فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2417
(40) نہ چھوئے قرآن پاک کو مگر پاک والی روایت حسن صحیح ہے
شروع از بتاریخ : 14 February 2013 09:52 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محترم حافظ صاحب آپ نے اپنی تحریر میں فرمایا ہے کہ ’’تو خلاصہ کلام یہ ہے کہ عمرو بن حزم b والی حدیث بطریق سلیمان بن داؤد خولانی حسن صحیح ہے ۔ لہٰذا آپ کا قول … الخ۔
    یہ روایت واقعی ہی حسن ہے ۔ لیکن مزید اس بارے میں کچھ اشکالات ہیں۔ اُمید ہے آپ ضرور مزید توجہ فرمائیں گے اور بہتر حل پیش کریں گے۔ ان شاء اللہ۔
1۔  محمد ابراہیم شقرہ اپنی کتاب لَا یَمَسُّہُ اِلاَّ الْمُطَھَّرُوْنَ  ص:۲۳ میں فرماتے ہیں:
 وجوابنا علی ذلك من وجھین اثنین : الأوّل : ان کلمة طاہر تعنی : المؤمن یدل علی ذلك قوله صلى الله عليه وسلم : إن المؤمن لا ینجس (رواہ البخاری) فیکون المعنی لا یمس المصحف إلا مؤمن والمراد : عدم تمکین المشرك من مسه، فھو کحدیث : نھی عن السفر بالقرآن الی أرض العدوّ ، من غیر ضرورة۔
الثانی: أن النبی ﷺ کان یکتب إلی الملوك الکفار و یضمن کتبه إلیھم ھذہ الآیات من القرآن ولا شك إنھم کانوا یمسون ھذا الکتب أویمسھا من یقرأ لھم من بطانتھم ممن ھم علی مثل دینھم
آخر میں لکھتے ہیں:
لا یمس القرآن إلا طاھر مسلم إلا لحاجة وضرورة فیجوز حینئذٍ لغیر الطاہر المسلم مسه۔ ولا فرق بین أن یکون المسلم جنبا و بین أن یکون غیر جنب وبین أن تکون المرأة حائضا أو نفساء و بین أن تکون غیر ذلك فلا بحظر علیھما مس المصحف فی الحالین لأنھا طاہران غیر نجسین ص:۲۷
مزید فرماتے ہیں:
 لکن الدلیل الصریح ، الصحیح ، الموضع للحق فی ھذہ المسألة ھو مع من یقول بإباحة المس ألاَ وَھو قوله صلى الله عليه وسلم لعائشة۔ حین طمثت فی الحج اصنعی کل ما یصنعه الحاج غیر أن لا تطو فی بالبیت ولا تصلی ، فأباح لھا الرسول صلى الله عليه وسلم کل أنواع القرب والعبادات ما عد الصلاة والطواف بالبیت لان الطواف صلوة غیر أنه اُبیح فیه للطائف أن یتکلم
وبوب الإمام البخاری فی صحیحہ (۱؍۴۰۷) باب تقضی الحائض المناسك کلھا إلا الطواف بالبیت وذکراِحدی روایات الحدیث۔
قد نقل الحافظ ابن حجر فی فتح الباری :۱؍۴۰۷ عن ابن رشید تبعاً لإبن بطال۔ قوله فی مناسبة التبویب: ان مرادہ الاستدلال علی جواز قراءة الحائض والجنب۔ بحدیث عائشہ رضي الله عنها واستحسنہ الحافظ، ص:۲۸،۲۹۔
ص:۴۰ میں فرماتے ہیں:
وذکر البخاری عن ابن عباس أنه لم یر بالقرأة للجنب بأساً۔(مذکورہ تمام حوالے لا یمسہ إلا المطھرون لمحمد ابراہیم شقرہ کے ہیں۔
محترم حافظ صاحب ! آپ نے اپنی تحریر ص:۵،۶ میں شیخ البانی رحمہ اللہ کے حوالے سے بھی عمرو بن حزم رحمہ اللہ والی روایت کی صحت نقل کی ہے ۔ یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ روایت تو ثابت ہے لیکن یہاں لفظ ’’طاہر ‘‘ سے مراد کیا ہے۔ بذات خود شیخ موصوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
