنے والے مجرم  قراردیا اوراس قبیح وشنیع عمل کی وجہ سے ان پر ایسا سخت عذاب نازل کیا کہ ویسا عذاب کسی پر نازل نہ ہوا تھا۔انھیں زمین میں دھنسا دیا گیا  اور ان پر پکے پتھروں کی بارش کی گئی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فاعل اور مفعول دونوں پر لعنت کی ہے۔[22]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" درست بات یہی ہے کہ فاعل اور مفعول دونوں کو سزائے موت دی جائے گی۔وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کایہی مسلک تھا۔اس کے بارے میں کسی کااختلاف بھی منقول نہیں،البتہ بعض کاخیال یہ ہے کہ انھیں بستی کی سب سے بلند دیوار پر چڑھا کر دھکا دے کر گرادیا جائے اور پھر انھیں پتھر مار مار کر ختم کردیا جائے۔"[23]

ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" اس لیے کہ اس(عمل ِ قوم لوط کے مرتکب کو قتل کرنے) پر صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا اجماع ہے ،لہذا اسے قتل کرنے پر تو سب متفق ہیں،البتہ قتل کرنے کے طریقے میں اختلاف کرتے ہیں۔"[24]

ابن رجب  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" صحیح یہی ہے کہ اسے قتل کردیا جائے ،شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ کیونکہ اللہ کا ارشاد ہے:

"وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ"

"اور ہم نے ان لوگوں پر کھنگر کے پتھر برسائے۔"[25]

اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" اسے رجم کیا جائے گا وہ کنوارہ ہو یا شادی شدہ۔امام مالک  رحمۃ اللہ علیہ   کا بھی یہی مسلک ہے۔اور امام شافعی  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" اسے قتل کیا جائے کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ"

"اگر تم کسی کو قوم لوط کا عمل کرتا پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردو۔"[26]

(18)۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی فرج کے بجائے دُبر استعمال کرتا ہے تو وہ بھی قوم لوط جیسا کام کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَأتوهُنَّ مِن حَيثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوّ‌ٰبينَ وَيُحِبُّ المُتَطَهِّرينَ ﴿٢٢٢﴾... سورةالبقرة

"تم ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمھیں اجازت دی ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔"[27]

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ   مجاہد  رحمۃ اللہ علیہ   اور دیگر اہل علم فرماتے ہیں کہ آیت میں :

﴿فَأتوهُنَّ مِن حَيثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ...﴿٢٢٢﴾... سورة البقرة

سے مراد"عورت کی فرج ہے ،دبر نہیں۔"جو شخص مقرر حد سے تجاوز کرےگا وہ احکام الٰہی میں زیادتی کرنے والا ہے۔ایسا شخص سزا کے لائق ہے ۔اگر کوئی یہ کام مسلسل کرتا ہے تو اس کی بیوی کو چاہیے کہ وہ ایسے خبیث خاوند کو چھوڑدے کیونکہ اس صورت میں اس کے ساتھ زندگی گزارنا ناجائز اوردرست نہیں۔

حد قذف کا بیان

فقہاء  رحمۃ اللہ علیہ   کے نزدیک قذف سے مراد کسی شخص پر زنا یاعمل قوم لوط کا الزام لگانا ہے جبکہ قذف کے لغوی معنی  ہیں:"قوت کے ساتھ پھینکنا۔"پھر اسی سے یہ لفظ زنا یا عمل قوم لوط کی تہمت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔قذف کا حرام ہونا کتاب اللہ،سنت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  اوراجماع سے ثابت ہے۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

﴿وَالَّذينَ يَرمونَ المُحصَنـٰتِ ثُمَّ لَم يَأتوا بِأَربَعَةِ شُهَداءَ فَاجلِدوهُم ثَمـٰنينَ جَلدَةً وَلا تَقبَلوا لَهُم شَهـٰدَةً أَبَدًا وَأُولـٰئِكَ هُمُ الفـٰسِقونَ ﴿٤﴾... سورة النور "جولوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں،پھر چار گواہ نہ پیش کرسکیں تو انھیں اسی(80) کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو،یہ لوگ فاسق ہیں۔"[28]

