فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 24266
(21) سر کے زخم اور ہڈی توڑنے کے احکام
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 30 November 2017 10:20 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سر کے زخم اور ہڈی توڑنے کے احکام


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

"شجاج ‘شجة "کی جمع ہے جس کے لغوی معنی کٹنے اور پھٹنے کے ہیں اصطلاحی طور پر سریا چہرے کے ایسے زخم کو کہا جاتا ہے جس سے سرپھٹ جائے یا چہرے کی جلد کٹ جائے۔اگرسر اور چہرے کے سوا کسی اورجگہ زخم ہوتو اسے جُرح کہتے ہیں، شجة نہیں۔اہل عرب کے نزدیک شجة(سر اور چہرے کے زخم) کی دس قسمیں ہیں اور ہر قسم کا ایک خاص نام اور حکیم ہے۔تفصیل درج ذیل ہے:

1۔حارصہ:یعنی ایسا زخم جس سے جلد معمولی طور پر چھل جائے لیکن خون نہ نکلے۔ایسے زخم"قاشره" کو بھی کہتے ہیں۔

2۔بازلہ:ایسا زخم جس سے معمولی سا خون نکل آئے سے دامعہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ زخم آنکھ کے آنسو نکلنے سے مشابہت رکھتا ہے۔

3۔باضعہ:وہ زخم جس سے جلد چھل جائے اور گوشت کٹ جائے۔

4۔متلاحمہ:وہ زخم جو گوشت میں گہرائی تک چلاجائے۔

5۔محاق:وہ زخم جو گوشت میں گہرائی تک چلا جائے حتیٰ کہ ہڈی کے اوپر بنی ہوئی جھلی تک پہنچ جائے۔

مذکورہ پانچ اقسام کے زخموں میں شرعی طور پر دیت کی خاص مقدار مقرر نہیں،لہذا اس میں"حکومہ" ہوگا جسے حاکم اپنے اجتہاد سے مقرر کرے گا۔"[1]

6۔موضحہ:وہ زخم جس سے ہڈی نظر آنے لگے۔اس کی دیت پانچ اونٹ ہے جیسا کہ سیدنا عمرو بن حزم  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی روایت میں فرمان نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے:

" وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ"

"موضحہ زخم میں دیت پانچ اونٹ ہیں۔"[2]

7۔ ہاشمہ: وہ زخم جو نہ صرف ہڈی کو ظاہر کردے بلکہ اسے توڑ دے ۔ایسے زخم کی دیت دس  اونٹ ہے۔سیدنا زید بن ثابت  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے یہی مروی ہے ۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  میں سے کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی تھی۔

8۔منقلہ: جو زخم نہ صرف ہڈی کو ظاہر کردے اور توڑ دے بلکہ اس کی وجہ سے ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ جائے اور اس کے ٹوٹے ہوئے حصوں کو جوڑ کر اور باندھ کرواپس لانا پڑے۔اس قسم کے زخم میں پندرہ اونٹ دیت ہے۔اس کا ذکر بھی حضرت عمرو بن حزم  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی کتاب(خط) میں موجود ہے کہ"منقلہ میں پندرہ اونٹ( دیت) ہیں۔"[3]

9۔مامومہ: وہ زخم جو دماغ کی جھلی تک پہنچ جائے،یعنی اس جھلی تک پہنچ جائے جس میں دماغ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔

10۔دامغہ: وہ زخم جو دماغ کی جھلی کو پھاڑدے۔

ان دونوں زخموں میں ایک تہائی دیت ہے جیسا کہ سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی روایت میں ہے:

"وَفِي المَأْمُومَةِ ثلُث الدِّيَةِ "

"مامومہ زخم میں تہائی دیت ہے۔"[4]

واضح رہے دامغہ،مامومہ سے گہرا زخم  ہوتا ہے،لہذا اس میں بالاولیٰ تہائی دیت ہے۔عام طور پر اس زخم سے انسان زندہ نہیں رہتا،اس لیے اس کی دیت مقرر نہیں کی گئی۔

(1)۔جائفہ ایسا گہرا زخم جو جسم کے اندر کسی خلا تک پہنچ جائے،مثلاً: پیٹ،پشت،سینہ ،حلق اور مثانہ کا خلاء اس میں بھی تہائی دیت ہے کیونکہ سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی روایت میں ہے:

"وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ "

"جائفہ زخم میں تہائی دیت ہے۔"[5]

ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:

"یہ عام اہل علم کاقول ہے،ان میں اہل مدینہ ،اہل کوفہ ،اہل الحدیث اور دیگر بعض اصحاب الرائے بھی شامل ہیں۔"[6]

ہڈی ٹوٹ جانے کی صورت میں دیت کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔اگر کسی نے ایک شخص کی  پسلی کی ہڈی توڑ دی جو علاج کے بعد صحیح طور پر جڑ گئی تو اس میں ایک اونٹ دیت ہے۔اسی طرح ہنسلی کی ہر ہڈی میں دیت ایک ایک اونٹ ہے کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے روایت ہے کہ

"أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَى فِي ...التَّرْقُوَةِ بِجَمَلٍ , وَفِي الضِّلْعِ بِجَمَلٍ" 

انھوں نے ہنسلی کی ہڈی اور پسلی کی ہڈی میں ایک ایک اونٹ دیت کا فیصلہ فرمایا۔"[7]

2۔کلائی کی ہڈی توڑنے کی صورت میں اگر وہ صحیح جڑ جائے تو اس کی دیت دو اونٹ ہے۔کلائی کی ہڈی سے مراد وہ ہے جو ہاتھ سے لے کر کہنی تک ہوتی ہے۔ایسے ہی ران،پنڈلی اور گٹے(ہاتھ یا پاؤں کے جوڑ) کی ہڈی توڑنے میں دواونٹ دیت ہے۔