 قلت : ھذا الجواب مبنی علی حرمة مس المصحف من الجنب والمصنف لم یذکر دلیلا علیہ ھٰھنا ولکنہ أشار فی ’’فصل : ما یجب لہ الوضوء۔ أن الدلیل ھو قوله صلى الله عليه وسلم «لا یمس القرآن إلا طاهر» مع أنه صرح ھناك بأن لفظة ’’طاہر ‘‘ مشترك یحتمل معانی شتی وأنہ لا بدمن حملہ علی معنی معین من قرینة ثم حمله ھو علی غیر الجنب بغیر قرینة وقد رد دنا علیه ھناك بما فیہ کفایة ، وبینا المراد من الحدیث ھناك، وأنہ لا یدل علی تحریم مس القرآن مطلقاً ، فراجعہ۔
والبراءة الأصلیة مع الذیْن قالو ابجواز مس القرآن من المسلم الجنب ، ولیس فی الباب نقل صحیح یجیز الخروج عنھا۔ فتأمل ، تمام المنة للشیخ الالبانی رحمہ اللہ ص:۱۱۶))
اس کے علاوہ جتنے بھی دلائل فقہ السنہ میں جنبی کے لیے یا حائضہ کے لیے قرآن مجید نہ پڑھنے کے ہیں شیخ موصوف نے اپنی اس کتاب میں ان کارد کیا ہے ۔ (انظر تمام المنۃ ص:۱۱۶ تا ۱۱۹)
اب رہا مسئلہ کہ ’’جنبی طاہر نہیں ہوتا ‘‘ تو «إن المؤمن لا ینجس» کا مفہوم اور کیا ہے ؟والثانی : … کہ نماز پھر کیوں نہیں پڑھ سکتا اس لیے کہ اسے شرعاً نماز سے روکا گیا ہے جیسا کہ اوپر عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا والی روایت میں یہ بات ثابت ہے۔
_______________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسئلے دو ہیں۔1۔جنبی و حائضہ کا قرآن پڑھنا۔ 2۔جنبی و حائضہ کا قرآن مجید کو ہاتھ لگانا اور چھونا۔
پہلے مسئلے میں درست اور صحیح بات یہی ہے کہ جنبی اور حائضہ قرآن پڑھ سکتے ہیں کیونکہ ان کے لیے قرأت قرآن کی ممانعت والی کوئی ایک بھی روایت پایۂ ثبوت تک نہیں پہنچتی ۔
اور دوسرے مسئلے میں صحیح اور درست قول ہے کہ جنبی اور حائضہ قرآن مجید کو ہاتھ نہیں لگا سکتے اور نہ ہی چھو سکتے ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «لا یمس القرآن إلا طاھر » اور معلوم ہے کہ جنبی اور حائضہ طاہر نہیں ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُ‌وا ۚ نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقْرَ‌بُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْ‌نَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْ‌نَ رہا آپ کا اشکال تو اس کا جواب ’’احکام و مسائل ‘‘ میں موجود ہے صفحہ ۹۷اور ۹۸ کا ایک دفعہ پھر سے مطالعہ فرما لیں۔
باقی جو کلام آپ نے شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’تمام المنۃ ‘‘ سے نقل فرمایا ہے تو اس کا جواب انہوں نے خود ہی ’’إرواء الغلیل ‘‘ میں لکھ دیا ہے وہ فرماتے ہیں:
"وعلیه فالنفس تطمئن لصحة ھذا الحدیث لاسیما وقد احتج بہ إمام السنة أحمد بن حنبل کما سبق ، و صححه أیضا صاحبه الإ مام إسحاق بن راھویه، فقد قال إسحاق المروزی فی مسائل الإمام أحمد (ص:۵):
قلت (یعنی لأحمد) : ھل یقرأ الرجل علی غیر وضوء؟ فقال : نعم ، ولکن لایقرأ  فی المصحف ما لم یتوضأ۔ قال إسحاق : کما قال لما صح قول النبی صلى الله عليه وسلم:لا یمس القرآن إلا طاھر۔ وکذلك فعل أصحاب النبی صلى الله عليه وسلم والتابعون (۱؍۱۶۱)      

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)