 اس آیت میں دنیاوی سزا کا بیان ہے،یعنی اسی کوڑے اور اس کی شہادت کا مسترد کیا جانا،نیز اس کا فاسق،ناقص اورسافل وکمینہ ہونا بشرط یہ کہ وہ اپنا الزام ثابت نہ کرسکے اور جھوٹا ہوباقی رہی اخروی سزا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر یوں فرمایا ہے:

﴿إِنَّ الَّذينَ يَرمونَ المُحصَنـٰتِ الغـٰفِلـٰتِ المُؤمِنـٰتِ لُعِنوا فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَلَهُم عَذابٌ عَظيمٌ ﴿٢٣ يَومَ تَشهَدُ عَلَيهِم أَلسِنَتُهُم وَأَيديهِم وَأَرجُلُهُم بِما كانوا يَعمَلونَ ﴿٢٤ يَومَئِذٍ يُوَفّيهِمُ اللَّهُ دينَهُمُ الحَقَّ وَيَعلَمونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الحَقُّ المُبينُ ﴿٢٥﴾... سورة النور

"جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی باایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وه دنیا وآخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے (23) جب کہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے (24) اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ حق و انصاف کے ساتھ دے گا اور وه جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے (اور وہی)ظاہر کر نے والاہے "[29]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے:

"اجتنبوا السبع الموبقات قالوا يا رسول الله وما هن قال الشرك بالله والسحر وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق وأكل الربا وأكل مال اليتيم والتولي يوم الزحف وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات"

" ان سات کاموں سے بچو جو انسان کو ہلاک اور برباد کرنے والے ہیں۔۔۔(ان میں سے ایک یہ ہے۔)

پاک دامن بھولی بھالی عورتوں پر زنا کاالزام  لگانا۔"[30]

اہل اسلام کا اجماع ہے کہ قذف حرام ہے،نیز انھوں نے اسے کبیرہ گناہوں میں شامل کیا ہے۔

(1)۔اللہ تعالیٰ نے قاذف(تہمت لگانے والے) کے لیے زبردست اور عبرتناک حد مقرر کی ہے،چنانچہ جب عاقل بالغ،بلاجبرواکراہ کسی پاک دامن شخص پر زنا یا قوم لوط کے عمل کاالزام لگادے گا اور وہ اس میں جھوٹا ثابت ہواتواس کے بدن پر اسی کوڑے مارے جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کاارشادہے:

﴿ وَالَّذينَ يَرمونَ المُحصَنـٰتِ ثُمَّ لَم يَأتوا بِأَربَعَةِ شُهَداءَ فَاجلِدوهُم ثَمـٰنينَ جَلدَةً ... ﴿٤﴾... سورة النور

"جولوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں،پھر چار گواہ نہ پیش کرسکیں تو انھیں اسی(80) کوڑے لگاؤ۔"[31]

واضح رہے جس شخص پر الزام لگایا جائے وہ مرد ہو یا عورت دونوں صورتوں میں جرم یکساں ہے۔آیت میں عورتوں کی جو تخصیص کی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آیت جس واقعے کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ عورت پر الزام لگانے سے متعلق تھا،نیز اس لیے کہ عورتوں پرالزام لگانا نہایت قبیح وشنیع فعل ہے۔

(2)۔قاذف۔یعنی الزام لگانے والے کو سخت سزا کا مستحق اسی  لیے قرار دیا گیا تاکہ مسلمانوں کی عزت کو رزیل لوگوں کے ہاتھوں پامال ہونے سے بچایا جاسکے اور زبانوں کو ایسے گندے الفاظ بولنے سے محفوظ رکھا جائے جوپاکباز ،مبرا لوگوں کی بے عزتی کردیتے ہیں،نیز اسلامی معاشرے کو بے حیائی اور بُرائی کے جراثیم کے پھیلنے سے بچایا جاسکے۔

(3)۔حد قذف اس شخص پر جاری اورنافذ ہوگی جو ایسے شخص پر تہمت لگائے جو آزاد،مسلمان ،عاقل،پاک دامن اور بالغ یاقریب البلوغ ہو اور وہ جماع کرسکتا ہو۔