سیدنا عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ حضرت عمرو بن عاص  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے سیدنا عمر بن خطاب کو لکھا کہ ایک شخص نے کسی کے بازو کی ایک ہڈی توڑدی تواس میں کتنی دیت ہے؟سیدنا عمر بن خطاب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو لکھا کہ ایک شخص نے کسی کے بازو کی ایک ہڈی توڑ دی تو اس میں کتنی دیت ہے؟سیدنا عمر بن خطاب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے جواب دیا کہ اس میں دو اونٹ ہیں۔اور اگر بازو کی دونوں ہڈیاں ٹوٹ جائیں تو اس میں چار اونٹ ہیں۔[8]اس مسئلے میں کسی صحابی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے ان کی مخالفت نہیں کی۔

(2)۔یہ ان زخموں اور ہڈیوں کو توڑنے اور ان کی دیت کا بیان تھا جن کا ذکر شریعت میں وارد ہواہے اورجو اس کے علاوہ ہڈی ٹوٹنے یازخم آنے کی صورتیں ہیں ان میں "حکومہ" ہے،مثلاً:ریڑھ کی ہڈی کے مہرے اور پیڑو(ناف کے نیچے) کی ہڈی میں۔

ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:"درست بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ پسلی،ہنسلی کی ہڈیوں اور بازو کی دونوں ہڈیوں کے سوا دیگر زخموں میں دیت کی تعین نہیں کیونکہ تعین کسی شرعی دلیل سے ثابت ہوتی ہے اور دلیل کا تقاضا ہے کہ ان باطنی ہڈیوں کے زخموں میں"حکومہ" واجب ہو( سوائے پانچ کے) ان میں "حکومہ" اس لیے نہیں ہے کہ ان کی بابت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کافیصلہ موجود ہے ،البتہ ان کے سوا دیگر باطنی زخموں کی تعین زخم کی کیفیت کے مطابق اجتہاد سے کی جائے گی۔"[9]

فقہائے کرام فرماتے ہیں:اگر زخم میں"حکومہ" مقرر ہوا اور وہ زخم اس جگہ ہو جس کی شریعت میں دیت مقرر ہے،جیسے سرکا وہ زخم جس میں ہڈی ظاہر نہ ہوئی ہوتو اس میں فیصلہ کرتے وقت اس کی دیت ہڈی کے ظاہر ہونے والے زخم کی دیت تک نہ پہنچے کیونکہ ہڈی ظاہر ہونے والے زخم میں دیت پانچ اونٹ ہے۔اور جو زخم اس سے کم ہو اس میں دیت بالاولیٰ کم ہونی چاہیے۔

(3)۔اگر مظلوم جنایت کے بعد باکل تندرست ہوگیا کہ علاج کے بعد جنایت نے کوئی کمی پیدا نہ کی تو اس  کی وہ قیمت لگائی جائے گی جو زخم سے خون جاری ہونے کے وقت کی ہوسکتی تھی۔ اس وقت زخمی پر جنایت کا اثر ہوتا ہے اور وہ خوف زدہ  ہوتا ہے ،لہذا اس کیفیت میں اس کی قیمت لازماً کم ہوجائےگی اور اسی کمی کی نسبت سے مجرم سے دیت وصول کی جائے گی۔

کفارہ قتل کا بیان

"كفارة‘كفر سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی"پردہ ڈالنے" کے ہیں تو اس کایہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ گناہ پر پردہ ڈال دیتا ہےاور اسے ڈھانپ لیتا ہے۔کفارہ قتل کے وجوب کی دلیل کتاب اللہ،سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور اجماع اُمت ہے،چنانچہ اللہ تعالیٰ کاارشادہے:

﴿وَما كانَ لِمُؤمِنٍ أَن يَقتُلَ مُؤمِنًا إِلّا خَطَـًٔا وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ إِلّا أَن يَصَّدَّقوا فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَينِ مُتَتابِعَينِ تَوبَةً مِنَ اللَّهِ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا ﴿٩٢ وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾... سورة النساء

"کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں مگر غلطی سے ہو جائے (تو اور بات ہے)، جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وه لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وه مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی (ضروری ہے)، پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئےاور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے (92) اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے"[10]

رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم  نے قاتل سے متعلق فرمایا:

"أَعْتِقُوا عَنْهُ رَقَبَةً يَعْتِقُ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ"

"اس قاتل کی طرف سے غلام یا لونڈی آزاد کرو۔اللہ تعالیٰ مقتول کے ہر عضو کے بدلے قاتل کا ہر عضو آگ سے آزاد کرے گا۔"[11]

(1)۔قتل خطا اور قتل شبہ عمد دونوں میں کفارہ ہے قتل عمد میں کفارہ نہیں۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

﴿وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾... سورة النساء

"اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کررکھا ہے"[12]

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قتل عمد کاکفارہ بیان نہیں کیا۔ایک روایت ہے کہ سوید بن صامت نے ایک شخص کو قتل کردیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس پر قصاص کو واجب قراردیا،کفارہ نہیں۔

عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے دو آدمیوں کو عمداً قتل کردیاتھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کی دیت ادا کی لیکن کفارہ ادا کرنے کاحکم نہیں دیاتھا۔

اس کی غالباً وجہ یہ ہے کہ کفارہ ادا کرنا تب لازم ہوتا ہے جب کوئی کام غلطی سے سرزد ہوتا کہ گناہ مٹ جائے،نیز  اس میں کوتاہی کو دخل ہوتا ہے جس کاازالہ کرنا ہوتا ہے۔قتل عمد اس قدر بڑاگناہ ہے کہ وہ کفارے سے زائل نہیں ہوسکتا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" قتل عمد میں کفارہ نہیں۔اسی طرح جھوٹی قسم عمداً اٹھائی گئی ہوتو جس کسی کے حق پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہو اس میں کفارہ نہیں کیونکہ اس موقع پر دیا گیا کفارہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے والے کے لیے تخفیف کا باعث نہیں بن سکتا۔"[13]

ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:"قتل خطا کو حرام یامباح کے ساتھ متصف قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ وہ مجنون شخص کے قتل کی طرح ہے لیکن مقتول جان معصوم تھی،لہذا اس میں کفارہ واجب قراردیا گیا۔[14]

(2)۔قتل خطا میں کفارے کے مشروع ہونے میں جو حکمت ہے اس میں دو باتیں اہم ہیں:

1۔قتل خطا میں قاتل کی کوتاہی لازماً شامل ہوتی ہے۔

2۔کفارے میں قتل ہونے والی جان کا احترام اور بے گناہی پیش نظر رہے۔

(3)۔قتل عمد میں کفارہ واجب نہیں ہے کیونکہ یہ  گناہ اس قدر بڑا ہے کہ کفارے  سے زائل نہیں ہوسکتا،لہذا ایسا شخص اگر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور معافی کا طلبگار ہو اور خود کو مقتول کے ورثاء کے حوالے کردے تاکہ وہ چاہیں تو اس سے قصاص لے لیں تو اس صورت میں اس کے گناہ میں تخفیف ہوجائے  گی۔توبہ سے اللہ تعالیٰ کا حق ساقط ہو جائے گی قصاص یا معافی سے مقتول کے ورثاء کا حق ادا ہوجائےگا۔باقی رہ گیا مقتول کا حق تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل وکرم سے خوش کردےگا یا وہ قاتل کی نیکیوں کا ایک حصہ مقتول کودےدے گا۔بہرحال جو اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوگی وہی ہوگا۔علامہ ابن قیم  رحمۃ اللہ علیہ   نے الجواب الکافی میں اس کے بارے میں جو کچھ بیان کیا ہے اس کایہی مفہوم ہے۔

(4)۔جس نے کسی ایسی بے گناہ جان کو قتل کیا جو اس کا غلام تھا یا ذمی کافر یاپناہ لینے والا کافر یا نومولود بچہ یا رحم میں موجود بچہ جسے حاملہ کے پیٹ میں ضرب لگا کر ختم کردیا گیا اور پھر عورت نے اسے مردہ جنا۔ان مذکورہ اشخاص میں سے کوئی ایک قتل ہوجائے تو قاتل کے ذمے کفارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان:

﴿وَما كانَ لِمُؤمِنٍ أَن يَقتُلَ مُؤمِنًا إِلّا خَطَـًٔا وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ إِلّا أَن يَصَّدَّقوا فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَينِ مُتَتابِعَينِ تَوبَةً مِنَ اللَّهِ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا ﴿٩٢ وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾... سورة النساء

"کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں مگر غلطی سے ہو جائے (تو اور بات ہے)، جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وه لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وه مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی (ضروری ہے)، پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئےاور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے (92) اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے"[15]  میں عموم ہے۔

(5)۔قتل کرنے والا،خواہ اکیلاہو یا اس کے ساتھ کوئی اور شخص شریک ہو،بلا واسطہ قتل ہو یا بالواسطہ ہو،مثلاً:کسی نے عام راستے میں زیادتی کرتے ہوئے کنواں کھودا تو کوئی شخص اس میں گرکر مرگیا یا راستے میں چھری گاڑدی وغیرہ یا ایسا کوئی کام جس کے نتیجے میں کسی کی جان چلی جائے۔

ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:"ایک قتل میں  جتنے افراد شریک ہوں گے سب پر کفارہ ہے۔یہ قول اہل علم کی اکثریت کا ہے جن میں امام مالک  رحمۃ اللہ علیہ  ،شافعی  رحمۃ اللہ علیہ  ،اور دیگر فقہاء  رحمۃ اللہ علیہ   شامل ہیں۔"[16]

(6)۔قاتل جس قسم کا بھی ہو اس پر کفارہ واجب ہے ،خواہ بڑا ہو یا چھوٹا یا مجنون،آزاد ہو یا غلام کیونکہ آیت کے حکم میں عموم ہے۔

(7)۔کفارے میں ایک مومن غلام یامومنہ لونڈی کو آزاد کرنا ہوتا ہے۔اگر اس کی طاقت نہ ہوتو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا ہے۔اس کفارے میں کھانا کھلانے کی صورت شامل نہیں۔اگرروزے رکھنے کی بھی طاقت نہ ہوتو کفارہ اس کے ذمے ہوگا۔کھانا کھلانے سے کفارہ ادا نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر ہی نہیں کیا۔یادرہے کفارے کی صورتیں نصوص شرعیہ سے ثابت ہوتی ہیں،قیاس سے نہیں۔

(8)۔اگر قتل کرنے والا غلام ہوتو وہ صرف روزے رکھ کر کفارہ دے کیونکہ اس کی ملکیت میں مال نہیں ہوتا کہ وہ کسی غلام کو آزاد کرسکے۔

(9)۔اگر قاتل مجنون یا چھوٹا بچہ ہے تو اس کا سرپرست صرف غلام یا لونڈی آزاد کرنے کی صورت میں کفارہ دے کیونکہ ان دونوں کے لیے روزے رکھنا ممکن نہیں،نیز اس میں نیابت کو بھی دخل نہیں۔الغرض! کفارہ دونوں میں سے ہر فرد پر ہے۔کیونکہ یہ ایک مالی حق ہے جو دیت کے مشابہ ہے ،نیز زکاۃ کی طرح یہ مالی عبادت ہے۔