امام ابن رشد  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" اہل علم کااتفاق ہے کہ جس پرتہمت لگائی گئی ہے اس میں پانچ اوصاف جمع ہوں تب الزام لگانے والے پر حد لگائی جائے گی۔بلوغت،آزادی،عفت،اسلام اور وہ جسمانی طور پر جماع کی قدرت رکھتا ہو۔اگر اس میں مذکورہ اوصاف میں سے ایک وصف بھی کم ہو توقاذف پر حد جاری نہ ہوگی۔"[32]

(4)۔"حد قذف" مقذوف(جس پر الزام لگایا گیاہو) کا حق ہے اور وہ معاف کردے تو حد قذف نافذ نہ ہوگی،لہذا"حد قذف" کانفاذ مقذوف کے مطالبے ہی پر ہوگا۔اگر مقذوف قاذف کو معاف کردیتا ہے تو حد جاری نہ ہوگی،البتہ اس کے لیے تعزیر ضرور ہے تاکہ وہ دوبارہ ایسا جرم نہ کرے جو کہ نہ صرف حرام ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نےاس پر اپنی لعنت اور دردناک عذاب کی دھمکی بھی دی ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" قاذف پر حد  اسی وقت لگائی جائے گی جب مقذوف کا مطالبہ ہوگا۔"[33] اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔

(5)۔جس نے کسی غیر حاضر(غائب) شخص پر زنا کاالزام لگادیا تو قاذف پر حد تب نافذ ہوگی جب مقذوف موقع پر موجود ہوگا اور وہ حد قذف لگانے کا مطالبہ کرے گا یا یہ ثابت ہوجائے کہ اس نے اپنی غیر حاضری کے باوجود قاذف کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔

(6)۔قذف کے الفاظ دو قسمیں ہیں:

1۔واضح الفاظ جو صرف قذف ہی پر دلالت کرتے ہیں۔اس میں قاذف سے وضاحت طلب کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی،جیسے کسی کوکہا جائے:"اےزانی! اے قوم لوط کا فعل کرنے والے!

2۔کنایے کے الفاظ جس میں قذف کے علاوہ دوسرے فعل کا بھی امکان ہو۔قاذف اپنے الفاظ کی جو وضاحت کرے گا وہی قبول  ہوگی ،جیسے کسی کو اے طواف! ،فاجرہ عورت! اے خبیث عورت! وغیرہ کہہ کر پکارنا۔ان الفاظ کو استعمال کرنے والے سے وضاحت طلب کی جائے گی۔اگر وہ کہے کہ طوائف سے میری مراد وہ عورت ہے جو نافرمانی کے لیے بناؤ سنگھار کرتی ہے ،فاجرہ سے میری مراد خاوند کی نافرمان ہے اور خبیثہ سے میری مراد بری طبیعت والی ہے تو قاذف کی یہ وضاحت قبول کی جائےگی،محض الفاظ بولنے سے قذف کی حد نہیں لگے گی کیونکہ شکوک وشبہات ہوں تو حد نہیں لگائی جاتی۔

(7)۔اگرکسی نے ایک گروہ پر یا اہل شہر پر زنا کاالزام لگایا تو اس پر حد قذف جاری نہ ہوگی بلکہ اس کےلیے تعزیر ہوگی کیونکہ اس نے قطعاً جھوٹ سے کام لیا ہے۔ایسے ہی غلط الفاظ استعمال کرنے اورغلیظ گالی دینے کی وجہ سے اس پر تعزیر ہوگی اگرچہ مقذوف کامطالبہ نہ بھی ہو کیونکہ یہ معصیت ہے جس میں تادیب لازم ہے۔

(8)۔ جس نے کسی نبی پر زنا کا بہتان لگایا تو اس نے کفر کا ارتکاب کیاکیونکہ اگر وہ مسلمان تھا تو وہ مرتد ہوگیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیویوں پر قذف درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پر قذف ہے۔ایسا قاذف مرتد کے حکم میں ہے۔"

آگے چل کر شیخ موصوف فرماتے ہیں:" اگر قاذف رجوع کرلے اورمعافی مانگ لے اور مقذوف کوابھی خبر نہ ہوتو سوال یہ ہے کہ اس کارجوع قبول ہوگا یا نہیں؟تو اس کاجواب یہ ہے کہ اس معاملے میں مختلف افراد کا حکم مختلف ہے۔اکثریت کی رائے ہے کہ مقذوف کو خبر ہوجائے تو رجوع درست نہیں وگرنہ صحیح ہوگا ،البتہ قاذف مقذوف کے حق میں زیادہ سے زیادہ دعا واستغفار کرے۔"