(10)۔قتل ہونے والے افراد کی تعداد جس قدر زیادہ ہوگی اسی قدر کفارات کی تعداد بھی زیادہ ہوگی جیسا کہ متعدد قتل  میں متعدد دیتیں ادا کرنا پڑتی ہیں،مثلاً:ایک آدمی نے چار افراد کے قتل"قتل خطا" کاارتکاب کیا تو اس پر کفارے بھی چار ہوں گے جس طرح دیتیں چار ہوں گی۔

(11)۔اگر قتل مباح ہو،مثلاً:باغی ،مرتد،شادی شدہ زانی یا کسی کو کسی مقتول کے قصاص یا کسی حد میں قتل کیا گیا یا کسی نے اپنی ذات کے دفاع میں حملہ آور کوقتل کردیا تو ان صورتوں میں کفارہ نہ ہوگا کیونکہ مقتول کی  حرمت قائم نہیں۔

تنبیہ:۔

آج کے دور میں لوگ کفارہ قتل میں تساہل سے کام لیتے ہیں۔خاص طور پر اگر کسی سے گاڑی(کار) کے حادثے میں کئی جانیں ختم ہوجائیں تو وہ مالی تاوان توادا کردیتا ہے لیکن روزے رکھنے کا کفارہ ادا نہیں کرتا۔خاص طور پر جب اس پر ایک سے زیادہ کفارے واجب ہوں۔اس طرح اس پر شرعی ذمے داری اور اللہ تعالیٰ کا حق قائم رہتا ہے۔اسی طرح اور بھی لوگوں میں کمزوریاں ہیں،مثلاً:قاتل کے عصبہ ورثاء"قتل خطا" کی دیت کی ذمے داری قبول نہیں کرتے۔اگر ذمے دار بن جائیں تووہ سمجھتے ہیں  کہ مقتول کے ورثاء کے ساتھ نفلی طور پر تعاون کررہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ قتل خطا کی دیت ادا کرنے کے لیے لوگوں سے مالی تعاون مانگتے ہیں۔یہ صورت انتہائی افسوس ناک ہے کیونکہ اس طرح ایک عظیم شرعی حکم معطل ہوکررہ گیا ہے۔اسی وجہ سے بہت سے لوگ اس مسئلے سے واقف ہی نہیں۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی آدمی اپنے ذمے دیت واجب ہونے کا بہانہ بنا کر خیرات مانگتا رہے،لہذا اسے لوگوں کا مال ناجائز طریقے سے کھانے سے منع کرنا ضروری ہے۔بعض لوگ غیر قانونی اور جعلی کاغذات اٹھائے پھرتے ہیں یا بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ادائیگی ہوجانے کے بعد بھی طویل عرصے تک وہ اسی بہانے مانگتے رہتے ہیں۔

قسامت کے احکام

"قسامه" قسم سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی ہیں:"قسمیں اٹھانا۔"اور یہاں قسامت سے مراد کسی بے گناہ شخص کے قتل کے دعوے میں کسی ایک  فریق سے قسمیں لینا ہے۔جب کوئی شخص قتل ہوجائے اور اس کے قاتل کاعلم نہ ہوسکے اور قتل کاالزام کسی ایک شخص یازیادہ افراد پر لگادیا جائے تو اس صورت میں قسامت مشروع ہے ۔قسامت کی دلیل سنت اور اجماع سے ثابت ہے:

صحیحین میں سہل بن ابی حثمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ   خیبر کی جانب نکلے،یہ صلح کے زمانے کی بات ہے۔ایک جگہ  دونوں الگ ہوگئے،پھر تھوڑی دیر بعد محیصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے عبداللہ بن سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو ایک جگہ خون میں لت پت مقتول پایا،(چنانچہ وہ یہود کے پاس آئے اور کہا کہ اس شخص کو لازماً تمھی نے قتل کیا ہے کیونکہ تمہاری سرزمین میں قتل ہوا ہے۔انھوں نے انکار کیا۔)یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی عدالت میں آیا تو عبدالرحمان بن سہل بات کرنے لگا تو آپ نےفرمایا:" بڑے کو بات کا موقع دیں۔"اوروہ ان سب سے چھوٹا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مقتول کے ورثاء سے فرمایا:" اگر تم قسمیں اٹھا لو تو اپنے ساتھی کے خون کی دیت کے مستحق ہوسکتے ہو۔"(ایک روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:" اپنے دعوے پرگواہ پیش کرسکتے ہو؟"تو انھوں نے کہا: ہمارے پاس گواہ تو نہیں ہیں۔)آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:" تم قسمیں اٹھا لوگے؟" انھوں نے کہا: ہم قسمیں کیسے اٹھائیں کیونکہ نہ ہم وہاں تھے اور نہ ہم نے قتل ہوتے دیکھا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:" یہودیوں کے پچاس افراد قسمیں اٹھا لیں گے تو وہ بری ہوجائیں گے۔"انھوں نے کہا:وہ کافر قوم ہیں ہم ان کی قسموں پر کیسے اعتبار کر لیں ؟تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مقتول کی دیت سو اونٹ بیت المال سے ادا کی۔"[17]

یہ حدیث قسامت کی مشروعیت پر دلیل ہے اور یہ شریعت کا ایک بنیادی ضابطہ ہے اور احکام دین میں ایک مستقل قانون کی حیثیت رکھتی ہے۔

قسامت کی شرائط درج ذیل ہیں:

1۔مقتول شخص اور جس پر قتل کا الزام ہودونوں میں عداوت ودشمنی موجود ہو جیسا کہ بعض قبائل باہمی دشمنی کی وجہ سے ایک دوسرے سے انتقام لیتے ہیں۔اگر ملزم اور مقتول کے درمیان عداوت ہوتو ملزم کے قتل کرنے کا قوی امکان ہوتا ہے،لہذا اس  صورت میں مقتول کے ورثاء اگرچہ موقع پر موجود نہ ہوں غالب گمان کی بنا پر قسمیں اٹھائیں گے کہ ملزم ہی قاتل ہے۔

مقتول کے ورثاء کو چاہیے کہ وہ اس وقت تک قسمیں نہ اٹھائیں جب تک انھیں اپنے دعوے کی سچائی پر گمان غالب نہ ہوا اور حاکم یا قاضی کو چاہیے کہ انھیں آگاہ کرے کہ جھوٹی قسم اٹھانے کی آخرت میں کیا سزا ہے۔

2۔مدعا علیہ عاقل وبالغ ہو،لہذا بچے یا مجنون کے بارے میں دعویٰ قابل تسلیم نہ ہوگا۔

3۔قسامت کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ مدعا علیہ ایسا شخص ہو جس سے قتل کے سرزد ہونے کا امکان ہوورنہ دعویٰ قابل سماعت نہ ہوگا،مثلاً:مدعا علیہ شخص قتل کے وقت جائے وقوع سے بہت زیادہ دور تھا۔

قسامت کا طریقہ درج ذیل ہے:

جب قسامت کی مذکورہ شرائط پوری ہوں تو اولاً مدعی فریق،مدعا علیہ فریق کی موجودگی میں پچاس قسمیں اٹھائیں گے جوان لوگوں پر بقدر وراثت تقسیم ہوں گی اور کہیں گے کہ فلاں شخص ہی نے قتل کیا ہے۔

اگر ورثاء قسمیں اٹھانے سے انکار کردیں یا وہ پچاس قسمیں مکمل نہ کرسکیں تو فریق ثانی(مدعا علیہ) پچاس قسمیں اٹھائیں گے بشرط یہ کہ فریق اول(مدعی) ان کی قسمیں لینے پر رضا مند ہو۔اگر وہ قسمیں اٹھالیں تو بری ہوجائیں گے۔اور اگر مدعی قسمیں لینے پر رضا مند نہ ہوں تو حاکم وقت مقتول کی دیت بیت المال سے ادا کرے گا جیسا کہ انصار نے جب یہودیوں کی قسمیں قبول نہ کیں  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مقتول کی دیت بیت المال سے ادا کی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اب مدعا علیہ پر خون کے اثبات کی کوئی صورت نہیں رہی،لہذا یہ تاوان بیت المال پرپڑے گا تاکہ معصوم جان کا خون رائیگاں نہ جائے۔

(1)۔فقہائے کرام کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ جب قسامت کی تمام شرائط مکمل ہوجائیں ،نیز مقتول کے ورثاء پچاس قسمیں اٹھائیں تو مدعا علیہ سے قصاص لیا جاسکتا ہے یا اسے صرف دیت ادا کرنا ہوگی۔صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اب قصاص کی شرائط پوری ہوچکی ہیں،لہذا قصاص لینا درست ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

"يُقسم خمسون منكم على رجل منهم فيُدفَع إليكم بِرُمَّته"

"تم میں سے پچاس آدمی ان میں سے کسی ایک شخص کے قاتل ہونے کی قسمیں اٹھالیں تو وہ پوری طرح تمہارے حوالے کردیا جائے گا۔"[18]

مسلم میں ہے:"تمہارے سپرد کردیا جائے گا۔"

معلوم ہوا کہ قسامت گواہی کے قائم مقام ہے۔

(2)۔فقہائے کرام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص جمعہ یا طواف کعبہ کے رش میں مرگیا تواس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائےگی،چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا بیان ہے کہ ایک شخص عرفہ کے میدان میں رش کی وجہ سے مرگیا۔اس کے ورثاء سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے پاس آئے اوردیت کا مطالبہ کیا۔آپ نے فرمایا:اس کے قاتل کے خلاف گواہی پیش کرو۔سیدنا علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے کہا:اے امیر المومنین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  !مسلمان کا خون رائیگاں نہیں ہوسکتا۔اگر قاتل کا علم ہوجائے تو ٹھیک ورنہ بیت المال سے دیت ادا کی جائے۔

حدود کے احکام

"حدود" حد کی جمع ہے جس کے لغوی معنی"روکنے" کے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی حدود سے مراد اس کے حرام کردہ وہ امور ہیں جن کے ارتکاب سے اس نے منع کردیا ہے۔اور شرعی اصطلاح میں حدودان مقرر سزاؤں کو کہا جاتا ہے جو خاص امور میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے نتیجے میں دی جاتی ہیں۔ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ ایسا کام نہ کریں۔حدود کی مشروعیت کی دلیل کتاب اللہ ،سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور اجماع سے ثابت ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" حدود الٰہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق پر رحمت اور ارادہ احسان ہے حتیٰ کہ جن لوگوں پر گناہوں کے ارتکاب کے نتیجے میں حدود کانفاذ ہو اس کا مقصد ان کے ساتھ بھلائی اور خیر خواہی ہونا چاہیے۔جس طرح باپ اپنے بیٹے کو اس کی اصلاح اور بہتری کی خاطر سزا دیتا ہے یا ڈاکٹر مریض کی بہتری کے لیے انتہائی کڑوی کسیلی ودائیں اس کے حلق سے نیچے اتارتا ہے یا آلات جراحی کے ذریعے سے اس کے جسم کا آپریشن کرتا ہے۔"[19]