اس مضمون سے واضح ہواکہ زبان کے بہت خطرات ہیں اور زبان پر جاری ہونےو الے الفاظ قابل مواخذہ ہوتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاہے:

"وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ"

"کئی لوگ اپنی زبانوں پر جاری کیے ہوئے الفاظ کی وجہ سے جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔"[34]

اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے :

﴿ما يَلفِظُ مِن قَولٍ إِلّا لَدَيهِ رَقيبٌ عَتيدٌ ﴿١٨﴾... سورة ق

"(انسان) منہ سے جو لفظ بھی نکالتاہے وہ لکھنے کے لیے اس کے پاس ایک نگران(فرشتہ) تیار ہوتا ہے۔"[35]

انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے،تول کر بولے،سچی اور پکی بات کرے۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقولوا قَولًا سَديدًا ﴿٧٠﴾... سورة الاحزاب

"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی(سچی) باتیں کیاکرو۔"[36]


[1]۔النور 2/24۔

[2]۔بنی اسرائیل 17/32۔

[3]۔مثلاً:اس انداز سے نکاح کیا کہ اس میں لازمی شرائط موجود نہ تھیں یا لا علمی کی وجہ سے اس عورت سے نکاح کرلیاجس سے نکاح کرناجائز نہ تھا۔(صارم)

[4]۔ہدایۃ المجتھد 2/769۔

[5]۔سنن ابن ماجہ الحدود باب الرجم حدیث 2553 البتہ "نَكَالًا مِنَ اللهِ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ" کے لیے دیکھیں:مسند احمد 5/132۔

[6]۔النور2/24۔

[7]۔النور2/24۔

[8]۔صحیح مسلم الحدود باب حد الزنی حدیث 1690 وسنن ابی داودالحدود باب فی الرجم حدیث 4415 وسنن ابن ماجہ الحدود باب حد الزنا حدیث 2550 واللفظ لہ۔

[9]۔النساء 4/25۔

[10]۔صحیح بخاری البیوع باب بیع العبد الزانی حدیث 2153۔

[11]۔(الضعیف) جامع الترمذی الحدود باب ماجاء فی درء الحدود حدیث 1424 وسن ابن ماجہ الحدود باب الستر علی المومن ودفع الحدود بالشبھات حدیث 2545۔

[12]۔الاحزاب 5/33۔

[13]۔صحیح البخاری الحدود ھل یقول الامام للمقر۔۔۔؟حدیث 6824،6825،وصحیح مسلم الحدود باب من اعترف علی نفسہ بالزنی حدیث (16)۔1691۔

[14]۔سنن ابی داود الحدود بابرجم ماعز بن مالک حدیث 4419۔

[15]۔النور 13/24۔

[16]۔النور 4/24۔

[17]۔النساء 4/15۔

[18]۔النور 4/24۔

[19]۔مجموع الفتاویٰ 28/334۔

[20]۔الطرق الحکمیۃ لابن القیم مقدمۃ ص 28۔

[21]۔الاعراف 7/80،81۔

[22]۔جامع الترمذی الحدود باب ماجاء فی حداللوطی حدیث 1456 البتہ حدیث میں قوم لوط والے عمل پر لعنت موقوفاً وارد ہوئی ہے۔

[23]۔مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ 28/334۔335۔

[24]۔المغنی والشرح الکبیر 10/158۔

[25]۔الحجر 15/74۔

[26]۔سنن ابی داود الحدود" باب فيمن عمل عمل قوم لوط"حدیث 4462۔

[27]۔البقرۃ:2/222۔

[28]۔النور 4/24۔

[29]۔النور 24/23۔25۔

[30]۔صحیح البخاری الوصایا باب قول اللہ تعالیٰ:(إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا) (النساء4/10) حدیث:2766۔

[31]۔النور 4/24۔

[32]۔ہدایۃ المجتھد 2/783۔

[33]۔مجموع الفتاویٰ 34/185۔

[34]۔جامع الترمذی الایمان باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ حدیث 2616 ومسند احمد 5/231۔

[35]۔ق 50/18۔

[36]۔الاحزاب 33/70۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل

حدود و تعزیرات کے مسائل:جلد 02: صفحہ414


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)