(1)۔حدود کی مشروعیت میں حکمت انسانی نفوس کو جرائم کے ارتکاب سے روکنا ہے اور انھیں پاک وصاف کرناہے۔حد مقرر سزا کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا حق ہے،نیز اس میں معاشرے کی مصلحت  پیش نظر ہے۔اللہ تعالیٰ نے جرائم کے مرتکب افراد کے لیے ایسی سزائیں رکھی ہیں جن کا سلیم طبائع تقاضا کرتی ہیں۔ان کے نفاذ میں  بندوں کی دنیوی اور اخروی مصلحتیں مضمر ہیں ۔کسی بھی ملک کا سیاسی نظام تب تک درست نہیں ہوسکتا جب تک جرائم سے روکنے کے لیے مجرموں کو عبرتناک سزائیں نہ دی جائیں۔حدود کے نفاذ سے مجرم باز آجاتا ہے اور قانون کی پابندی کرنے والا مطمئن ہوجاتا ہے۔زمین میں عدل وانصاف کا بول بالاہوتاہے۔لوگوں کی جانیں ،عزتیں اوراموال محفوظ ہو جاتے ہیں۔

ان خوبیوں کا مشاہدہ ان ممالک اورمعاشروں میں ہوسکتا ہے جہاں حدودالٰہی کانفاذ ہے بلکہ اس کا کوئی کافر شخص بھی انکار نہیں کرسکتا اور جن ممالک یا معاشروں میں شرعی حدود کانفاذ نہیں ہوتا بلکہ وہ اسے وحشی اور ظالمانہ سزائیں تصور کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں ان کی ضرورت بھی نہیں رہی تو وہ ممالک اور معاشرے عدالت الٰہیہ سے محروم ہیں ۔وہ امن وسکون کی دولت سے عاری ہیں۔اگرچہ ان کے پاس جدید اسلحہ اور جدید ٹیکنا لوجی موجود ہے لیکن یہ چیزیں معاشرے میں امن وسکون قائم کرنے کا سبب نہیں ہوسکتیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو نافذ کیا جائے کیونکہ یہی قانون انسانوں کی بھلائی کا ضامن ہے۔

یاد رہے نظام حکومت اسلحہ کے زور سے نہیں چلایا جاسکتا وہ تو اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی حدود کے نفاذہی سے چل سکتا ہے۔دور حاضر میں جدید ترسامان حرب حدود الٰہی کے نفاذ کی خاطر استعمال ہوسکتا ہے بشرط یہ کہ اس کااستعمال درست ہاتھوں سے ہو۔

تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے منحرف لوگ حدود الٰہی کو ظلم ووحشت کا نام دیتے ہیں ،حالانکہ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے۔افسوس ہے کہ یہ لوگ ظالم اور مجرم کے عمل کو وحشت وظلم نہیں کہتے،حالانکہ اسی نے امن وسکون کو برباد کیا تھااور بے گناہوں پر زیادتی کامرتکب ہواتھا۔ لیکن جاہل لوگوں نے ایسے مجرموں اور ظالموں کو عبرتناک  سزادینے کے نظام کو وحشیانہ اور ظالمانہ قراردے دیا۔اصل بات یہ ہے کہ جب عقل ہی الٹ ہوجائے اور فطرت میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو اس کی فکر ونظرایسی ہوجاتی ہے کہ وہ حق کوباطل اورباطل کو حق سمجھنے لگتا ہے جیسا کہ ایک شاعر نے خوب کہا ہے:

قد تُنْكِر العَيْن ضَوء الشَّمْس مِن رَمَدٍ
ويُنْكِر الفَـمُ طَعْمَ الْمَاء مِن سَقَمِ

"اندھی آنکھ سورج کی روشنی کاانکار کردیتی ہے،منہ بیماری  کی وجہ سے پانی کے ذائقے کا انکار کردیتا ہے۔"

(2)۔مجرم شخص پر حدودالٰہی کانفاذ اس وقت تک جائز نہ ہوگا جب تک درج ذیل شرائط موجود نہ ہوں:

1۔جرم کامرتکب شخص عاقل وبالغ ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:

"رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثلاثة: عن الصَّبِى حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ"

"تین قسم کے آدمیوں سے قلم اُٹھا لیا گیا ہے:

1۔سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے۔

2۔بچےسے یہاں تک کہ بڑا(بالغ) ہوجائے۔

3۔اور دیوانے سے یہاں تک کہ عاقل بن جائے۔"[20]

جب یہ لوگ عبادات میں مکلف نہیں تو ان سے حدود الٰہی کا سقوط بالاولیٰ درست ہے کیونکہ شک وشبہے کی بنیاد پر حدود کا نفاذ ختم ہوجاتا ہے۔

2۔مجرم جرم کے حرام ہونے کا علم رکھتا ہو،چنانچہ جو شخص کسی کام کے حرام ہونے کا علم نہ رکھتا ہو اس پر اس کے ارتکاب کی وجہ سے حد نہ لگائی جائے گی۔سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اورعثمان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا قول ہے:

"حد اسی پر نافذ ہوگی جو اس کام کے حرام ہونے کا علم رکھتا ہو۔"[21]

صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  میں سے کوئی بھی اس نقطہ نظر کا مخالف معلوم نہیں۔اسی لیے امام ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں"یہ قول عام اہل علم کا ہے۔"

جب کسی شخص میں دونوں شرطیں موجود ہوں تو جرم کے ارتکاب کے نتیجے میں اس پر حد نافذ ہوگی۔حدود کےنفاذ کا کام مسلمانوں کا امیر یا اس کا نائب سرانجام دے گا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  خود حدود کو نافذ کیاکرتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد خلفائے راشدین  رضوان اللہ عنھم اجمعین  بھی حدود قائم کرتے تھے۔بسا اوقات اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنا نائب بھی مقرر کیا تھا جیسا کہ ایک روایت میں ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا"

"اے انیس! اس شخص کی بیوی کی طرف جاؤ اگر وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلے تو اسے رجم کردینا۔"[22]

ایک اور روایت  میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ماعز اسلمی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو رجم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن وہاں خود نہ گئے۔اسی طرح ایک چور کے بارے میں فرمایا:

"اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ"

"اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو۔"[23]

اس کی غالباً وجہ یہ ہے کہ بسا اوقات حدود کے فیصلے میں اجتہاد کرنا پڑتا ہے ،لہذا کو تاہی کا اندیشہ موجود ہوتا ہے،اس لیے یہ اہم ذمے داری مسلمانوں کے امیر پر ڈال دی گئی یا وہ کسی ایسے معتبر شخص پر ذمے داری ڈال دے جو عدل وانصاف کے تمام تقاضے پورے کرسکے،خواہ وہ اللہ تعالیٰ کے حق سے متعلق حدود ہوں،مثلاً:زنا کسی انسان سے متعلق ہوِں ،مثلاً حد قذف۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:"جن حدود اور حقوق کا تعلق کسی معین قوم کے ساتھ نہ ہو وہ حدود اللہ کہلاتی ہیں،جیسے ڈاکو،چور اور زانی وغیرہ سے متعلق حدود۔اسی طرح مملکت کے اموال،وقف اشیاء وصیتیں وغیرہ جو معین نہ ہوں،ان حدود کی پاسداری مملکت کے اہم امور میں سے ہے،لہذا حاکم کے ذمے ہے کہ ان کی جانچ پڑتال کرتا رہے اور کسی کے دعوے کے بغیر انھین قائم کرے اور کسی کے دعوے کے بغیر ہی ان کی گواہی کا انتظام کرے۔ان حدود کا نفاذ ہر امیر ،غریب،طاقت ور اور کمزور پر کرے۔۔۔"[24]

(3)۔مسجد کے اندر حدود نہ لگائی جائیں بلکہ اس سے باہر ان کانفاذ ہو،چنانچہ حکیم بن حزام  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی روایت میں ہے:

" نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أن يستقاد في المسجد ، وأن تنشد فيه الأشعار ، وأن تقام فيه الحدود"

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے منع کیا ہے کہ مسجد میں قصاص لیا جائے،(ناجائز قسم کے) اشعار پڑھے جائیں اوران میں حدود کا نفاذ ہو۔"[25]

(3)۔جس کسی حد کامعاملہ حاکم کی عدالت میں پہنچ جائے تو اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے سفارش کرنا حرام ہے۔اسی طرح حکمران کے لیے ایسی سفارش قبول کرنا بھی حرام ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

"مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ" "جس شخص کی سفارش حدود الٰہی کے نفاذ میں رکاوٹ بن گئی وہ اللہ تعالیٰ(کھ حکم کی مخالفت کرکے اس) کے مد مقابل کھڑا ہوگیا۔"[26]

ایک شخص نے چور کو معاف کرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"فَهَلاَّ كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ "

"میرے پاس لانے سے پہلے پہلے تو نے اسے معاف کیوں نہ کردیا؟"[27]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" کسی شخص کے لائق نہیں کہ وہ سفارش یاہدیہ وغیرہ کی وجہ سے کسی  حد کو معطل کرے۔اسی طرح اس میں سفارش کرنا بھی جائز نہیں۔جس نے قدرت کے باوجود حد کو معطل کردیا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔"[28]

نیز موصوف فرماتے ہیں:" چور،زانی،شرابی اور ڈاکو وغیرہ سے بیت المال وغیرہ کے لیے مال لے کر حد کو معطل کردینا جائز  نہیں۔ایسا مال حرام اور خبیث ہوتا ہے۔اگر ایسا کام حاکم کرتا ہے تو وہ متعدد خرابیوں کو جمع کررہا ہے۔ایک حد کو معطل کرنا اور دوسرا حرام کھانا اورتیسرا ذمے داری کو پورا نہ کرنا اورچوتھا حرام کا ارتکاب کرنا۔تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ زانی ،چور،شرابی اور اسلامی حکومت کے باغی وغیرہ کو چھوڑنے کی خاطر لیا ہوا مال حرام اورخبیث ہے۔افسوس ہے کہ یہ تمام کام برملا ہورہے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کے امور میں دن بدن بگاڑ پیدا ہورہا ہے اور مسلمانوں کا اجتماعی قدر ووقار گرتا جارہا ہے۔"[29]

جرائم ختم نہیں ہوسکتے،معاشرہ جرائم کی شر اور نحوست سے محفوظ نہیں ہوسکتا مگر اس کی ایک ہی صورت ہے کہ ان لوگوں پر حدود شرعیہ کانفاذ ہوجرائم کاارتکاب کرتے ہیں۔ان سے محض مالی تاوان ،جرمانہ وغیرہ وصول کرلینا یاقید کی سزا دینا ظلم ہے اور معاشرے میں شر وفساد کو بڑھانے کا سبب ہے۔

(2)۔جن جنایات میں حدود کانفاذ واجب ہوتا ہے وہ پانچ ہیں:زنا،چوری،ڈاکہ زنی ،شراب پینا اور کسی بے گناہ پر تہمت زنا لگانا۔ان کے علاوہ دیگر جنایات میں تعزیر ہے۔آگے چل کر ہم ان کی تفصیل بیان کریں گے۔

(3)۔فقہائے کرام نے کہاہے کہ کوڑے مارنے کی سزاؤں میں سے سب سے سخت حد" زنا کی حد" ہے،پھر حد قذف،پھر شراب پینے کی حد،پھر تعزیر ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زنا کی حد میں بہت  تاکیدی کلمات کہے ہیں،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلا تَأخُذكُم بِهِما رَأفَةٌ فى دينِ اللَّهِ ... ﴿٢﴾... سورةالنور

"ان دونوں پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمھیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیے۔"[30]

دوسرے جرائم کی سزا میں اس سےکم کوڑے مقرر ہیں،لہذا زیادہ زور سے مارکر اس سزا میں اضافہ کردینا درست نہیں۔

(4)۔فقہائے کرام نے یہ بھی کہاہے کہ اگر کوئی شخص حد لگنے کے دوران میں مرگیا تواس کا خون رائیگاں ہوگا۔حد لگانے والے پر کچھ بھی واجب نہ ہوگا کیونکہ اس نے شرعی طریقے سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے حکم پر عمل کیا ہے،البتہ اگر حد لگانے والے نے مشروع طریقے سے تجاوز کیا کہ محدود(جس پر حد لگائی گئی ہے) مرگیا تو اسے اس کی دیت ادا کرنا ہوگی کیونکہ اس کی موت زیادتی کے سبب سے ہوئی ہے۔گویا اس نے حد کے علاوہ کسی اور صورت میں اسے قتل کیا ہے۔

امام ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:" ہمارے علم کے مطابق اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں۔"


[1]۔"حکومہ" یہ ہے کہ جس شخص پر جنایت ہوئی ہے اس کو ایک صحیح غلام تصور کرکے قیمت لگائی جائے ،پھر اس کو ایک جنایت والا تصور کرکے(جبکہ جنایت ٹھیک ہوچکی ہو) قیمت لگائی جائے تو جو کمی ہوگی اس کی مثل اس کو دیت دی جائے گی،مثلاً:ایک صحیح غلام کی قیمت دس ہزار روپے ہے اور جنایت والے کی قیمت نو ہزار(9000) ہے تو دیت کاعشر اسے ملے گا۔دیکھئے:المغنی:9/661۔

[2]۔(ضعیف)سنن النسائی القسامۃ ذکر حدیث عمرو بن حزم فی العقول۔۔۔حدیث 4857۔

[3]۔دیکھئے سابقہ حوالہ۔

[4]۔(ضعیف) سنن النسائی القسامۃ ذکر حدیث عمرو بن حزم فی العقول ۔۔۔حدیث 4857۔

[5]۔(ضعیف) سنن النسائی القسامۃ ذکر  حدیث عمرو بن حزم فی العقول۔۔۔حدیث 4857۔

[6]۔المغنی والشرح الکبیر 9/629۔

[7]۔الموطا للامام مالک العقول باب جامع عقل الاسنان حدیث 1654۔اگر پسلی یا ہنسلی کی ہڈی ٹیڑھی جڑ گئی تواس میں حکومہ ہے۔"حکومہ" کی وضاحت پیچھے گزر چکی ہے۔

[8]۔(ضعیف) منارالسبیل،ص 665۔المصنف لابن ابن شیبۃ الدیات باب الزند یکسر 5/436 حدیث 27770 وارواء الغلیل 7/328 حدیث 2292۔

[9]۔ المغنی والشرح الکبیر 9/657۔

[10]۔النساء:4/92۔93۔

[11]۔(الضعیف) سنن ابی داود العتق باب فی ثواب العتق حدیث 3964 والسنن الکبریٰ للنسائی،العتق حدیث 4890۔4892۔

[12]۔النساء:4/93۔

[13]۔مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ 34/139۔

[14]۔المغنی والشرح الکبیر 9/670۔

[15]۔النساء:4/92۔93۔

[16]۔المغنی والشرح الکبیر9/668۔

[17]۔صحیح البخاری الجزیۃ باب الموادعۃ والمصالحۃ مع المشرکین بالمال وغیرہ۔حدیث 3173،6898 وصحیح مسلم کتاب وباب القسامۃ حدیث 1669،والتلخیص الجیر 4/39 واللفظ لہ۔

[18]۔صحیح مسلم کتاب وباب القسامۃ حدیث 1669 والتلخیص الجیر 4/39 واللفظ لہ۔

[19]۔مجموع الفتاویٰ 28/329۔

[20]۔سنن ابی داود الحدود باب فی المجنون یسرق او یصیب حدا حدیث 4401۔وسنن النسائی الطلاق باب من لا یقطع طلاقہ من الازواج حدیث 3462و اللفظ لہ۔

[21]۔(ضعیف) المصنف لعبدالرزاق 7/402۔405 وارواء الغلیل حدیث 2314۔

[22]۔صحیح البخاری الوکالۃ باب الوکالۃ فی الحدود حدیث 2314۔2315۔

[23]۔(ضعیف) السنن الکبریٰ للبیہقی 8/271 ومنار السبیل ص:674۔

[24]۔مجموع الفتاویٰ 14/431۔

[25]۔سنن ابی داود الحدود باب فی اقامۃ الحد فی المسجد،حدیث 4490،ومسند احمد 3/434۔

[26]۔سنن ابی داود القضاء باب فی الرجل یعین علی خصومۃ من غیر ان یعلم امرھا،حدیث 3597۔

[27]۔سنن ابی داود الحدود باب فیمن سرق من حرز حدیث  4394 ومسند احمد 6/466۔

[28]۔السیاسۃ الشرعیہ لابن تیمیہ 1/56۔

[29]۔السیاسۃ الشرعیۃ لابن تیمیہ 1/59۔61۔

[30]۔النور 24/2۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل

قصاص اور جرائم کا بیان:جلد 02: صفحہ403


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)